کوئٹہ(این این آئی)کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک رش اور اس کے مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی،ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ محمد سمیع، ڈائریکٹر بی ٹی ای بی شکیل احمد،ڈی ایس پی ٹریفک سیف اللہ، چیف انجینئر میٹروپولیٹن کارپوریشن اسحاق مینگل،ایس پی ٹریفک صدر سید عاصم علی اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ، بالخصوص اسکولوں کے اوقات کار اور شام کے مصروف وقت میں پیدا ہونے والی مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور شہریوں کو مشکلات سے نجات دلانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کی بنیادی وجوہات کو دور کرنے کے لیے تمام ادارے باہمی رابطے میں رہیں اور ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گورنمنٹ گرلز کالج اور زرغون روڈ پر قائم تعلیمی اداروں کے منتظمین سے مشاورت کی جائے تاکہ چھٹی کے اوقات میں ٹریفک کے دباؤ کو مؤثر انداز میں قابو کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر بھر میں غیر فعال ٹریفک سگنلز کو فوری طور پر فعال کیا جائے جبکہ نئے سگنلز کی تنصیب کا عمل تیز کیا جائے۔ منان چوک اور چائنا چوک پر جلد ٹریفک سگنلز نصب کیے جائیں جبکہ ٹی این ٹی چوک پر سگنل کی تنصیب کا کام جاری ہے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن ہیوی ٹریفک کو پلوں کے استعمال سے روکے تاکہ ٹریفک کی روانی کے ساتھ ساتھ پلوں کے ڈھانچے کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ بند سڑکوں کی بحالی اور جہاں ضرورت ہو وہاں یوٹرنز اور انٹرسیکشنز کی درستگی کے اقدامات بھی تجویز کیے گئے۔ اجلاس میں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں تقریباً 12 ہزار رجسٹرڈ رکشے ہیں، تاہم 20 سے 30 ہزار غیر رجسٹرڈ رکشے بھی سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔ کمشنر نے واضح ہدایت دی کہ بغیر پرمٹ چلنے والے رکشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور صرف رجسٹرڈ رکشوں کو ہی شہر میں اجازت دی جائے۔اسی طرح ٹیکسی اسٹینڈز اور دیگر پارکنگ پوائنٹس کو نو پارکنگ زون قرار دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ سڑکوں پر غیر ضروری رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔ ٹریفک پولیس کو ہدایت کی گئی کہ ان علاقوں کی مؤثر نگرانی کریں۔ایس ایس پی ٹریفک نے اجلاس میں بتایا کہ شہر بھر میں 800 کے قریب ٹریفک اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، تاہم بعض مقامات پر سڑکوں کی غیر متوقع کھدائی اور تعمیراتی کام ٹریفک جام کا باعث بنتے ہیں۔ اس پر کمشنر نے سختی سے ہدایت کی کہ شہر میں کسی بھی قسم کی سڑک کٹنگ یا کھدائی بغیر پیشگی اطلاع کے نہ کی جائے۔کمشنر نے مزید کہا کہ قلیل اور طویل مدتی دونوں منصوبے ٹریفک کے دباؤ میں کمی کے لیے ضروری ہیں۔لہذا قلیل مدتی منصوبوں سڑکوں، سگنلز، پارکنگ اور یوٹرنز کی بہتری کے لیے اقدامات کئے جائیں جبکہ طویل مدتی منصوبوں کے تحت شہر میں نئے انڈر پاس اور فلائی اوورز کی تعمیر کے اقدامات پر بھی کام جاری ہے۔ اجلاس میں مرکزی بازار میں موٹر سائیکل شورومز کے باہر غیر قانونی پارکنگ کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ کمشنر نے ہدایت کی کہ شوروم مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی موٹر سائیکلیں سڑک پر کھڑی نہ کریں کیونکہ یہ بھی ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔اجلاس میں کمشنر کوئٹہ ڈویڑن نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں عملی اقدامات کی رپورٹ اور ٹریفک پلان کی حتمی سفارشات پیش کی جائیں تاکہ شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر اور مؤثر بنایا جا سکے۔

