بلوچستان اور خیبرپختونخوا اس وقت بدترین گورننس بحران کا شکار ہیں، امن و امان تباہ ہوچکا ہے،مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(این این آئی)امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا اس وقت بدترین گورننس بحران کا شکار ہیں، امن و امان تباہ ہوچکا ہے، محکمے مفلوج ہوچکے ہیں اور عوام کی حالتِ زار مایوس کن حد تک پہنچ چکی ہے۔ موجودہ حکومت اپنی دو سالہ کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرے کہ بلوچستان کو کیا دیا گیا، کون سا ترقیاتی منصوبہ فراہم کیا گیا، وفاق میں بلوچستان کے حق میں کون سا مقدمہ لڑا گیا، اور عوامی بہبود کے لیے کون سی عملی کاوشیں کی گئیں؟ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا یہ موقف کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ انتخابی دھاندلی نہیں بلکہ بدانتظامی (بیڈ گورننس) ہے، دراصل ایک فرار کا بہانہ ہے۔ حکومت بتائے کہ اس کی اپنی کارکردگی کیا رہی ہے؟ بدانتظامی کا یہ بحران تو جے یو آئی کے دورِ حکومت کے بعد ہی پروان چڑھا ہے۔ ہمارے دورِ حکومت میں بیڈ گورننس کا یہ تصور موجود نہیں تھا، کیونکہ اس وقت نظام میرٹ، شفافیت، اور عوامی خدمت کے اصولوں پر استوار تھا۔ سوال یہ ہے کہ پچھلے تین ادوار میں یہ بیڈ گورننس کا کلچر کیسے اور کیوں پروان چڑھا؟ اس کے پسِ پردہ عوامل کیا ہیں اور اس کا تدارک کس طرح ممکن ہے؟ ان تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے بات کی جانی چاہیے تاکہ صوبہ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ جے یو آئی نے اپنے سخت موقف اور مسلسل جدوجہد کے بدولت صوبے کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں تاریخی اقدامات کیے، ہمارے دور میں جو صوبائی بجٹ چند ارب روپے کا تھا، وہ آج ایک ہزار ارب روپے تک پہنچانے کا سہرہ جے یو آئی کو ہی جاتا ہے، اور ہمیں اپنی اس کارکردگی پر فخر ہے۔ ہماری ماضی کی حکومت صوبے کی ترقی، استحکام اور عوامی خوشحالی کی ضامن رہی ہے۔ ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے پوری دنیا نے دیکھا کہ جمعیت نے اپنے حقوق کے دفاع میں اقتدار قربان کیا مگر اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹی۔ سی پیک کے معاملے پر ہمارا کردار تاریخ کا سنہری باب ہے جس کی سزا ہمیں آج اقتدار سے محرومی کی صورت میں دی جا رہی ہے، مگر ہمیں اس پر کوئی ندامت نہیں۔ ریکوڈک کے حوالے سے جے یو آئی کی مزاحمت اور اصولی مؤقف نے صوبے کو جو شناخت اور مقام دلایا، وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ موجودہ حکومت اتنی سکت بھی پیدا کرے کہ وہ جے یو آئی کے دور کی نصف کارکردگی بھی عوام کو دکھا سکے۔ آج انہی وسائل کے باوجود حکومت عوامی خدمت کے بجائے سیاسی انتقام، نااہلی، اقرباپروری اور ضد میں مصروف ہے، نتیجتاً صوبہ ایک گہرے سیاسی و انتظامی بحران میں ڈوب چکا ہے۔ دنیا ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہے جبکہ بلوچستان کو جان بوجھ کر پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ جمعیت علماء اسلام وہ واحد جماعت ہے جو نہ صرف عوامی اعتماد اور تائید رکھتی ہے بلکہ صوبے کے وسائل کی امین اور تقدیر بدلنے کی اہلیت و صلاحیت رکھنے والی جماعت ہے، صوبے کو بحرانوں سے نکالنے، امن و ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور عوامی خوشحالی کے نئے باب رقم کرنے کی ضمانت صرف جے یو آئی کے پاس ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں