کوئٹہ (این این آئی) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے پارٹی کے بزرگ رہنماء حاجی صالح بلوچ کے چھوٹے فرزند اور رکن اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ کے بھائی شہید ولید صالح بلوچ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 10 روز گزرنے کے باوجود قاتلوں کا گرفتار نہ ہونا حکومت اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے،انہوں نے کہا کہ ایک ایسے نوجوان جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھاکو شادی سے صرف 10 روز قبل شہید کرنا انسانیت کے خاتمہ،ظلم اور بربریت کی آخری حد ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیکورٹی ادارے قیام امن میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں،قاتلوں،چوروں اور ڈاکوؤں کو مکمل چھوٹ دی گئی ہے وہ جب چاہے کسی کو سرعام قتل اور لوٹ مار کرکے چلے جاتے ہیں جب کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس صرف چیک پوسٹوں پر بھتہ خوری اور لوگوں کو حراساں کرنے میں ملوث ہیں،انہوں نے کہا کہ مسلح افراد پورے صوبہ میں موٹر سائیکلوں پر پھیرتے ہیں لیکن کسی کو روکنا تو دور پو چھنے کی بھی جرات نہیں،شہید ولید کے قاتل بھی سرعام موٹر سائیکلوں پر آئے اور چلے گئے لیکن آج تک ان کا پتہ نہ چلا سکا کہ ان کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا،امن وامان کا 80 ارب کا بجٹ ہے لیکن حالات یہ ہیں کہ کوئی گھر سے بھی نہیں نکل سکتا حکومتی وزرا وارکان نجی محفلوں میں سرعام اعتراف کرتے ہیں کہ حالات قابو سے باہر ہوچکے ہیں انہوں نے کہا کہ شہید ولید کے قاتلوں کو فوری گرفتار نہ کیا گیا تو نیشنل پارٹی ایوانوں اور سڑکوں پر بھرپور احتجاج کرے گی۔

