کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ گلستان میں نصف صدی سے زائد پرانے قبائلی تنازعہ کا پرامن تصفیہ خوش آئند ہے قبائلی تنازعہ کے خاتمے سے علاقے میں ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا،بلوچستان میں آباد پشتون اور بلوچ قبائل کوچاہئے کہ وہ اپنی روایات کے مطابق قبائلی تنازعات کے خاتمے کیلئے کردارادا کریں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ گلستان میں 50سال سے زائد پرانے قبائلی تنازعہ کو بلوچستان کی روایات کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرکے دونوں قبائل کوشیروشکرکردیا گیا ہے تنازعے کے خاتمے پر حاجی حنیف آغا، روف آغا، عبدالروف آغا، حاجی نصرو آغا، صدام آغا، صلاح الدین آغا اوردیگر کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی تنازعے کے حل کیلئے قبائلی رہنماوں سردار احمد خان غیبزئی، ملک شاہ جہان کاکڑ کی کاوشیں قابل ستائش ہیں جنہوں نے دونوں قبائل کوشیر و شکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان قبائلی تنازعات کے باعث ترقی کے لحاظ سے دوسرے صوبوں سے بہت پیچھے ہے جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب ہونی چاہئے وہ کلاشنکوف اٹھائے ہوئے ہیں جو کسی بھی طرح صوبے کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پشتون،بلوچ،ہزارہ،پنجابی،سرائیکی اوردیگر اقوام صدیوں سے بھائیوں کی طرح آباد ہیں ہمیں چاہئے کہ اپنے چھوٹے موٹے قبائلی تنازعات کو صوبے کی قبائلی روایات کے مطابق مل بیٹھ کر حل کریں جس کیلئے بلوچستان امن جرگہ ہرقسم کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن جرگے نے اپنے قیام سے لیکر ابتک درجنوں قبائلی دشمنیوں کا پرامن تصفیہ کرکے قبائل کو آپس میں شیروشکر کیاہے اور آئندہ بھی بلوچستان امن جرگہ میں صوبے میں بھائی چارے کے فروغ اور امن وا مان کی بحالی کیلئے کردارادا کرتا رہے گا کیونکہ کلاشنکوف کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

