لورالائی (میاں محمد عامر بشیر آرائیں ) افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے دی گئی تمام سہولیات اور مہلت کے باوجود بیشتر افغان شہری اب بھی پاکستان چھوڑنے سے گریزاں ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ان مہاجرین نے واپسی کے بجائے مختلف حیلے بہانے، قانونی کمزوریاں اور جعلی دستاویزات استعمال کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ پاکستان میں مزید قیام جاری رکھا جا سکے۔اطلاعات کے مطابق کئی افغان خاندانوں نے مقامی پاکستانیوں کے نام پر شناختی کارڈ اور دیگر کاغذات بنوا رکھے ہیں۔ ان غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث نادرا سمیت متعلقہ اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی دوران، افسوسناک امر یہ ہے کہ کچھ قبائلی رہنما اور بااثر شخصیات ان افغان مہاجرین کے سب سے بڑے حمایتی بن کر سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ قبائلی رہنما نمک حرامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بعض عناصر افغان خاندانوں کو پناہ دے کر سیاسی حمایت یا مالی فائدہ حاصل کر رہے ہیں، جو نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ سکیورٹی خدشات کو بھی جنم دے رہا ہے۔مقامی انتظامیہ کے مطابق افغان مہاجرین کی موجودگی سے امن و امان، روزگار، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ کئی علاقوں میں افغان شہریوں کی آڑ میں منشیات فروشی، غیر قانونی کاروبار اور جرائم کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ماہرینِ امورِ سرحد و سلامتی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں تک افغان بھائیوں کی میزبانی کی، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنے وطن واپس جائیں۔ اگر مہاجرین اسی طرح بہانے بناتے رہے تو حکومت کو مزید سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ادھر عوامی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ان قبائلی رہنماؤں کے خلاف فوری کارروائی کرے جو غیر قانونی افغان باشندوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں تاکہ واپسی کا عمل تیز اور شفاف طریقے سے مکمل کیا جا سکے
Load/Hide Comments

