قادربخش بلوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مہلب۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
کتابوں کی تیز رو بہتی دریاؤں میں ڈبکیاں کھانا اور دریاؤں میں تیراکی کرنا میری زندگی تھی میں اپنی زندگی کے خیالات کو کتابوں کی اوراق میں تلاش کرتا پھرتا لیکن مکمل جواب کہیں نا پا سکا۔ہر روز ایک نئی سوچھ اور نئے خیال کا سامنا ہوتا ھے۔دلوش انہی خیالات میں ڈوبا ہوا تھا۔کہ اچانک ایک دن مہلب سے انکا آمنا سامنا ہوتا ہے جو انکا پڑوسن ھے۔علیک سلیک کے بعد مہلب گویا ہوئی۔کہاں تھے عرصہ ہوا تمہیں نہیں دیکھا؟کیا کرتے ہو اجکل؟
میں خود کو کھو چکا ہوں۔اور خود کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں۔دلوش نے ڈوبتے دل کے ساتھ کہا۔
سناو مہلب تم کیسی ہو۔شادی وادی ہوئی بچے وغیرہ۔۔یہ سننا تھی کہ مہلب بارود کے ڈھیر کی مانند پھٹ پڑی۔شادی میں کیوں کروں۔۔
شادی ہوگی تمہاری۔مجھے مرد زات سے نفرت ھے ۔ ۔دیکھ دلوش میں نے کتنی خواری سے اپنی ڈگری لی۔مجھے روزانہ ان ان منافق اور لالچی مردوں کی انگاروں جیسی نگاہوں کا سامنا تھا۔میں نے محسوس کیا ھے کہ اس سماج میں عورتوں کا جینا کتنا مشکل اور عذاب ھے اگر خاتون کسی غریب کی بیٹی ہو اور حسین بھی ہو۔تو پھر اسکے لئے عذاب ہی عذاب ھے۔مجھے مرد زات شدید نفرت ھے۔یہ منافقوں کا سماج ھے۔۔میری تنخواہ کافی اچھی ھے میری کمپنی کا مالک ایک خاتون ہیں۔میں کافی سیر سپاٹے کرتی ہوں۔۔۔
دلوش ایک سرد آہ بھر کر بولا۔مہلب مجھے میرے خیالات نے نگل لیا ھے۔۔
اگر تم اپنی علم ودانش کے بدولت میرے خیالات کی کھوج لگا سکو۔تو میں تمہارا احسان مند رہوں گا۔۔

