کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے مرکزی ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ 18 نومبر کو کوئٹہ میں منعقد ہونے والا تاجر کنونشن بلوچستان کی تجارتی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا، جو نہ صرف صوبے کے تاجروں کے اتحاد و یکجہتی کی نئی مثال قائم کرے گا بلکہ ملکی سطح پر بھی تاجر برادری کی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کرے گا۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز تاجر وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ کاشف حیدری نے کہا کہ اس کنونشن میں بلوچستان کے تمام اضلاع، مارکیٹ یونینز، تجارتی انجمنوں اور تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ یہ اجتماع اس لحاظ سے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کے ذریعے بلوچستان کے تاجروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی معاشی مشکلات، ٹیکس نظام کی خامیوں، بجلی و گیس بحران، اور کاروباری طبقے پر بڑھتے مالی دباؤ کے خلاف متفقہ لائحہ عمل تیار کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تاجر ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن انہیں ہمیشہ نظرانداز کیا گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کی کاروباری برادری اپنی طاقت، اتحاد اور کردار کو بھرپور انداز میں منوائے۔ یہ کنونشن تاجروں کی نمائندگی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا اور صوبے کی اقتصادی ترقی میں سنگِ بنیاد کی حیثیت رکھے گا۔ کاشف حیدری نے مزید کہا کہ مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان اس تاریخی کنونشن کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے، ضلعی سطح پر رابطہ مہم شروع کر دی گئی ہے اور ہر تاجر تنظیم کو اس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر کنونشن کے ایجنڈے میں ٹیکس اصلاحات، توانائی بحران، مارکیٹ ریگولیشن، اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانے سے متعلق اہم تجاویز شامل ہوں گی۔ یہ اجتماع تاجر برادری کی آواز کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانے کا موثر ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تاجروں کی شمولیت سے یہ کنونشن صوبے کے معاشی مستقبل کے لیے ایک نیا باب رقم کرے گا اور ثابت کرے گا کہ تاجر برادری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے یکجا ہے۔

