امان اللہ کنرانی کی صوبائی بار کونسل کے انتخابات میں کامیاب امیدواروں کو مبارکباد

کوئٹہ(این این آئی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے بلوچستان سمیت ملک بھر میں یکم نومبر کو صوبائی بار کونسلوں کے انتخابات خوشگوار،پْرامن و دوستانہ ماحول میں منعقد ہونے اور جمہوری عمل کو مکمل کرنے کو خوشگوار قرار دیا ہے تاہم اس کے نتائج نے سابقہ بار کونسلوں کی کارکردگی و پالیسوں پر وکلاء کی جانب سے عدم اطمینان سوالیہ نشان لگادیا ہے انتخابی نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ باقی صوبوں کے علاوہ بلوچستان میں صوبائی بار کونسل کے سابق 7 ممبران میں سے صرف ایک راحب بْلیدی نے بھاری اکثریت سے تیسری مرتبہ انتخاب جیت کرہیٹرک مکمل کرلی ہے باقی سب یعنی 6 ممبران وکلاء کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے بلوچستان میں تمام کامیاب اْمیدوار اپنی محنت اور صلاحیت،نئے جذبے و ولولے سے سرشار ہیں مگر اس نئی ٹیم کو راحب خان بْلیدی جیسے آزمودہ و تجربہ گار ساتھی کی رہنمائی و مدد حاصل ہوگی جو پینل کی روایتی سیاست کی بجائے تمام وکلاء کی اجتماعی رہنماء و قیادت کا فریضہ سرانجام دیں گے ہم نے اپنے دور میں 2005 سے 2010 تک اس روایت کو قائم رکھا ہے اور بار کونسل کو اکثریت نہیں اتفاق رائے سے چلانے کی ریت ڈالی ہے جس کے باہمی رواداری کے اندر مثبت اثرات مرتب ہوئے اور یوں بار کی سیاست میں کشیدگی کی بجائے بھائی چارگی کی فضا قائم ہوئی حتی کہ اس باہمی یکجہتی کے طفیل سے بلوچستان میں 2009 میں نئی عدالت عالیہ کی تشکیل میں ھماری رواداری کے نتائج و ثمرات کے نتیجے میں تمام ہائی کورٹ کے جج صاحبان اس وقت کے ممبران بار کونسل میں سے لینے میں عدالت عظمی کو کوئی دْشواری نہیں ہوئی آج بھی انا اور گروہی سیاست کی بجائے بھائی چارگی کو فروغ دیا جائے تو وہی نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں میں اپنی طرف سے ملک بھر کے صو بائی بار کونسلوں کے کامیاب امیدواروں کو بالعموم اور صوبہ بلوچستان کے ساتھیوں کو پینل کی وابستگی سے بالاتر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور انکی کامیابی و اتحاد و اتفاق و ریاست و سیاست و عدالت کے اندر معقول و مہذب و معتدل روئیے اپنانے کی توقع رکھتا ہوں ذاتی و گروہی مفادات کی بجائے اجتماعی مفاد کی تکمیل اور وکلاء کے فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی خواہش رکھتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں