میونسپل کارپوریشن تربت کا فائریگیڈ محدود وسائل کے باوجود فرض شناسی سے آگ بجھانے میں مصروف

تربت (رپورٹر) دن ہو یا رات صبح ہو یا شام میونسپل کارپوریشن تربت کا فائریگیڈ کا عملہ روزانہ آگ بجھانے میں مصروف ہیں پھر تنقید کا نشانہ بھی یہی بنتے ہیں ان کے پاس فائر پروف لباس ہیں نہ شوز اپنی جان پہ کھیل کر آگ بجھاتے ہیں مگر سوشل میڈیا میں یہی لوگ تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔حالانکہ محدود وسائل کے ساتھ یہ بہت کام کرتے ہیں۔اگر آگ لگنے سے پہلے ان کو خبر ہوجائے کہ ایک گھنٹے کے بعد فلاں جگہ آگ لگنے والی ہے تو یقینا پہلے وہ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ مگر محکمہ موسمیات کی طرح آگ لگنے کی ایسا محکمہ بھی نہیں ہے پیشن گوئی۔ان کو اطلاع ملتے ہی نکل جاتے ہیں پہنچ کر آگ کو بجھادیتے ہیں۔ اور یہاں اس طرح کے باشعور عوام بھی نہیں ہیں کہ سائرن کی آواز سنتے ہی وہ راستہ خالی کریں اس طرح سڑک بھی نہیں ہیں۔ ان کے وسائل بھی کم ہیں۔مگر سب سے تنقید کا نشانہ بھی یہ بنتے ہیں۔حالانکہ ان کو آگ بجھانے تمام آلات کی ضرورت ہے جو ان کے لیئے ضروری ہیں اس کے لیئے کوئی کچھ نہیں۔خیر ہر ایک کی اپنی سوچ ہے۔کوئی ایسا نہیں ہے جو تربت میں آگ نہ لگتا ہو۔بجھانے والے یہی اشرف حبیب جالب حسیب اشرف کریم جان ہیں میونسپل کارپوریشن تربت کے میئر و چیف ہیں۔تنقید کا نشانہ بھی یہی لوگ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں