علماء کو صرف منبر و محراب تک محدود کرنے کی خواہش رکھنے والے غلط فہمی کا شکار ہیں، مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء کرام کو صرف منبر و محراب تک محدود کرنے کی خواہش رکھنے والے غلط فہمی کا شکار ہیں علماء کرام امت کے فکری و نظری استاد ہیں محض چند ہزار کے حکومتی وظیفوں کے محتاج نہیں۔ علماء کرام نے ہر دور میں حق گوئی خودداری اور دین کی سربلندی کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دینی طبقات کو معاشی دباؤ یا سیاسی ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ علمائے حق ملت کے اجتماعی ضمیر کی ترجمانی جاری رکھیں گے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دین کو صرف عبادت گاہوں تک محدود کر کے قوم کی فکری سمت بدلی جا سکتی ہے تو یہ محض خام خیالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کسی مفاد یا مراعات کے محتاج نہیں ان کی اصل قوت ایمان علم اور عوامی اعتماد سے آتی ہے منبر و محراب صرف عبادت کے نہیں بلکہ شعور بیداری اور اصلاحِ امت کے مراکز ہیں۔ ضلعی سیکرٹری جنرل سابق صوبائی وزیر صحت حاجی عین اللہ شمس نے مبارک باد دینے والے کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص طبقے کی آسائش کیلئے پارلیمنٹ کا سہارا لیا جارہا ہے۔ عوام کی فلاح وبہبود اور اسلامی ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔ دریں اثناء جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، مرکزی مجلس فقہی پاکستان کے سربراہ مولانا مفتی روزی خان، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، مولانا خورشید احمد، مولانا محمد سلیمان، سید عبدالواحد آغا، عبدالصمد حق یار، مولانا محمد عارف شمشیر مفتی عبد السلام مفتی رضا خان، مولوی عبدالمجید اور دیگر رہنماؤں نے جمعیت علماء اسلام کے رہنما حاجی نورگل خلجی کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے فاتحہ خوانی میں شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں