رشید احمد نعیم
جہاں محبتیں ہوں، وہاں گواہیوں کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ محبت خود اپنی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ وہ خاموش ہوتی ہے مگر بولتی ہے وہ بظاہر ساکت دکھائی دیتی ہے مگر دل کے نہاں خانوں میں سمندر کی طرح شور مچاتی ہے۔ محبت وہ چراغ ہے جو اگر ایک بار کسی دل میں جل اُٹھے تو پھر اُس کی روشنی صدیوں تک بجھنے کا نام نہیں لیتی۔ ایسے مقامات پر لفظوں کا سہارا نہیں لیا جاتا کیونکہ محبت کے احساسات کو لفظوں میں قید کرنا ممکن نہیں۔ جن رشتوں میں محبت کا رنگ سچا ہو، وہاں صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ وہاں دل ایک دوسرے کی دھڑکن سے آشنا ہوتے ہیں۔اعتماد محبت کی جڑ ہے۔ جہاں اعتماد قائم ہو، وہاں بدگمانیاں راہ نہیں پاتیں۔ بدگمانی ایک ایسا زہر ہے جو خاموشی سے رشتوں کی بنیاد کو چاٹ جاتا ہے مگر جہاں اعتماد کا سایہ موجود ہو، وہاں یہ زہر اثر نہیں کرتا۔ انسان جب کسی پر یقین کرتا ہے تو وہ اپنے دل کا سب سے قیمتی خزانہ اُس کے سپرد کرتا ہے۔ اگر یہ یقین سلامت رہے تو ہر رشتہ مضبوطی کی مثال بن جاتا ہے لیکن جہاں اعتماد کا فقدان ہو، وہاں محبت بھی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ بدگمانیاں اُس وقت جنم لیتی ہیں جب انسان اپنے دل کے آئینے کو شک کے دھندلے پردے سے ڈھانپ لیتا ہے اور جب ایسا ہو جائے تو پھر چاہے محبت کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، اُس کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے۔خلوص وہ خوشبو ہے جو انسان کے ہر عمل کو مہکا دیتی ہے۔ جہاں خلوص ہو، وہاں نیتیں شفاف ہوتی ہیں دل مطمئن ہوتے ہیں اور جذبات پاکیزگی کا رُوپ دھار لیتے ہیں۔ خلوص کے بغیر محبت ایک عارضی جذبہ بن جاتی ہے اور رشتے محض دکھاوا مگر جب خلوص شامل حال ہو تو معمولی سے اشارے بھی اُلفت کی گواہی دیتے ہیں۔ خلوص وہ بنیاد ہے جس پر اعتماد کھڑا ہوتا ہے اور اعتماد وہ ستون ہے جس پر محبت کا مکان قائم رہتا ہے۔ جن دلوں میں خلوص کا چراغ روشن ہوتا ہے وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں نہ کہ مشکلات۔ وہ دل دوسروں کی لغزشوں کو معاف کرنا جانتے ہیں وہ عذر تلاش کرتے ہیں، الزام نہیں۔ادب انسان کی روح کا وقار ہے۔ جہاں ادب ہو، وہاں الفاظ بھی محتاط ہوتے ہیں لہجے نرم پڑ جاتے ہیں اور گفتگو میں ایک لطافت پیدا ہو جاتی ہے۔ ادب صرف کتابوں میں نہیں بلکہ انسان کے برتاؤ میں جھلکتا ہے۔ یہ وہ نرمی ہے جو غرور کو پگھلا دیتی ہے وہ خاموشی ہے جو چیخوں سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ اگر محبت دل کا زیور ہے تو ادب اُس کا حسن ہے۔ محبت بغیر ادب کے بغاوت بن جاتی ہے اور ادب بغیر محبت کے ریاکاری۔ جب دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلیں تو رشتے مقدس بن جاتے ہیں۔ ایک باادب انسان کبھی کسی کے دل کو ٹھیس نہیں پہنچاتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ الفاظ کے زخم تلوار کے زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں مگر جب اِن سب نعمتوں محبت، اعتماد، خلوص اور ادب کا وجود رشتوں سے مفقود ہو جائے تو پھر وہاں صفائیاں دینا بے کار ہو جاتا ہے جنہیں سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو، اُن کے سامنے دلیلیں دینا اپنی عزت گھٹانے کے مترادف ہے۔ انسان اگر خود کو درست جانتا ہے تو پھر دوسروں کے الزام اُس کے وقار کو متاثر نہیں کر سکتے کیونکہ سچ وہ شمع ہے جو خواہ کسی اندھیرے میں ہو، اپنی روشنی خود پیدا کرتی ہے۔ ایسے لوگ جو آپ کے خلوص پر شک کریں، آپ کی نیت کو جانچنے بیٹھ جائیں، اُن کے لیے صفائیاں نہیں دی جاتیں۔ اُن سے کنارہ کشی ہی سب سے بڑا جواب ہے۔ کنارہ کشی کا مطلب نفرت نہیں بلکہ اپنی عزت نفس کا تحفظ ہے۔ یہ خاموش احتجاج ہے اُن رویوں کے خلاف جو دل کو زخمی کرتے ہیں۔ بعض اوقات خاموشی چیخوں سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ جب کوئی دل ٹوٹتا ہے تو وہ شور نہیں مچاتا بلکہ خاموش ہو جاتا ہے اور یہی خاموشی ایک ایسی صدا بن جاتی ہے جو وقت کے کانوں میں دیر تک گونجتی رہتی ہے۔ انسان جب دل سے تھک جائے تو اُسے نہ صفائی کی خواہش رہتی ہے نہ وضاحت کی، وہ صرف دور ہو جاتا ہے اتنا دور کہ پھر الزام لگانے والوں کو اپنی آواز بھی اُس تک پہنچتی نہیں۔زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ہر شخص ہمارے جیسا سوچ نہیں سکتا،کچھ لوگ محبت کو کمزوری سمجھتے ہیں اعتماد کو نادانی اور خلوص کو فریب مگر حقیقت یہ ہے کہ جو خلوص بانٹتا ہے وہ کبھی خالی نہیں رہتا۔ اُس کے دل میں ایک سکون بسیرا کر لیتا ہے جو کسی دنیاوی کامیابی سے حاصل نہیں ہوتا۔ محبت کرنے والے لوگ ہمیشہ ہارے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مگر دراصل وہ جیتے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ وہ نفرت کی آگ میں جلنے کے بجائے محبت کی روشنی میں جیتے ہیں۔رشتے جب بے دلی کے سائے میں آ جائیں تو اُن کی سانسیں رکنے لگتی ہیں وہاں لفظ بے معنی ہو جاتے ہیں جذبے بوجھ بن جاتے ہیں اور ملاقاتیں رسمی مگر جو لوگ محبت، اعتماد اور ادب کے رشتوں کو نبھانا جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہر رشتہ ایک عبادت کی طرح ہوتا ہے اِسے وقت، صبراور احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُن کے نزدیک محبت لین دین نہیں بلکہ ایک مسلسل قربانی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلقات کو لفظوں سے نہیں، عمل سے سنوارا جاتا ہے۔زمانے کے اِس شور میں جہاں ہر کوئی خود کو درست سمجھتا ہے وہاں خلوص رکھنے والا انسان اکثر تنہا رہ جاتا ہے مگر تنہائی ہمیشہ سزا نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہ سب سے بڑی راحت بھی بن جاتی ہے۔ جب دل صاف ہو تو تنہائی بھی عبادت لگتی ہے۔ انسان جب اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہوتو دنیا کے طعنے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ سچ کو وقت ثابت کرتا ہے، نہ کہ بحث۔محبت، اعتماد، خلوص اور ادب یہ وہ چار ستون ہیں جن پر انسانیت کھڑی ہے اگر اِن میں سے ایک بھی کمزور ہو جائے تو پوری عمارت ہلنے لگتی ہے جو لوگ اِن اقدار کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ ہی اصل میں روح کے امیر ہوتے ہیں اور جو اِن سے خالی ہوں، وہ چاہے کتنا بھی علم رکھتے ہوں دراصل تہی دست ہیں۔ایسے لوگ جو محبت کو آزمائش بناتے ہیں اعتماد کو شک میں بدل دیتے ہیں اور خلوص کو مفاد کے ترازو میں تولتے ہیں وہ دراصل اپنی انسانیت کھو دیتے ہیں۔ اُن کے لیے صفائیوں کے بجائے خاموشی بہتر ہے کیونکہ خاموشی میں وہ گہرائی ہے جو شور میں نہیں۔ سچے دل والے لوگ بولنے کے بجائے محسوس کرواتے ہیں وہ دلیلوں سے نہیں، اپنے کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ ہر دل محبت کے لائق نہیں، ہر کان سمجھنے کے قابل نہیں اور ہر شخص اعتماد کے قابل نہیں مگر جو لوگ پھر بھی محبت کرتے ہیں اعتماد کرتے ہیں اور خلوص سے جیتے ہیں وہ زمانے کے سب سے حسین انسان ہوتے ہیں۔ وہ روشنی ہیں اُس دنیا میں جو خودغرضی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے اور جب زندگی کے کسی موڑ پر یہ احساس ہو کہ سامنے والا محبت کو سمجھنے کے بجائے اُس پر شک کر رہا ہے اعتماد کے بدلے بدگمانی دے رہا ہے یا خلوص کے بدلے طنز تو وہاں رکنا بے کار ہے۔ وہاں صفائیاں نہیں دی جاتیں وہاں کنارہ کشی اختیار کی جاتی ہے کیونکہ کبھی کبھی خود کو بچا لینا بھی ایک عبادت ہوتی ہے۔ دل کو بچا لینا، اپنی عزت نفس کو محفوظ رکھنا اور خاموشی سے دور ہو جانا یہی وہ عمل ہے جو انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔محبتوں کے جہاں میں گواہیوں کی ضرورت نہیں، اعتماد کے جہاں میں بدگمانیاں نہیں، خلوص کے جہاں میں شک نہیں اور ادب کے جہاں میں زخم نہیں ہوتے۔ یہ وہ جہاں ہے جو دل کے اندر بستا ہے اور جو اُسے پا لیتا ہے وہ دنیا کی سب سے بڑی دولت حاصل کر لیتا ہے ایسے لوگ نایاب ہوتے ہیں مگر وہی انسانیت کے اصل علمبردار ہوتے ہیں۔اُن کے لہجے میں نرمی، نگاہ میں روشنی اور دل میں وہ وسعت ہوتی ہے جو کسی بحرِ محبت سے کم نہیں ہے۔زندگی دراصل انہی خوبصورت احساسات کا نام ہے محبت کا، اعتماد کا، خلوص کا اور ادب کا، اگر یہ موجود ہوں تو انسان جیتا ہے اور سانس لیتا ہے اور اگر یہ سب رشتوں سے رخصت ہو جائیں تو وہاں الفاظ، وضاحتیں اور صفائیاں سب بے معنی ہو جاتے ہیں وہاں صرف پہچان باقی رہتی ہے اور پہچان کے بعد ایک خاموش مگر پُر وقار کنارہ کشی۔یہی زندگی کا حسن ہے کہ ہر تعلق میں سچائی باقی رہے، ہر بات میں نرمی اور ہر رشتے میں احساس،جہاں یہ نہ ہوں، وہاں سکون ممکن نہیں اور جہاں یہ ہوں، وہاں گواہیوں کی ضرورت نہیں ہے۔

