تربت میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان اکیڈمی کی نئی عمارت کا افتتاح کردیا

تربت(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے آج بلوچستان اکیڈمی تربت کی نئی عمارت کا افتتاح کیا۔ یہ عمارت ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے ایم پی اے فنڈ سے منظور کی تھی۔

افتتاحی تقریب میں بلوچستان اکیڈمی تربت کے سابق چئیرمین معروف ادیب و دانش ور پروفیسر غنی پرواز، یوسف گچکی، چیئرمین بلوچستان اکیڈمی تُربَت پروفیسر ڈاکٹر غفور شاد، نیشنل پارٹی کے رہنماؤں واجہ ابوالحسن، کہدہ اکرم دشتی، جسٹس ریٹائرڈ شکیل احمد، میر حمل بلوچ، واجہ بجار بلوچ، مشکور انور، راکب بلوچ، محمد جان دشتی، حفیظ علی بخش، یونس جاوید اور شوکت دشتی سمیت ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ
نیشنل پارٹی ہمیشہ علم و زانت، ایجوکیشن، ہیلتھ، ادب و لٹریچر، کھیل اور اسپورٹس کے فروغ کے لیے عملی کوشش کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ وزارتِ تعلیم میں بلوچستان میں تعلیم کی بہتری اور اصلاحات کے لیے کافی کوششیں کی گئیں، بڑی تعداد میں خصوصاً خواتین کو تعلیم کی جانب راغب کرانے کے لیے فیمیل ایجوکیشن پر توجہ دی گئی اور پہلی بار ضلع کیچ میں بڑی پیمانے پر استانیاں بھرتی کی گئیں جس کے سبب آج ضلع کیچ میں تعلیم کا تناسب 62 فیصد تک پہنچا تھا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مزید کہا کہ وزارت اعلیٰ کے دور میں ہم نے سید ہاشمی اکیڈمی، بلوچستان اکیڈمی سمیت مختلف علمی اداروں کو فنڈ دیے۔ اس سال بھی بلوچستان اکیڈمی تُربَت کے لیے فنڈ منظور کیے گئے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ بلوچستان اکیڈمی کے لیے ایک بڑا ہال تعمیر کیا جائے اس کے لیے ایک الگ اسکیم پر کام جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے فنڈ سے اس سال بلوچی میوزک پروموٹر سوسائٹی کو 50 لاکھ روپے جبکہ اسپورٹس، کیچ تھلیسیمیا کیئر سینٹر اور دیگر اداروں کے لیے تین کروڑ روپے کے فنڈ دیے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اکیڈمی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اکیڈمی جیسے علمی و ادبی ادارے ہمارے فکری تشخص کا سرمایہ ہیں۔ ہم ان کی ترقی و فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے

بلوچستان اکیڈمی تُربَت کے چئیرمین پروفیسر ڈاکٹر ڈاکٹر غفور شاد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان تربت نے ان کے پہلے اور رواں سیشن میں لٹریچر پر کافی کام کیے، مبارک قاضی منصوبہ کے تحت اکیڈمی نے اب تک مبارک قاضی پر دس کتابیں شائع کی ہیں جن میں بلوچی، اردو، انگریزی اور فارسی زبانیں شامل ہیں۔ اکیڈمی نے گزشتہ سیشن میں مجموعی طور پر 23 فکشن کتابیں شائع کیں، نوجوان شعرا کے علاوہ کوہ سلیمان کے شعرا کی کتابیں چھاپیں، عطا شاد فیسٹیول اور مبارک قاضی پر خصوصی پروگرام منعقد کیے۔

انہوں نے بتایا کہ 2023 میں اکیڈمی کے لیے ایک کروڑ روپے کی ریگولر گرانٹ منظور کی گئی تھی لیکن صوبائی حکومت کی طرف سے 2024 میں اس گرانٹ پر 95 فیصد کٹوتی کی گئی جس کے باعث ہمارے بہت سارے پروجیکٹ ادھورے رہ گئے اور کام کرنے کی تلقین فتار شدید متاثر ہوئی ہے۔ پروفیسر غفور شاد نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ گرانٹ کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اکیڈمی تُربَت اپنی نئی پروجیکٹ کے تحت بہت جلد اکبر بارکزئی پر تحقیقی و تنقیدی پروجیکٹ شروع کرے گی جس میں ان کی شاعری، تراجم اور خدمات پر تفصیلی کام کیا جائے گا۔

تقریب کے دوران بلوچستان اکیڈمی تُربَت کے چئیرمین پروفیسر ڈاکٹر غفور شاد نے اکیڈمی کی تحقیقی پروجیکٹ کے تحت نئی چھاپ شدہ کتاب میراث ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نیشنل پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے حوالے کردیں۔

تقریب میں نظامت کے فرائض بلوچستان اکیڈمی تُربَت کے جنرل سیکریٹری افسانہ نگار مقبول ناصر نے انجام دیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں