حکومت نے منشیات روک تھام بارے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے،حاجی ولی محمد نورزئی

کوئٹہ(این این آئی) صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے سوشل ویلفیئر حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے منشیات کے روک تھام کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے،ان کے مطابق حکومت بلوچستان نے تمام ضلعوں میں منشیات کے خلاف کوارڈینیشن کو مستحکم کرنے اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز کے لئے محکمہ صحت سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔جبکہ انسداد منشیات کے خلاف کارروائیوں میں بھی تیزی لانی ہوگی،انکا کہنا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز میں درخواست دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے،جبکہ اسی طرح تعلیمی اداروں میں منشیات کی فراہمی میں ملوث افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی اور ان کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے اقدامات کئے جائیں گے،تاہم تمام متعلقہ اداروں سمیت اینٹی نارکوٹکس فورس کے ساتھ انسداد منشیات کے ضمن میں صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات کے روک تھام کے لئے ہماری مستحکم کوششیں جاری رہیں گی۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ منشیات کے خلاف مہم جاری ہے اور اس معاملے میں زیرو ٹالیرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں،چونکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مختلف اجلاسوں میں منشیات کے خاتمے کے یقینی بنانے کے لئے ہدایات بھی جاری کیے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی نورزئی نے مزید کہا کہ یہ ہماری نئی نسل کی بقا کا سوال ہے،تاہم منشیات کے خلاف تمام اسٹیک ہولڈرز کو بہترین نتائج کے حصول کے لئے متحد ہونا پڑے گا،کیونکہ منشیات کے خلاف کسی بھی قسم کی تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے،اگر منشیات کے خلاف بروقت متحد ہو کر جنگ نہیں کی تو یہ لعنت ہمارے دروازوں پر بھی دستک دے سکتی ہے،حاجی ولی نورزئی نے ہدایت کی کہ بحالی مراکز کو مستقل بنیادوں پر فعال کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں