اوتھل (این این آئی) ہندو محلہ بورکی بجلی منقطع، شہر کی نصف آبادی 4 دن سے پانی سے محروم، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) اور کے الیکٹرک کے درمیان واجبات کی عدم ادائیگی کا مسئلہ تاحال حل نہ ہو سکا، تفصیلات کے مطابق ہندو محلہ بور کی بجلی گزشتہ دنوں واجبات کی عدم ادائیگی پر منقطع کردی گئی تھی جس کے باعث شہر کے وسطی علاقے کی نصف آبادی گزشتہ 4 دن سے بنیادی ضرورت پانی سے محروم ہے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) اور کے الیکٹرک کے درمیان واجبات کی عدم ادائیگی کا مسئلہ تاحال حل نہ ہوسکا۔ بجلی کی بندش کے باعث میں شہر کے وسطی علاقوں جن میں ہندو محلہ، ریوینیو کالونی، کمبار محلہ،موچی محلہ،شیدی محلہ اور دیگر علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں پینے تک کے لیئیپانی دستیاب نہیں۔ جبکہ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ مساجد میں بھی وضو کے لیئے بھی پانی ناپید ہے۔ صاحب استطاعت لوگ پینے کے لیئے منرل واٹر اور مہنگے داموں ٹینکرز کے ذریعے پانی حاصل کر رہے ہیں۔جبکہ متوسط طبقے اور غریب پانی کے لیئے سرگرداں ہیں۔اور پانی کی تلاش میں مرد، عورتیں بچے، بوڑھے کوشاں مگر پانی نایاب۔ زرائع کے مطابق محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ لسبیلہ کے پاس کروڑوں کا بجٹ ہے۔لیکن وہ “کے الیکٹرک” کے واجبات ادا کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔عوامی حلقوں نیڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہندو محلہ واٹر بور کے بجلی کنکشن کی بحالی کے لیئے ذاتی دلچسپی لے کر متاثرہ محلوں اور آبادی میں پانی کی مستقل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیئے فوری اقدامات کرے۔ تاکہ شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی ممکن ہوسکے۔

