قادربخش بلوچ
برٹرینڑ رسل جس کا پورا نام برٹرینڑ ارتھر ولیم رسل تھا۔بیسویں صدی کے کثرت نگار۔گہری بصیرت کے حامل اور متأثر کن دانشور تھے۔انیس سو بیس۔میں رسل نے عام لوگوں کے لیے لکھنا شروع کیا۔اور اگلے پندرہ برسوں کے دوران رسل نے بے مثال شہرت اور عزت کمائی۔رسل نے تعلم اور ساہنس پر بہت زور دیا۔قوموں کی ترقی اور خوشحالی کو رسل علم سے جوڑتا تھا۔۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ یورپ کی ترقی کا راز ہی تعلیم ھے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تیسری دنیا یا ترقی پذیر ممالک مثلا مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیاء۔کیوں تعلیمی میدان میں پیچھے ہیں۔۔معروف امریکی ادیب اور دانشور۔نوم چومسکی۔اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جن ممالک میں تعلیم کی آبیاری نہیں ہو رہی۔در اصل وہاں پالیسی یہی ھے۔جہاں لوگ علم سے بہرور ہیں۔وہاں کبھی فسادات نہیں ہوتے اور نہ کسی کی حق تلفی ہوتا ھے مہزب دنیا میں تعلیم یافتہ لوگ ہمیشہ اپنے ملک کے مفاد میں سوچتے ہیں جبکہ تیسری دنیا کے لوگ صرف اور صرف اپنے مفادات کا سوچتے ہیں۔مشرق وسطی میں عوام کو آسائشیں ضرور میسر ہیں۔لیکن تعلیم یافتہ لوگوں کا فقدان بر قرار ھے۔مملکت ھزاء میں اے روز اسکول۔جامعات ہڑتالوں کی زد میں ہوتی تعلیمی نظام قابل تعریف نہیں ھے۔لیکن بلوچ رہنماؤں میں ڈاکٹر مالک بلوچ وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے۔اسی۔کی دہائی میں علمی شمعیں جلانا شروع کردیں۔80 کی دہائی میں بلوچستان خاص کر مکران میں عجیب کیفیت تھی۔اسکول چند گھنے چنے تھے۔گرلز اسکول تو نا تھے اگر تھے تو دو تین سے زیادہ نہ تھے۔ڈاکٹر مالک نے اپنے پہلے دور میں اتنے اسکول بناے کہ ناقدین کہتے تھے کہ یہ اسکول۔توعالمی بنک۔بنا رہا ھے۔لیکن ناقدین کو یہ سمجھ نا ایا کہ عالمی بنک تو زمانے سے ھے۔گو مالک نے ۔رسل۔کے خیالات کو عملی جامعہ پہنانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوا۔تربت میں جتنی سڑکیں بنیں امارات بنے یہ سارے کے سارے مالکی کارنامے ہیں۔۔جان محمد بلیدی جو نیشنل پارٹی کا سنیٹر ھے۔اپنی ساری زندگی بلوچ اور بلوچستان کے عوام کی خوشحالی کے لئے وقف کر دی ھے جان بلیدی صاحب ایک معاملہ فہم اور ادراک رکھنے والے سیاستدان ہیں۔ایوان بالا میں جان بلیدی صاحب جس انداز میں بلوچستان کا مسئلہ پیش کرتے ہیں۔باقی صوبوں کے ارباب اختیار بلیدی صاحب کے افکاروں کو سراہتے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ھے کہ جان ایک مخلص اور عوام دوست مدبر رہنما ہیں۔بلیدی صاحب نے بارہا ارباب اختیار کو بلوچستان کے گھمبیر مسائل کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔در اصل یہی ایک کامیاب سیاستدان کی کامیابی کی ضمانت ھے

