قادربخش بلوچ
دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچی ھے ستر کے عشرے تک خبروں کی ترسیل کا جلد سے جلد ترین وسیلہ۔ٹیلکس۔ہوتا تھا جو ہر جگہ دستیاب نہ تھا۔عام معلومات کا ذریعہ ۔اخبارات۔تھے۔گزرے چوبیس گھنٹوں کی خبروں کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ اخبارات تھے۔جو ہر جگہ دستیاب نہ تھے۔۔عقل و دانش نے کروٹ بدلی دنیا سکھڑ کر ہر کس وناکس کے جیب میں بند ہوگئی۔اخبارات کی خبریں باسی شمار ہونے لگیں۔ہر ان اور ہر لمحہ جس ملک کی معلومات درکار ہوں۔یا دنیا کے کسی بھی سربراہ نے کیا کہا۔ٹویٹر۔پر کلک۔کرکے پوری معلومات مل سکتی ہیں۔۔یہ ایک نئی جہان ھے۔جیسے کہ شاعر نے کہا تھا۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔
لیکن اس جدید ترین جہان میں کیسے رہنا یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔منڈیلا نے ایسی دنیا نہیں دیکھا تھا اور نہ لنکن نے۔۔لیکن منڈیلا اور لنکن نے تاریخ رقم کی۔ایک نے جان دے کر تاریخ رقم کی اور ایک نے جوانی دے کر۔۔ایک مرتبہ ۔ویٹ نام۔کے انقلابی۔فلسطین گئے۔تو وہ جب فلسطینی انقلابیوں سے ملے۔تو وہ دنگ رہ گئے بلکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ششدہ رہ گئے۔حیران ہو گئے۔کیوں کہ انہیں یقین نہیں ا رہا تھا کہ وہ فلسطینی انقلابیوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔۔کیا فرق تھا؟؟فرق صرف یہ تھا۔کہ ویٹ نام۔کے انقلابی معمولی پیراہن میں تھے لیکن فلسطینی۔اعلی لباس ۔اور ان کے عالیشان مکان جدید ترین فرانسیسی فرنیچر سے مزیں تھے۔ملاقات مختصر رہی اور یہ واپس ویت نام اے۔جو بیان دیا۔وہ پڑھنے کے قابل ھے۔کوئی پڑھنا چاے۔۔
تو آزادی پسند قافلے کا ہمسفر۔۔نوم چومسکی۔
بلوچستان کی تاریخ خوبصورت نہیں ھے۔ہم سچی بات نہیں کہتے۔ہم ہمیشہ دوسروں کو قصور وار اور خود کو بے قصور گردانتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ۔بلوچستان میں مکران کے علاوہ پورے بلوچستان میں کہیں بھی عوامی سیاست بلکل نہیں ھے۔لیکن مکران میں جتنے بھی لوگ بر سر اقتدار ہیں جو برسوں سے ہیں۔یہ سارے اچھے ہیں۔یہ اپس کے سیاسی اختلافات بھلا کر اپس میں شیر وشکر ہو جاہیں۔اپنی وطن کی بھلائی کے لیے سوچھیں۔مکران جنت بن جاے گی۔ہیلری کلنٹن اپنی کتاب۔زندہ تاریخ۔میں لکھتی ہیں کہ جب وہ۔واہیٹ ہاؤس پہنچیں۔تو سو نوکر واہیٹ ہاوس میں خدمات انجام دے رہے تھے ۔یہ صرف خدمتگار تھے۔اس علاوہ۔ایک دفتر تھا جو ہمارے لئے کہیں جانے انے کا ہوائی ٹکٹ وغیرہ کا انتظام کرتا تھا۔ایک مرتبہ حساب کتاب ہوا تو اٹھارہ ہزار۔ڈالر۔کا کوئی سراغ نہ مل سکا کہ یہ کس طرح خرچ ہوے۔پھر چک کیا گیا۔بات نہ بنی۔۔کلنٹن لکھتی ہیں کہ ہم نے سارے اسٹاف کو نوکری سے بر طرف کر دیا۔۔
ترقی یافتہ ممالک اپنے لوگوں کے مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں۔انکی
آرا سنتے ہیں۔تب بات بنتی ھے۔ایک بات جو مکران کی ساری بر سر اقتدار دوست بنا لگی لپٹی کے مانتے ہیں کہ ڈاکٹر مالک ایک قومی رہنما ہیں۔اور یہی بات ملک کے تینوں صوبوں کے سیاستدان بھی مانتے ہیں۔ہم عرض یہ کرتے ہیں کہ مکران کے بر سر اقتدار دوست وہی کریں جو ڈاکٹر مالک کرتا ارہا ھے۔اپ دوست سڑکیں بنائیں اسکول ڈسپنسری بنا دیں۔ڈاکٹر مالک نے پورا تربت بہترین سڑکوں شہر بنایا۔اپ سب وزراء اچھے ہیں بہت اچھے۔ہم نے بارہا تجویز دی ھے کہ نیشنل پارٹی۔نیشنل الاہنس۔دشتی برادران سے نزدیکی کرے۔کوئی مانے کہ نا مانے الاہنس۔کی قیادت جمہوریت کی علمبردار ھے اور انکے ساتھ ورکر بھی ہیں۔اگر دشت میں نیشنل پارٹی اور الاہنس اکھٹے ہو گئے تو یہ نا قابل تسخیر قوت بن جائے گی

