تحریر: رشیداحمد نعیم
یہ عہد بظاہر ترقی اور آزادی کا عہد ہے مگر اس چمکتی ہوئی تہذیب کے نیچے عورت کی کہانی اب بھی ادھوری نہیں بلکہ کئی جگہوں پر تشویشناک حد تک دبی ہوئی ہے۔ ایک طرف وہ تعلیم، ملازمت، سیاست، معیشت اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کی روشنی پھیلا رہی ہے تو دوسری طرف سماج کی صدیوں پرانی توقعات آج بھی اس کے قدموں میں وہی زنجیریں رکھے ہوئے ہیں جن کی جھنکار صرف اسے ہی سنائی دیتی ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ وہ پرواز بھی کرے اور پابند بھی رہے، وہ ترقی بھی کرے اور روایت سے انحراف بھی نہ کرے، وہ خود کو منوائے بھی اور مسکراتی بھی رہے، چاہے دل میں تھکن کے اندھیرے کیوں نہ بھر جائیں۔عصرِ حاضر کی عورت کی سب سے بڑی کشمکش یہی ہے کہ وہ مسلسل دو محاذوں پر لڑ رہی ہے۔ایک وہ دنیا جو باہر ہے جہاں اس کا ہر قدم اس کی قابلیت سے زیادہ اس کی ”قبولیت“ پر تولا جاتا ہے اور دوسری وہ دنیا جو اس کے اندر ہے جہاں وہ اپنے وجود کو بار بار سمجھنے، سنبھالنے اور ثابت کرنے کی جنگ لڑتی ہے۔ سماج اسے ایک ”مثالی عورت“ کے قالب میں دیکھنا چاہتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انسان ہونے کے ناطے وہ کسی ایک سانچے میں پوری نہیں اتر سکتی۔ کبھی اسے نرمی کی علامت کہا جاتا ہے، کبھی طاقت کا استعارہ مگر اسے کسی بھی تعریف میں مکمل نہیں سمیٹا جا سکتا کیونکہ وہ ایک فرد ہے۔متنوع، پیچیدہ، جذباتی، فکری، تخلیقی اور سب سے بڑھ کر ایک زندہ انسان ہے زمانہ چاہتا ہے کہ عورت سب کچھ کرے مگر اپنے آپ کو نہ تھکائے، وہ مالی ذمہ داری بھی نبھائے اور گھریلو ذمہ داریاں بھی اٹھائے، وہ وقت بھی نکالے، وہ برداشت بھی کرے، وہ ثابت قدم بھی رہے اور وہ کبھی کمزور بھی نہ پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ توقعات کسی ایک انسان سے پوری ہونا ممکن ہی نہیں مگر عورت پھر بھی کوشش کرتی ہے۔ وہ اپنے کندھوں پر نہ صرف گھر اور معاشرت کی عمارتیں اٹھائے پھرتی ہے بلکہ اپنے اندر کے ٹوٹے ہوئے حصوں کو بھی جوڑتی رہتی ہے بغیر کسی واویلے، بغیر کسی مطالبے اور اکثر بغیر کسی اعتراف کے۔یہ سماج اپنی روایات کو عورت کی ذمہ داری سمجھتا ہے مگر انہی روایات کی خلاف ورزی جب مرد کرے تو اسے ”انفرادی آزادی“ کہا جاتا ہے۔ عورت اگر اپنی خواہشوں کی بات کرے تو اسے خود غرض کہا جاتا ہے مگر وہی خواہش مرد کا حق سمجھ لی جاتی ہے۔ اس کے فیصلوں پر تبصرے کیے جاتے ہیں، اس کی آزادی پر پہرے بٹھائے جاتے ہیں، اس کے لباس، اس کی آواز، اس کے کیریئر، اس کے خواب اور اس کے رشتوں تک کو راہنمائی کے نام پر محدود کیا جاتا ہے اور کمال کی بات یہ ہے کہ سماج یہ سب کچھ اس یقین کے ساتھ کرتا ہے کہ وہ عورت کی ”بھلائی“ چاہتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آج کی عورت نہ باغی ہو رہی ہے نہ روایات سے بھاگ رہی ہے وہ صرف اپنے وجود کے احترام کی تلاش میں ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے انسان سمجھا جائے، کردار کے پیمانے ایک جیسے ہوں، آزادی اور ذمہ داری کا توازن برابر ہواور اسے وہ مقام دیا جائے جو اس کی محنت اور اس کی اہلیت کا حق ہے۔ اس کا مطالبہ بہت سادہ ہے۔جتنا حق دوسروں کا ہے، اتنا ہی اس کا بھی ہو۔ اس کی خاموشی کمزوری نہیں، اکثر حکمت ہوتی ہے۔ اس کی برداشت ناپائیدار نہیں اکثر اس کی مضبوطی کی شہادت ہوتی ہے مگر سماج اس مضبوطی کو سہولت سمجھ لیتا ہے اور سہولت کو کبھی عزت نہیں دیتا۔عورت آج بھی دن کے اختتام پر ایک عجیب تھکن کے ساتھ سو جاتی ہے۔وہ تھکن جو جسمانی کم اور ذہنی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ دفتر کے اہداف پورے کرتی ہے، دوسری طرف گھر کی ذمہ داریاں بھی نبھاتی ہے وہ بچوں کی تربیت کرتی ہے، والدین کی خدمت کرتی ہے، خاندان کے رشتوں کو جوڑتی ہے اور پھر بھی محسوس کرتی ہے کہ شاید اس نے کچھ کم کر دیا۔ یہ احساسِ کم مائیگی اس کا اپنا پیدا کردہ نہیں بلکہ یہ سماج کے غیر منصفانہ معیار اس کے ذہن پر نقش کر دیتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا کمال ”قربانی“ ہے حالانکہ قربانی کو کمال بنانے سے پہلے اسے انصاف کے برابر پلڑے میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔عصرِ حاضر کی عورت اپنی ذات سے فرار نہیں چاہتی بلکہ خود کو پہچاننے کی جدوجہد میں ہے۔ وہ اپنی زندگی کی باگ ڈور خود سنبھالنے کا حق چاہتی ہے وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ جو راستہ وہ چنتی ہے وہ اس کا اپنا انتخاب ہے، کسی کی خوشنودی یا خوف کا نتیجہ نہیں۔ وہ اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی خود اٹھانے کو تیار ہے مگر وہ کسی دوسرے کی غلطیوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کرتی ہے۔ یہ انکار سماج کو بے چین کرتا ہے، کیونکہ عہدِ گزشتہ میں عورت کا کردار ”برداشت“ سے شروع ہو کر ”قربانی“ پر ختم ہو جاتا تھا۔ مگر آج وہ چاہتی ہے کہ اس کی زندگی کا جامع تعریفوں، فرائض اور اقدار کا مشترکہ نتیجہ ہونہ صرف اپنے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی۔آج کی عورت جب گھر سے باہر نکلتی ہے تو اسے صرف راستہ ہی طے نہیں کرنا پڑتا، اسے نظریں بھی عبور کرنی پڑتی ہیں۔سوال بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں اور کبھی کبھی کردار کشی کی باریک کانٹوں بھری راہوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے مگر وہ چلتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر اس کی رفتار رک گئی تو آنے والی نسلوں کی امید بھی رک جائے گی۔ وہ اپنے قدموں کی چاپ سے ایک نئی زمین ہموار کر رہی ہے ایسی زمین جہاں بیٹیاں اپنے خواب ڈر کے بغیر دیکھ سکیں، جہاں وہ اپنی شخصیت کو کم کیے بغیر معاشرے کا حصہ بن سکیں۔عورت کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہ ہر مشکل برداشت کر لے بلکہ یہ ہے کہ وہ بار بار ٹوٹ کر بھی دوبارہ جڑنے کی ہمت رکھتی ہے۔ اس کی بصیرت اسے سکھاتی ہے کہ سماجی توقعات کا بوجھ صرف تب تک بوجھ ہے جب تک وہ اسے اپنے اندر جگہ دیتی ہے۔ جیسے ہی وہ اپنے وجود کی اہمیت پہچان لیتی ہے اس کے اندر کی طاقت اس کی راہنمائی کرتی ہے کہ کون سا بوجھ اتار دینا چاہیے اور کون سا اٹھا کر زندگی کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔یہ عہد عورت کے لیے ایک چیلنج ضرور ہے مگر یہ اس کا دورِ بیداری بھی ہے۔ اب وہ جانتی ہے کہ عزت، آزادی، برابری اور شناخت کوئی خیرات نہیں جو سماج اسے دے گا۔ یہ وہ حق ہے جو اسے اپنے قدموں سے تراشنا ہے، اپنے حوصلے سے ثابت کرنا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ دنیا بدلتی ہے مگر سوچیں بدلنے میں وقت لگتا ہے مگر یہی حقیقت اسے مضبوط بناتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس کی ہر جدوجہد آنے والے کل کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ایسے کل کی، جہاں عورت سماجی توقعات کی قیدی نہیں بلکہ اپنی حقیقت کی مالک ہو گی اور یہی وہ لمحہ ہے جس کی طرف عصرِ حاضر کی عورت بڑھ رہی ہے۔خاموشی سے، وقار سے اور اس یقین کے ساتھ کہ انسان ہونے کا سب سے بڑا حق یہی ہے کہ اسے اپنی زندگی اپنی شرطوں پر جینے دیا جائے۔

