تحریر: محمدمظہر رشید چودھری
پنجاب میں ٹریفک قوانین کے نفاذ کا نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ ’ زیرو ٹالرنس‘ کے نام سے جاری خصوصی آپریشن نے وسطی پنجاب کے اضلاع میں ٹریفک پولیس کو ایک فعال، چوکنا اور سخت گیر ادارے کے طور پر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والی کارروائیوں نے نہ صرف عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر بھرپور بحث جاری ہے کہ آیا یہ اقدامات عوامی سہولت کے لیے ہیں یا شہریوں پر ایک نیا بوجھ ڈالنے کے مترادف؟ترجمان اوکاڑہ پولیس کے مطابق اس آپریشن کا مقصد کسی قسم کا مالی فائدہ یا خوف و ہراس پیدا کرنا نہیں، بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرمحمد راشد ہدایت کی براہِ راست نگرانی اور ڈی ایس پی ٹریفک محمد دانش محمود کی مربوط حکمتِ عملی نے شہر میں ٹریفک اصلاحات کو ایک نئے، عملی اور غیر روایتی انداز میں آگے بڑھایا ہے۔گزشتہ 48 گھنٹوں کی رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اوکاڑہ ٹریفک پولیس نے اس بار مہینوں پر پھیلی مہم کو صرف چند روز میں عملی شکل میں تبدیل کر دیا ہے۔ صرف گزشتہ 48 گھنٹوں میں 200 سے زائد مقدمات درج،172 شہری بغیر ڈرائیونگ لائسنس گرفتار،ون وے خلاف ورزی پر 2 مقدمات،اوور لوڈنگ پر 6 مقدمات،بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے 3 مقدمات، 563 سے زائد چالان، 5 لاکھ 7 ہزار روپے کے جرمانے،جبکہ گزشتہ 24گھنٹوں کے آپریشن میں 165 مقدمات، 151 گرفتاریاں بغیر لائسنس، 3 ون وے مقدمات، 1066 چالان، 12 لاکھ 46 ہزار روپے جرمانے،ان تمام کارروائیوں سے واضح ہوتا ہے کہ ٹریفک پولیس اب’چالان برائے تنبیہ‘ کے بجائے’چالان برائے قانون‘ کے اصول پر عمل کر رہی ہے اور یہی زیرو ٹالرنس کا بنیادی مقصد ہے۔پنجاب حکومت کے نئے ٹریفک آرڈیننس نے جرمانوں اور سزاؤں میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔ ان میں تیز رفتاری پر 2000 سے 5000 تک جرمانہ، سگنل توڑنے پر 2000 سے 15000 تک، اوورلوڈنگ پر 3000 سے 15000 تک، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر 2000 سے 15000، بغیر فٹنس کے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ + قید، ون وے خلاف ورزی پر 6 ماہ قید یا 50 ہزار جرمانہ، کم عمر ڈرائیونگ پر والدین بھی ذمہ دار۔یہ سزائیں سن کر بظاہر پورا نظام ’سخت‘ لگتا ہے، مگر ان قوانین کا مقصد واضح ہے حادثات روکنا، جانیں بچانا۔پولیس حکام کا کہنا ہے ’پنجاب حکومت نے جو قانون بنایا ہے، ہم وہی نافذ کر رہے ہیں۔ یہ اصلاحات شہریوں کے تحفظ کے لیے ہیں، پریشان کرنے کے لیے نہیں‘۔ڈی پی اومحمد راشد ہدایت اگرچہ زیادہ تر شہری سڑکوں پر نظم و ضبط کے حق میں ہیں، مگر ’خاص طور پر موٹرسائیکل سوار‘ چند تحفظات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے نقطہ نظر سے چند بڑے مسائل یہ ہیں جرمانے آمدنی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں،ایک مزدوریا طالبِ علم کے لیے اچانک 2000 سے5000 روپے جرمانہ برداشت کرنا آسان نہیں۔بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر لائسنس اتنا ضروری ہے تو اس کے حصول کو آسان بھی بنایا جائے۔مارکیٹ میں سستا ہیلمٹ غیر معیاری جبکہ معیاری ہیلمٹ بہت مہنگا ہے۔کچھ شہریوں کا مؤقف ہے کہ ہر خلاف ورزی کو جیل اور مقدمے سے جوڑنا مناسب نہیں۔کالج/یونیورسٹی جانے والے نوجوان سب سے زیادہ چیکنگ کا سامنا کرتے ہیں اور اکثر اوقات مطلوبہ دستاویزات نہ ہونے پر پریشان ہوتے ہیں۔ڈی ایس پی ٹریفک محمد دانش محمود کے مطابق حادثات میں سب سے زیادہ اموات موٹرسائیکل سواروں کی ہوتی ہیں۔ زیادہ تر نوجوان بغیر ہیلمٹ سفر کرتے ہیں۔ 70فیصد سے زائد حادثات کی بنیادی وجہ تیز رفتاری اور غلط سمت میں گاڑی چلانا ہے۔افسوس کہ والدین کم عمر بچوں کو خود گاڑیاں تھما دیتے ہیں۔پولیس کی نظر میں یہ آپریشن سخت نہیں، احتیاطی علاج ہے۔ہم کسی کو تنگ نہیں کر رہے۔ ہم لوگوں کی زندگیاں بچا رہے ہیں۔ ایک چالان شاید کسی کو برا لگے، مگر وہی چالان اسے حادثے سے بچا سکتا ہے۔ڈی پی او راشد ہدایت نے کمیونٹی لائنزن سینٹر میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں ٹرانسپورٹرز، ٹریڈ یونین، میرج ہالز مالکان، ایجوکیشن سیکٹر، صحافی، سول سوسائٹی سب نے شرکت کی۔اجلاس میں بنیادی نکات پر اتفاق ہوا’اوور لوڈنگ کی مکمل روک تھام‘’بسوں کی چھتوں پر سفر روکنا‘’پارکنگ مسائل حل کرنا‘’سڑکوں کی ری انجینیئرنگ‘’شہریوں میں شعور اجاگر کرنا‘یہ اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹریفک قوانین کی بہتری صرف چالان سے نہیں بلکہ مکمل حکمت عملی اور سماجی تعاون سے ممکن ہے۔پاکستان میں ہر سال ہزاروں لوگ ٹریفک حادثات میں جان سے جاتے ہیں۔اصل وجوہات یہ ہیں: تیز رفتاری۔ موبائل فون کا استعمال۔ اوور لوڈنگ۔ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا۔ گاڑیوں کی ناقص حالت۔کم عمر ڈرائیونگ۔ ون وے کی خلاف ورزی۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارے سڑکوں پر سب سے بڑی خرابی’شہری رویہ‘ ہے قانون کمزور نہیں، عمل درآمد ہمیشہ کمزور رہا۔سانچ کے قارئین کرام!کیا زیرو ٹالرنس آپریشن مؤثر ہے؟ اسکے فوائد: سڑکوں پر اچانک نظم و ضبط۔کم عمر ڈرائیونگ میں واضح کمی۔ ہیلمٹ کا استعمال بڑھا۔ اوور اسپیڈنگ میں کمی۔ ٹریفک حادثات کے خدشات کم ہوئے۔اسکے چیلنجز: جرمانوں کا مالی بوجھ۔ لائسنس سینٹرز پر رش۔ شہریوں کا مزاج ’نرمی‘ کا عادی۔بعض مقامات پر پولیس اہلکاروں کا رویہ شکایات کا باعث۔اصل سوال یہی ہے:کیا ہم قانون کی سختی برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں؟یا پھر ہم چاہتے ہیں کہ سڑکیں ویسی ہی رہیں،حادثات ویسے ہی ہوتے رہیں اور ہم ہر سال ہزاروں جانوں کو یوں ہی گنواتے رہیں؟ زیرو ٹالرنس آپریشن کے بارے میں اگر غیر جذباتی تجزیہ کیا جائے تو حقیقت یہی ہے کہ:یہ اقدام ضروری بھی ہے اور بروقت بھی،مگر اس کے اطلاق میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔پولیس کو چاہیے کہ عوامی رہنمائی میں اضافہ کرے۔ لائسنس سینٹرز کی استعداد بہتر کرے۔چالان کے ساتھ آگاہی کو بھی فوقیت دے۔ شہریوں کے تحفظات کو سننے کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کرے،اور شہریوں کو چاہیے کہ:قانون کو دشمن نہیں، محافظ سمجھیں، لائسنس، ہیلمٹ، فٹنس سب کو معمول کا حصہ بنائیں۔کم عمر ڈرائیونگ سے بچوں کو روکیں۔اگر پولیس اور عوام مل کر اس راستے پر چلیں تو صرف اوکاڑہ نہیں، پورا پنجاب بدل سکتا ہے۔
محمدمظہر رشید چودھری (03336963372)

