ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پریورپی جرمانے، ایتھوپیا کی سہولتیں،یہ کس منطق کا ملک ہے؟

تحریر:رشیداحمد نعیم
یہ عجیب ملک ہے۔ یہاں شہری اگر ایک لائیٹ کراس کر جائیں تو ریاست فوراً بیدار ہو جاتی ہے.پولیس کے سائرن جاگ اٹھتے ہیں۔جرمانے کی پرچی ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے اور اگلے لمحے شہری کو احساس دلایا جاتا ہے کہ اس نے نہ جانے کون سا عظیم جرم کر دیا ہے۔ ہیلمٹ نہ ہو تو دو ہزار روپے، غلط پارکنگ پر دو ہزار، ون وے پر دو ہزار، تین افراد کی سواری پر دو ہزار، پلاسٹک کا ہیلمٹ ہو تو پانچ ہزارجرمانہ عائدکردیا جاتا ہے۔ لگتا ہے جیسے حکومت نے پورا ملکی نظم وضبط شہریوں کی جیب پر قائم کر رکھا ہے جیسے سارا سماج ایک چلتی پھرتی ATM مشین ہے جس میں کارڈ تو حکمرانوں کا لگا ہے PIN کوڈ عوام کا خون پسینہ ہے اور ہر بٹن دبانے پر ایک نیا جرمانہ نکل آتا ہے لیکن سوال یہ نہیں کہ جرمانے غلط ہیں۔قانون ہونا چاہیے، نظم ہونا چاہیے، ٹریفک کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ قانون صرف یک طرف کیوں لاگو ہوتا ہے؟ شہری پر کیوں ٹوٹ پڑتا ہے اور حکومت پر کیوں خاموش ہو جاتا ہے؟ کیا ریاست یک طرفہ ٹریفک ہے؟ کیا قانون کا وجود صرف عوام کے لیے ہے؟ کیا ذمہ داری صرف شہری کی ہے اور حکمران کسی حساب کتاب کے بغیر مقدس گائے ہیں؟ شہری سے کہا جاتا ہے کہ ٹریفک قانون کی پابندی کرو لیکن سڑک کہاں ہے؟ وہ سڑک جس پر عوام اپنے ٹائروں کو توڑتے، بائیکوں کو کھپاتے، گاڑیوں کے الائنمنٹ بگاڑتے، جانیں خطرے میں ڈالتے روز سفر کرتے ہیں۔وہ سڑک ایک کھنڈر، ایک کانٹا دار میدان، ایک اذیت گاہ بن چکی ہے۔ ہر طرف گڑھے، کھڈے، ٹوٹ پھوٹ، ریت، پتھر،بے ہنگم کھدائیاں۔ ہر موڑ پر ایک نئی موت گھات لگائے بیٹھی ہے مگر اس پر کوئی جرمانہ نہیں۔ کوئی ذمہ دار نہیں۔ کوئی افسر نہیں پکڑا جاتا۔ کوئی ادارہ جوابدہ نہیں ٹھہرتا۔سوال یہ ہے کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ سڑک فراہم کرے؟ کیا شہری اپنی جیب کا خون دے، ٹیکس دے، فیول پر لیوی دے، گاڑی کی رجسٹریشن پر پیسے دے اور پھر بھی بدترین سڑکیں برداشت کرے؟ آخر ریاست اپنی ذمہ داری کب قبول کرے گی؟شہری سے کہا جاتا ہے ون وے کی پابندی کرو لیکن کیا کبھی حکومت نے پوچھا کہ ون وے کو کس نے ناقابل استعمال بنا رکھا ہے؟ گلیوں میں سیوریج کا پانی بہہ رہا ہے۔بارش کا پانی ہفتوں کھڑا رہتا ہے۔گٹر ابل رہے ہیں۔مین ہول کے ڈھکن غائب ہیں۔روزانہ حادثات ہوتے ہیں۔ بائیک سوار گٹروں میں گرتے ہیں۔بچے چوٹیں کھاتے ہیں مگر کسی محکمے پر نوٹس تک نہیں ہوتا۔ کس کا جرم ہے؟ کون سزا پائے گا؟ یہاں ہمیشہ سوال شہری سے پوچھا جاتا ہے حکومت سے نہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں ملتیں، ڈاکٹر کم، مشینیں خراب، بیڈ ٹوٹے ہوئے اور مریض دربدر لیکن ٹیکس لازمی ہے۔ شہری اگر بجلی کا بل نہ دے تو کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے لیکن سرکاری ہسپتال اگر سہولیات نہ دے تو کس کا کنکشن کاٹا جاتا ہے؟ کوئی نہیں۔ شہری کو بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ ذمہ دار ہے مگر ریاست کسی لمحے خود کو ذمہ دار نہیں مانتی۔ٹریفک سگنل ناقص، بعض جگہ لائٹس ناکارہ، کئی اہم چوراہوں پر سگنل ہیں ہی نہیں یا مہینوں خراب پڑے رہتے ہیں۔ پھر بھی شہری پر جرمانہ۔ سوال یہ ہے کہ اگر شہری ریاست کے قوانین کو توڑتا ہے تو سزا ملتی ہے لیکن اگر ریاست شہری کے بنیادی حقوق توڑتی ہے، سہولتیں نہیں دیتی، سڑکیں نہیں بناتی، سیوریج نہیں ٹھیک کرتی، اسپتال نہیں چلاتی تو سزا کس کو دی جائے؟ یا ریاست کے لیے قانون نہیں ہوتا؟شہری اگر فٹ پاتھ پر کھڑا ہوجائے تو جرمانہ مگر فٹ پاتھ پر تجاوزات ہوں، دکانیں ہوں، دھکے ہوں تو کچھ نہیں ہوتا۔ وہاں حکومتی رٹ دم توڑ دیتی ہے وہاں قانون کے دانت گر جاتے ہیں۔ وہاں ریاست اندھی، بہری اور گونگی ہو جاتی ہے کیونکہ وہاں حکومت کے دوست، سیاسی حمایتی، بااثر افراد ہوتے ہیں جنہیں ہاتھ لگانا ممکن نہیں۔شہری اگر گاڑی غلط جگہ پارک کرے تو فوراً پرچی لیکن سڑکوں پر سیاسی بینرز، فلیکسز، پولوں سے لٹکتے پوسٹر، سرکاری تقریبات کے بورڈ، جلسوں کے اشتہار ہر طرف بے ہنگم قبضہ مگر کوئی سوال نہیں کرتا۔ عوام کا کندھا ہر کام کے لیے استعمال ہو سکتا ہے مگر حکمرانوں کے شانوں تک قانون کی رسائی ہی نہیں۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ رات کے وقت سڑکوں پر روشنی کا انتظام نہیں، اسٹریٹ لائٹس خراب، تاریں لٹکی ہوئی، کھمبے ٹوٹے ہوئے۔ شہری اندھیرے میں سفر کرتے ہیں، حادثات ہوتے ہیں، موٹر سائیکل سوار گر کر مر جاتے ہیں لیکن حکومت پر جرم ثابت نہیں ہوتا۔ قانون یہاں خاموش کھڑا تماشا دیکھتا ہے۔ریاست کا کردار ایسا ہی لگتا ہے جیسے کوئی مالک صرف کرایہ وصول کرنے آئے مگر مکان کی مرمت اپنی ذمہ داری نہ سمجھے۔ شہری ٹیکس دیں، فیسیں دیں، جرمانے دیں، دہرے تہرے ٹیکس ادا کریں مگر بدلے میں ملے کیا؟ گندے نالے، ٹوٹی سڑکیں، بے نور سڑکیں، بے سہارا ہسپتال، ناکارہ ادارے، بے حس افسران اور ہر چوک پر جرمانے۔یہ وہ کیفیت ہے جہاں نفرت جنم لیتی ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ نفرت نہ پھیلائیں۔نفرت کوئی تفریح نہیں، یہ ناانصافی کے مستقل تجربے کا ردّعمل ہے۔ جب ریاست صرف شہری کا احتساب کرے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالے، جب شہری کو ہر موڑ پر مجرم ثابت کیا جائے اور حکمرانوں کو ہر موڑ پر معاف کر دیا جائے، جب قانون عوام کے لیے سخت اور حکمرانوں کے لیے نرم ہوتو نفرت کیوں نہ بڑھے؟یہ ریاستی توازن کا بحران ہے۔ ایک طرف حکومت چاہتی ہے کہ شہری یورپی قوانین کی طرح نظم و ضبط اپنائیں لیکن دوسری طرف حکومت شہریوں کو مراعات، سہولتیں، معیارِ زندگی، صحت، تعلیم، سڑکیں، صفائی ان میں سے کوئی چیز یورپ جیسی دینے کو تیار نہیں۔ شہری کو ایتھوپیا کی سہولتیں، یورپ کے جرمانے، مقبوضہ علاقوں جیسی لاچار زندگی اور پھر نصیحت کہ بولیں اورتصور بھی کریں کہ حالات بہتر ہیں۔آخر کب تک؟ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ شہری صرف جرمانہ دینے کے لیے پیدا نہیں ہوتے۔ وہ اس ملک کے مالک ہیں، ٹیکس دہندگان ہیں، اس نظام کے حقیقی حصہ دار ہیں۔ ان کا حق ہے کہ سوال کریں۔ ان کا حق ہے کہ جواب طلب کریں۔ ان کا حق ہے کہ پوچھیں
گڑھوں کی ذمہ داری کس کی ہے؟
گٹروں کے ابلنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
روشنی کی کمی کا جرم کس کے سر ہے؟
ناکارہ سگنل کس نے ٹھیک کرنے تھے؟
بیمار پڑتے مریض کو دوا نہ ملے تو کس کو سزا ہونی چاہیے؟
ٹیکس دینے والے شہری کو سہولتیں نہ ملیں تو کون جواب دے گا؟
ریاست کو یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ قانون صرف عوام پر نہیں لاگو ہوتا۔ قانون دونوں طرف چلتا ہے۔
اگر شہری جوابدہ ہے تو حکومت بھی جوابدہ ہے۔
اگر شہری پر غلطی پر جرمانہ ہے تو حکومت کی غلطی پر سزا ہونی چاہیے، کم از کم جوابدہی تو ہونی چاہیے۔
یہ ملک صرف عوام سے قائم ہے، عوام کے ٹیکس پر کھڑا ہے، عوام کے خون پسینے سے چل رہا ہے لیکن عوام ہی کو سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے۔ عوام ہی کو سب سے زیادہ مجرم سمجھا جاتا ہے۔وقت آگیا ہے کہ حکومت آئینے میں اپنا چہرہ دیکھے، اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرے، اپنے فرائض سمجھے اور اپنے وعدے پورے کرے ورنہ وہ دن دور نہیں جب عوام کے صبر کا پیمانہ بھر جائے گا اور پھر جرمانے بھی غیر مؤثر ہوں گے، قوانین بھی بے معنی اور حکومت کا اختیار بھی کمزور۔
ریاست اگر اپنے شہریوں کو صرف جرمانوں کے ذریعے چلانا چاہے، انہیں سہولتیں نہ دے، ان کی زندگی آسان نہ کرے، ان کی عزتِ نفس نہ سمجھے تو ایسا نظام دیر تک نہیں چل سکتا۔
عوام کو مجرم مت سمجھیں۔
عوام کو غلام مت سمجھیں۔
عوام کو ٹیکس دینے والی مخلوق مت سمجھیں۔
عوام اس ملک کے اصل وارث ہیں اور وارثوں کے ساتھ ایسا سلوک زیادہ دیر نہیں چلتا۔یہ تحریرعوام کے جذبات کی نمائندگی ہے۔اس نظام کے خلاف وہ چیخ ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا اور وہ سچ ہے جو کسی جگہ لکھا نہ جائے تب بھی زمین پر موجود ہر گڑھا، ہر کھڈا، ہر ٹوٹی سڑک روز اسے دہراتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں