ماہل بلوچ کا مزاحمتی آرٹ : پیاس کی شہزادی کو سچ کی سزا

ڈاکٹر اصغر دشتی

مشیل فوکو کے مطابق جدید ریاستیں اور ریاستی ادارے طاقت کا استعمال صرف تشدد یا جبر کے ذریعے نہیں کرتے بلکہ ڈسکورس کو کنٹرول کرکے بھی استعمال کرتے ہیں۔ یعنی یہ طے کرنا کہ کون سا سوال اٹھایا جا سکتا ہے، کون سا نہیں۔ کون سا مسئلہ جائز گفتگو ہے اور کون سا خطرہ۔ اسی نظریے کی روشنی میں بلوچستان یونیورسٹی میں فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ ماہل بلوچ کے تخلیقی ارٹ کی نمائش ایک واضح مثال ہے۔ ماہل بلوچ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں پانی کی کمی اور لوگوں کی محرومی کو آرٹ کے ذریعے دکھا رہی تھیں۔ ایک بالکل عام اور اہم سماجی مسئلہ۔ مگر نمائش کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ نے اچانک اسے “سیکیورٹی تھریٹ” کہہ کر بند کروا دیا۔ عوامی مسئلے کو اچانک سیکیوریٹائز کرنا، تخلیقی اظہار کو خطرہ بنا کر پیش کرنا اور آرٹسٹک بیانیے کو خاموش کرنا یہ سب وہ طریقے ہیں جنہیں فوکو طاقت کے غیر مرئی ہتھیار کہتا ہے۔ اس واقعے میں بھی طاقت کا استعمال براہِ راست تشدد کے بجائے گفتگو، اظہار، آرٹ اور علامتوں پر کنٹرول کرکے کیا گیا جو یہ واضح کرتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے کس طرح مقامی مسائل کو اجاگر کرنے والے بیانیوں کو دبا کر ایک مخصوص خاموشی نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ اکیڈمک فریڈم کس طرح ریاستی سیکیورٹی ڈسکورس کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔ یونیورسٹی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں طلبہ کو جبر، محرومی، سماجی انصاف کے حصول اور عوامی مسائل پر تنقیدی سوچ پیدا کرنے کے لیے آزادی دی جاتی ہے لیکن یہاں علم کی آزادی کو خطرہ سمجھ کر دبانے کی کوشش کی گئی۔ یونیورسٹیاں سچ کی تلاش کی جگہ ہوتی ہیں اور وہ سیاسی دباؤ سے آزاد ہونی چاہئیں۔ اسٹوڈنٹس کو سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل پر اظہار کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن ریاستی طاقت ہمیشہ اُن بیانیوں پر کنٹرول رکھنا چاہتی ہے جو اس کی حکمرانی کو چیلنج کرتے ہوں۔ پانی کی محرومی جیسے بنیادی انسانی مسئلے کو آرٹ کے ذریعے نمایاں کرنا پاور سینٹرز کے لیے ناقابلِ قبول علم (Uncomfortable and Unacceptable Knowledge) بن جاتا ہے اس لیے اسے فوراً بند کیا گیا۔ ماہل بلوچ نے آرٹ کے ذریعے عوام کے اجتماعی دکھ کو بیان کیا۔ یہ آرٹ صرف جمالیات نہیں بلکہ ایک سیاسی اور مزاحمتی عمل بھی ہے اور بلوچستان یونیورسٹی کا ردِعمل اس بات کا اعتراف ہے کہ آرٹ طاقتور ہوتا ہے۔ ماہِل بلوچ نے مکران کے ساحلی باشندوں کی پانی سے محرومی کو ایک علامتی احتجاج کے طور پر اپنے آرٹ ورک میں جگہ دی اور اسے ‘Princess of Thirst’ (پیاس کی شہزادی) کا عنوان دیا۔ ماہل بلوچ کا یہ کام ہنگول نیشنل پارک کی پہاڑیوں میں واقع مشہور قدرتی مجسمے Princess of Hope (امید کی شہزادی) کے تناظر میں ایک تخلیقی، جمالیاتی، احتجاجی اور مزاحمتی ردِعمل ہے۔ پرنسس آف ہوپ اپنی منفرد اہمیت کے باعث بلوچستان کی پہچان سمجھی جاتی ہے اور ماہل نے اسی علامت کو الٹاتے ہوئے اسے امید نہیں بلکہ پیاس کی اذیت سے جوڑ کر مقامی آبادی کی محرومی کو فن کے ذریعے طاقتور انداز میں سامنے لانے کی کوشش کی۔ یوں ان کا آرٹ ورک نہ صرف ایک تخلیقی اظہار ہے بلکہ ساحلی آبادی کے حقیقی مسائل کا علامتی احتجاج بھی ہے۔ یہ پورا معاملہ آخر میں ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتا ہے کہ اگر ایک طالبہ کا آرٹ بھی سیکیورٹی کے نام پر خاموش کرایا جا سکتا ہے تو پھر ہمارے تعلیمی اداروں میں علم، آزادی اظہار اور تخلیقی و تنقیدی سوچ کا مستقبل کیا رہ جاتا ہے؟ ماہل بلوچ کی نمائش کا اچانک بند ہونا صرف نمائش کا اختتام نہیں تھا بلکہ اس نے یہ حقیقت بھی بے نقاب کر دی کہ طاقت کس طرح فن، سوال، علامت اور آواز سے خوف کھاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں