قادربخش بلوچ
ڈاکٹر مالک بلوچ کے افسانوں کا مجموعہ۔مارشت سے اقتباس
میرو چھوٹے قد کا صحیح لیکن علاقے کا مانا ہوا شخص تھا میرو اپنی بلوچی واسکٹ اور چپلوں کے ساتھ بلوچ شناخت کا جیتا جاگتا تصویر تھا۔الفاظوں کی ادائیگی کے ہنر سے واقف میرو لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن چکا تھا۔میرو کے بولنے کا انداز اتنا دلفریب ہوتا تھا۔کہ لوگ گھنٹوں بھر انہیں سنتے تھے۔لوگوں کے نزدیک میرو کی وطن دوستی قوم دوستی اور بہادری مثالی تھی۔میرو کی بہادری کی باتیں سن کر۔لوگوں کو یقین ہو چلا تھا۔کہ جاگیرداروں نوابوں اور سرداروں کو جو۔نکیل ڈالے گا وہ میرو ہی ہوگا۔اور میرو ہی سرداروں کو غریب عوام کے اگے جھکنے پر مجبور کرے گا ۔عبدین میرو کے بچپن کا ساتھی تھا۔اور دونوں نے چالیس سال اکھٹے گزارے تھے۔ایک دن عبدین نے میرو سے کہا ۔دیکھ یار تم کتنے بڑے کزاب ہو۔۔تیری سخاوت کا یہ حال کہ تم دس روپے بھی نہیں چھوڑ سکتے اور تیری بہادری یہ کہ تم ہمیشہ سرداروں کے پیروں کے چپل چاٹتے ہو۔۔اور تمہارے ہاتھ پھیلانے کا انداز ایسا ھے جیسے تم ٹھیک کوئی قلندری صوالی ہو۔
ہوتا یہ ارہا ھے کہ لوگ دوسروں سے جھوٹ تو بولتے۔
لیکن میرو تم وہ واحد شخص ہو جو ہمیشہ خود سے جھوٹ بولتے ارہے ہو۔
ڈاکٹر مالک بلوچ کے افسانوں۔۔مارشت۔۔۔سے اقتباس
اردو سے بلوچی کا سفر۔۔۔قادربخش بلوچ۔

