ہیبرڈ نظام امور مملکت کے معجزات

تحریر: محمد صدیق کھیتران
مرکزی سیکریٹری ریسرچ و ایڈوکیسی آف نیشنل پارٹی

ایک کھچڑی پکائی گئی۔ جو کسی
کے حلق سے نہیں اتر رہی ہے۔ شروع میں سب اسٹیک ہولڈرز حصہ مانگتے رہے۔ کچھ نے تو مستقبل کیلئے استثنا کے کٹورے بھی بھرنے کی کوشش کی۔ مگر سب کو این ڈی یو کے سپیچ کے بعداندازہ ہوگیا ہے۔ کہ یہ سیاست ،دراصل نظام لپیٹنے کی ہے۔ کسی نے کہا تھا۔کہ بھالو اور مگرمچھ کی لڑائی میں کس کی جیت ہوتی ہے۔ دانشور نے جوابا” کہا۔ اگر لڑائی پانی کے اندر ہوگی تو جیت مگرمچھ کی ہوگی اور اگر خشکی پر ہوگی تو میدان بھالو کے پاس رہے گا۔
جس اعلان پر عمل نہیں ہوسکتا اس کو محض ایک بیان یعنی اسٹیٹمنٹ سمجھا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں نواز شریف نے بھی ایک آئینی ترمیم لگ بھگ پاس کروا لی تھی۔ جس میں موصوف نے اپنے آپ کو امیر المومنین بنانے کا اعلان کروانا تھا۔
اقوام متحدہ نے ستائیسویں آ ئینی ترمیم پر جو اسٹیٹمنٹ جاری کی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے۔ دنیا ہمارے ارادوں پر خاموش نہیں ہے۔آئی ایم ایف نے ایلیٹ کیپچر ، ایس آئی ایف سی، گرین انیشیٹیو، پانچ کھرب تین سو ارب روپے کی صرف دو سال کی بدعنوانی کی رپورٹ،عدلیہ کی بربادی کو چھبیسویں آئینی ترمیم کے تناظر میں اور اسکینڈلز شوگر سمیت ، پاور پلانٹس پر جو ایک سو پچاسی صفحہ پر مشتمل رپورٹ منہ پر دے ماری ہے وہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ گزشتہ دن میڈیا کھولا تو پتہ چلا۔کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کی برکت سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بلوچستان کے ایک جج کے نوعمر بیٹے نے دو بچیاں اقتدار کے نشے میں اڑا دیں۔ کوئی نہیں پوچھے گا۔ کہ ایک نئے جج کے پاس وی ایٹ جیسی قیمتی گاڑی کہاں سے آئی ہے۔اور یہ بھی کہ کیا اس کے کاغذات جینوئین بھی ہیں۔ دوسرا وڈیو کلپ نظر سے گزرا ہے۔ کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے طفیل آئینی عدالت کے ایک سندھ سے تعلق رکھنے والے جج کلاشنکوف سے موج میں ہوائی فائرنگ کر رہا ہے۔شاید ہی نظام میں اتنی طاقت ہو کہ وہ آئینی عدالت کے عہدہ جلیلہ پر براجمان نئے جج سے پوچھ سکے کہ اس کلاشنکوف کا کوئی لائنسنس وغیرہ بھی ہے اور یہ کہ ہوائی فائرنگ کرتے وقت آپ کا دماغ زمین پر تھا یا کہیں آسمان پر اڑان بھر رہا تھا۔ کل ہی تیسرا وڈیو کلپ دیکھا۔کہ بلوچستان کا ایک وزیر جوکہ اصل میں سندھ کا رہنے والا ہے۔ اس ہیبرڈ سسٹم کے سودے کے نتیجے ضلع حب میں پیراشوٹ کے ذریعے اتارا گیا ہے۔ موصوف نے سینکڑوں جعلی لوکل سرٹیفیکیٹ بھی غیر بلوچستانیوں کے نام پر سیاسی دباؤ کے نتیجے میں تیار کروالی ہیں۔ خود لیڈر صاحب پر لینڈگریبرنگ کے متعدد الزامات سندھ میں لگ چکے ہیں۔ اس منظور نظر لیڈر کے ایک لوکل گشت پر ہزاروں گاڑیاں، پولیس پروٹوکول کے سائے تلے قافلے کی شکل میں پھر رہی تھیں۔ یہ موصوف اس صوبے کا معمولی سا انپڑھ وزیر ہے۔ جس کے سترہ اضلاع ملک بھر کے کل بیس پسماندہ ترین اضلاع میں شمار ہوتے ہیں۔ وزیر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہیبرڈ سسٹم کے تحت بندر بانٹ کے کوٹے کا ایک سلیکٹی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں ان حالات تک کون لے آیا ہے؟
سوچنا ضرور چاہیئے۔ لاتعلقی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں