مقبوضہ کشمیر میں معذوری کی منظم پالیسی اور انسانی ضمیر کے لیے کڑی آزمائش

تحریر:رشیداحمدنعیم
مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے مگر حالیہ برسوں میں جو پہلو زیادہ شدت سے سامنے آیا ہے وہ کشمیریوں کو جسمانی طور پر ناکارہ بنانے کی منظم حکمتِ عملی ہے۔ بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف تحقیقی رپورٹس نے بارہا اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ بھارت کی فورسز طاقت کے ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں جن کے نتیجے میں نوجوانوں، بچوں، خواتین اور بزرگوں تک کی ایک بڑی تعداد مستقل معذوری کا شکار ہو رہی ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی برادری کے اجتماعی ضمیر کے لیے بھی ایک سخت امتحان ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سرزمین پر جو کچھ گزر رہا ہے وہ محض ایک سیاسی تنازع یا خطے کی کشیدگی نہیں بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایسا زخم ہے جو دہائیوں سے رس رہا ہے۔ اس زخم کی سب سے بھیانک تصویر وہ منظم منصوبہ بندی ہے جس کے ذریعے کشمیریوں کو جسمانی طور پر کمزور، ناکارہ اور عمر بھر کی معذوری میں دھکیلاجا رہا ہے۔ طاقت کا استعمال اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ نوجوانوں کی پوری نسل بینائی، ہاتھ، پاؤں، جسمانی صحت اور ذہنی توازن تک سے محروم ہو رہی ہے۔ یہ منظر دنیا کے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک ایسی کڑی آزمائش ہے جس کے سامنے خاموش رہنا خود انسانیت کی توہین بن جاتا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے گھروں میں سناٹا اُسی وقت سے بسیرا کیے بیٹھا ہے جب وہاں سیاست، انصاف اور بنیادی آزادیوں کی سانسیں روک دی گئیں۔ گلیوں میں پھرتی ہوئی وردیوں کی چاپ نے نہ صرف بچوں کے کھیل چھینے بلکہ زندہ رہنے کا اطمینان بھی چاٹ لیا۔ ایسے ماحول میں طاقت کا بے دریغ استعمال محض ایک حادثہ نہیں، ایک ترتیب شدہ حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے۔ جب نوجوانوں کی آنکھیں اندھیروں سے بھر دی جائیں، جب ایک گولی سینکڑوں خوابوں کو روند ڈالے اور جب ایک لمحے کا تشدد ساری زندگی پر بھاری پڑ جائے تو یہ ظلم کا وہ باب ہوتا ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔مقبوضہ وادی کے ہسپتال، میڈیکل کیمپ اور امدادی مراکز اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ وہاں زخمی ہونے والے اکثر لوگ وہ صحت کبھی واپس نہیں پا سکے جو ان کی پہچان تھی۔ کسی کا بازو چھین لیا گیا، کسی کی ٹانگ ہمیشہ کے لیے ساکت ہو گئی، کسی کی ریڑھ کی ہڈی ایسے زخمی ہوئی کہ وہ زندگی بھر بستر کا محتاج بن گیا۔ خاص طور پر پیلٹ گنوں کے استعمال نے سینکڑوں نوجوانوں کی وہ بینائی چھین لی جس سے وہ اپنے گھروں، پہاڑوں، بہتے دریاؤں اور ماؤں کے چہروں کو دیکھا کرتے تھے۔ ان آنکھوں میں اب روشنی نہیں صرف بے بسی کی دھند ہے۔ معذوری کا یہ بوجھ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتابلکہ یہ پورے خاندان کے لیے معاشی، ذہنی اور سماجی تباہی کا دروازہ بن جاتا ہے۔تفتیشی مراکز اور حراستی مقامات کی کہانیاں سن کر دل پتھر بھی ہو تو چیر جائے۔بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہو کر تفتیشی مراکز اور حراستی مقامات پر جانے والے بہت سے نوجوان جب واپس لوٹے تو وہ”وہی“ نہیں رہے تھے جو کبھی گئے تھے۔ ان کے جسموں پر تشدد کے نشان صرف زخم نہیں تھے وہ چیختی ہوئی داستانیں تھیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ان کی آنکھوں کے گرد پھیلی ہوئی وحشت، ان کے چہروں پر خوف کی لکیر، ان کی خاموشی کی ٹوٹ پھوٹ سب کچھ اس ظلم کی علامت تھا جسے دنیا دیکھ کر بھی نہ دیکھنے کا بہانہ کرتی ہے۔ مائیں جب اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھتی ہیں تو ایک انسان نہیں ایک پوری کائنات بکھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔معذوری کا شکار ہونے والے افراد کے لیے علاج، بحالی اور مالی تعاون کی کمی وادی کے دکھوں کو دوگنا کر دیتی ہے۔ وہاں کے ہسپتال اکثر ناکافی ہیں، ادویات کم پڑ جاتی ہیں، سڑکیں بند ہوتی ہیں اور علاج تک پہنچنے کے لیے درکار وقت بھی کئی زندگیاں نگل جاتا ہے۔ بحالی کے مراکز نہ ہونے کے برابر ہیں اور حکومتی اعلانات اکثر ایسے ثابت ہوتے ہیں جیسے اندھیرے میں امید کی کوئی کمزور کرن جو چند لمحے بعد خود ہی بجھ جائے۔ ایسے حالات میں معذور افراد نہ تعلیم تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں، نہ نوکری، نہ معاشی خود مختاری، نہ ہی محفوظ زندگی۔ وہ دوہری اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔جسمانی معذوری اور سماجی تنہائی کی سزا۔مقبوضہ کشمیر کا جنگ زدہ ماحول پہلے ہی نفسیاتی دباؤ سے بھرا ہوا ہے۔ کرفیو، نگرانی، ناکے، چھاپے، گولیوں کی آوازیں، آنسو گیس کی دھواں بھری فضایہ سب ذہنوں پر روزانہ نئے زخم چھوڑتے ہیں۔ ایسے میں معذور افراد کی زندگی ایک مستقل جنگ بن جاتی ہے۔ وہ اپنے ہی گھر کے کمروں میں قید ہو جاتے ہیں، ان کی حرکت محدود ہو جاتی ہے اور سماج میں ان کے لیے مواقع کم سے کم رہ جاتے ہیں۔ ان کی خاموشی میں ایسا کرب بستا ہے جو الفاظ کے ذریعے بھی دلوں تک پوری شدت سے نہ پہنچ سکے۔سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی چیخیں عالمی طاقتوں کے کانوں تک ضرور پہنچتی ہیں مگر ان کی گونج عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہوتی۔ دنیا کی یہ خاموشی مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کے زخموں پر مزید نمک چھڑکتی ہے۔ ظلم جب مسلسل ہو اور دنیا اپنے سیاسی مفادات میں الجھ کر خاموش رہے تو یہ خاموشی خود ظلم کا حصہ بن جاتی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے نوجوان جب بینائی سے محروم ہو کر اندھیرے میں دھکیل دیے جاتے ہیں، جب پیاروں کے سہارے معذوری کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، جب ماؤں کے آنسو بند نہیں ہوتے، جب بچے خوف کے سائے میں جوان ہوتے ہیں تو سوال پوری دنیا سے ہے کہ کیا انسانیت کی قیمت اتنی کم رہ گئی ہے کہ اسے طاقت کے نشے میں روند ڈالا جائے؟ کیا عالمی ضمیر اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ وہ ظلم کے سامنے ایک لفظ بھی ادا نہ کر سکے؟یہ لمحہ تاریخ کا سخت ترین انتباہ بن چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے زخم اب صرف کشمیر کے نہیں رہے یہ انسانیت کے زخم ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ دنیا محض بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ مظلوموں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے اقدامات کرے۔ تاکہ اس وادی میں کبھی تو صبح اُترے، کبھی تو امید کی کرن پھوٹے اور کبھی تو انسانیت اپنے زخموں پر مرہم رکھنے کے قابل ہو سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں