تحریر: محمد ندیم انجم
بلوچستان، جو ملک کو قدرتی گیس سمیت بے شمار معدنی وسائل فراہم کرتا ہے، آج بھی خود ایک شدید توانائی کے بحران کا شکار ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی کوئٹہ سے لے کر صوبے کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں تک، گیس کا پریشر غیر معمولی حد تک کم ہو جاتا ہے اور کئی علاقوں میں سپلائی تقریباً معطل ہو جاتی ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک تکنیکی یا موسمی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور حکومتی ترجیحات پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
اس بحران کی بنیادی وجہ گیس نیٹ ورک کے انفراسٹرکچر کی دہائیوں پرانی حالت ہے۔ صوبے میں بچھائی گئی گیس پائپ لائنیں آج کی بڑھتی ہوئی آبادی اور سردی کے شدید دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ چونکہ ان لائنوں کی بروقت اپ گریڈیشن اور مرمت پر توجہ نہیں دی جاتی، اس لیے سپلائی میں خلل اور کم پریشر ایک معمول بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صوبائی سطح پر طلب اور رسد کے انتظام کی ناکامی صورتحال کو مزید ابتر کر دیتی ہے۔
یہ ایک المناک ستم ظریفی ہے کہ بلوچستان، جو سوا لاکھ (134,050) مربع میل رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور جہاں کے عوام کا ملک کی توانائی میں سب سے بڑا حصہ ہے، وہیں کے باشندوں کو اپنے گھروں کو گرم رکھنے یا کھانا پکانے کے لیے لکڑی کے غیر محفوظ اور ماحول دشمن ذرائع یا مہنگی ایل پی جی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر کوئٹہ، زیارت اور قلات جیسے انتہائی سرد علاقوں میں، جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے، گیس کا کم پریشر زندگی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے اور بنیادی انسانی ضروریات متاثر ہوتی ہیں۔
یہ مسئلہ ایک گہرے سماجی اور سیاسی عدم اطمینان کو جنم دیتا ہے۔ جب مقامی آبادی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے اپنے وسائل کا فائدہ پورے ملک کو دیا جا رہا ہے، مگر انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے، تو قومی یکجہتی پر سوال اٹھتا ہے۔ حکومت کی یہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان میں گیس کے بحران پر قابو پانے کے لیے عارضی نہیں بلکہ مضبوط پالیسی اپنائے۔ ضروری ہے کہ گیس نیٹ ورک کی فوری طور پر تعمیر نو کی جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ وسائل کے پیداواری علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر ان کا پورا حق ملے۔ گیس کا مناسب پریشر صرف توانائی کا نہیں، بلکہ وفاقی اعتماد کی بحالی کا بھی ذریعہ ہے۔

