کالم سانچ :شناختی کارڈ بنوانے کی ترغیب، جمہوری عمل کی بنیاد

تحریر: محمدمظہر رشید چودھری
جمہوریت کا حسن اس وقت مکمل ہوتا ہے جب ہر فرد اپنی رائے کے اظہار کے حق سے واقف بھی ہو اور اسے استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے میں رائے دہی کے عمل کو مضبوط بنانا صرف سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک سماجی و معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ ضلع اوکاڑہ کا حالیہ انتخابی منظرنامہ اسی تناظر میں ایک اہم مثال بن کر سامنے آ رہا ہے۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق ضلع میں اس وقت 21 لاکھ 80 ہزار 329 ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ مگر یہ خوش آئند حقیقت اپنے اندر ایک تشویشناک پہلو بھی رکھتی ہے، کیونکہ مردوں کے مقابلے میں خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 61 ہزار کم ہے۔ یہ فرق نہ صرف صنفی توازن کی کمی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں موجود خامیوں کا بھی اظہار ہے۔سانچ کے قارئین کرام!گزشتہ روز میری گفتگوڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اوکاڑہ محمد شفیق چودھری سے ہوئی تو انہوں نے اس مسئلے کو نہایت سنجیدگی سے اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی کم تعداد ہمارے انتخابی نظام کی شفافیت اور شمولیت دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ ’اگر معاشرے کی نصف آبادی ہی خاموش رہے تو جمہوری فیصلے مکمل طور پر کیسے معتبر ہو سکتے ہیں؟‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ انتخابی عملے نے بارہا گھر گھر جا کر آگاہی مہم چلائی مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ بہت سی خواتین کا شناختی کارڈ ہی نہیں بن سکا۔یہاں سب سے اہم بات وہ ہے جو انہوں نے خاص طور پر زور دے کر کہی ”ہمیں لوگوں کو صرف ووٹ کے حق کے بارے میں نہیں بتانا بلکہ انہیں شناختی کارڈ بنوانے کی ترغیب دینا ہوگی، کیونکہ یہ صرف ووٹ نہیں بلکہ شہری حقوق کے دروازے کھولنے والی بنیادی دستاویز ہے۔“یہ نقطہ نہایت اہم ہے کیونکہ شناختی کارڈ نہ صرف ووٹ کے لیے ضروری ہے بلکہ بینک اکاؤنٹ، وراثتی حقوق، حکومتی امداد، بیمہ، ملازمت اور بے شمار شہری سہولتوں کا دروازہ بھی اسی سے کھلتا ہے۔اوکاڑہ میں خواتین کے کم ووٹر ہونے کی ایک بڑی وجہ دیہی معاشرت کا وہ رویہ ہے جس میں خواتین کو شناختی کارڈ بنوانے کے لیے باہر لے جانا اکثر مشکل سمجھا جاتا ہے۔ اس کا حل صرف نادرا کے اضافی مراکز کھولنے میں نہیں بلکہ سماجی رویوں کو بدلنے میں ہے۔ ’چاہے خواتین ہوں یا بزرگ، سب کو اس بات کی ترغیب دی جائے کہ وہ شناختی کارڈ بنوائیں، کیونکہ یہی ان کا بنیادی حق ہے۔‘اوکاڑہ میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ضرور ایک بڑی کامیابی ہے مگر اگر ایک لاکھ 61 ہزار خواتین ابھی بھی انتخابی فہرستوں سے باہر ہیں تو یہ ایک ایسا خلا ہے جسے پر کرنا محض انتظامی کوشش نہیں بلکہ معاشرتی بیداری کا تقاضا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کئی علاقوں میں خواتین کا شناختی کارڈ نہ ہونا ان کی معاشرتی کمزور حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہیں یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ ان کا شناختی کارڈ صرف ایک پلاسٹک کا ٹکڑا نہیں بلکہ ریاست کی طرف سے ان کی شناخت کا اعلان ہے۔اس ساری صورت حال میں میڈیا، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں اور مقامی نمائندوں کا کردار بھی اہم ہے۔ ہمیں دیہی برادریوں تک یہ پیغام پہنچانا ہوگا کہ خواتین کو شناختی کارڈ بنوانے سے روک کر درحقیقت ہم اپنی ہی معاشرتی ترقی کی رفتار کو سست کر رہے ہیں۔ اگر کسی گاؤں میں خواتین کے شناختی کارڈز بنوانے کے لیے اجتماعی کیمپ لگیں تو خاندان کے خاندان اس عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے کئی اضلاع میں اس طرح کے کامیاب ماڈل پہلے سے موجود ہیں جنہیں اوکاڑہ میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔سانچ کے قارئین کرام!میری رائے میں اس مسئلے کے حل کے لیے تین بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں،نمبر1: ہر یونین کونسل میں باقاعدہ آگاہی مہم چلائی جائے اور لوگوں کو بتایا جائے کہ شناختی کارڈ کے بغیر ان کی قانونی و معاشرتی حیثیت نامکمل رہتی ہے۔نمبر2: نادرا مراکز میں خواتین عملے، علیحدہ کاؤنٹرز، موبائل وینز اور خصوصی دن مقرر کیے جائیں۔نمبر3: چودھری، نمبردار، اور گاؤں کے بااثر افراد اگر خود ترغیب دیں گے تو خواتین زیادہ اعتماد کے ساتھ شناختی کارڈ بنوانے کے لیے آئیں گی۔آخر میں وہی بات جو محمد شفیق چودھری نے نہایت وضاحت سے کہی ’اگر ہم نے ووٹ کے نظام میں حقیقی شفافیت اور توازن لانا ہے تو ہمیں سب سے پہلے لوگوں کو شناختی کارڈ بنوانے کی ترغیب دینی ہوگی۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر جمہوریت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔‘اوکاڑہ کے اعدادوشمار ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ ابھی سفر باقی ہے،لیکن منزل دور نہیں، اگر ہم سب مل کر یہ ذمہ داری قبول کر لیں۔

ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اوکاڑہ محمد شفیق چودھری، کالم نگار و جرنلسٹ محمد مظہر رشید چودھری کو شناختی کارڈ کے حصول کی ترغیب سے متعلق آگاہی مہم کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے٭

محمدمظہر رشید چودھری (03336963372)

اپنا تبصرہ بھیجیں