ملک ابوبکر الیاس
پتنگ بازی کی اجازت کا فیصلہ ایک بار پھر پنجاب کی فضاؤں میں وہی لرزہ خیز خدشات بیدار کر چکا ہے جنہیں گزشتہ دو دہائیوں سے دفن سمجھا جا رہا تھا۔ پتنگ بازی کی جزوی بحالی نے ایک ایسے باب کو دوبارہ کھول دیا ہے جس کے ہر صفحے پر آنسوؤں کی سیاہی، ماؤں کی ہچکیوں اور بے بس خاندانوں کی چیخوں کے دھبے ثبت ہیں۔ ”پنجاب کائیٹ فلائنگ آرڈیننس 2025“ کا اچانک اجراء صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اہم اور خطرناک موڑ ہے جس نے حکومت کی ترجیحات،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت اور ریاستی ذمہ داری کے بنیادی ڈھانچے کو شک کی زد میں کھڑا کر دیا ہے۔یہ وہ فیصلہ ہے جس نے ایک طرف ثقافتی لطافت اور تفریح کے حامیوں میں امید کی شمع روشن کی ہے تو دوسری طرف ان گھروں میں خوف کی وہی پرانی لہر دوڑا دی ہے جن کے پیارے اس ”خونی کھیل“ کی نذر ہو چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی حکومت چند ماہ پہلے تک انہی خطرات کے پیشِ نظر قوانین میں سختیاں بڑھا رہی تھی،جرمانے بھاری کر رہی تھی،قید کی مدت میں اضافہ کررہی تھی اور ہر پلیٹ فارم سے اعلان کررہی تھی کہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی قدر نہیں مگر آج اسی حکومت نے انہی سرگرمیوں کو مشروط طور پر دوبارہ قانونی حیثیت دے کر اپنے ہی بیانیے سے انحراف کرلیا ہے۔یہ تضاد محض سیاسی یا انتظامی غلطی نہیں یہ انسانی جان کے تقدس سے متعلق بنیادی سوال ہے۔ ریاستی ذمہ داری کا پیمانہ ہمیشہ اس بات سے ناپا جاتا ہے کہ حکومت اپنے کمزور ترین شہری کی حفاظت کس حد تک یقینی بناتی ہے۔ جب کوئی سرگرمی جان لیوا ثابت ہو چکی ہو، جب اس کے نتیجے میں بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوئی ہوں، جب سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے سوار دھاتی ڈور کے ایک ٹکڑے سے دم توڑتے رہے ہوں تو پھر ایسے خونی کھیل کی دوبارہ اجازت دینا ریاستی کمزوری نہیں بلکہ ایک خطرناک جوا ہے جس کی قیمت معاشرہ ادا کرے گا۔پابندی کی بنیاد محض افواہوں یا خدشات پر نہیں رکھی گئی تھی بلکہ ان ناگہانی اموات پر تھی جنہوں نے پورے معاشرے کو صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔ 2001 ء کی پابندی کا پس منظر اگر سامنے رکھا جائے تو وہ دل دہلا دینے والی تصاویر ذہنوں میں ابھرنے لگتی ہیں جن میں نوعمر لڑکے گلیوں میں تیز دھاتی ڈور کی زد میں آکر گر پڑتے تھے، چھتوں پر کھڑے بچے اپنا توازن کھو کر زمین بوس ہوتے تھے،بجلی کی تاروں میں پھنسی ڈور کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھتی تھی اور ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز زخمیوں سے بھر جاتے تھے۔ ان واقعات کی شدت اور تکرار نے اس خیال کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا کہ پتنگ بازی ایک بے ضرر تفریح ہے۔حالیہ آرڈیننس میں بظاہر بہت سی پابندیاں،شرائط اور گائیڈ لائنز شامل ہیں مگر پاکستان کی انتظامی تاریخ گواہ ہے کہ قوانین جتنے چاہیں سخت اور تفصیلی بنالیے جائیں،ان پر سو فیصد عمل درآمد ہمیشہ ایک سوالیہ نشان ہی رہتا ہے۔ پولیس کی نفری محدود،وسائل ناکافی، نگرانی کے نظام میں خامیاں اور سب سے بڑھ کر پتنگ سازی اور دھاتی ڈور تیار کرنے والوں کا منظم زیر زمین نیٹ ورک یہ سب عوامل اس کھیل کو کسی بھی ضابطے کے اندر لانے کی راہ میں دیوار بنے رہے ہیں۔ان عناصر نے گزشتہ بیس سال کے دوران نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکا دیا بلکہ ہر بہار میں پوری طاقت سے دوبارہ متحرک ہو گئے۔حقیقت یہ ہے کہ دھاتی ڈور اور کیمیکل ڈور تیار کرنے والے کارخانے آج بھی مختلف آبادیوں میں خفیہ طور پر کام کرتے ہیں۔ پولیس آپریشن کی اطلاع اکثر پہلے ہی وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں چھاپہ مارا جانا ہوتا ہے اور ضبط شدہ سامان کی جگہ فوراً نیا مال تیار ہو جاتا ہے۔ایسے میں یہ یقین کرنا کہ محض ایک آرڈیننس اس پورے نیٹ ورک کو ختم کر دے گا یا اس کے خطرات کو مکمل طور پر بے اثر بنا دے گا،ایک خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔یہ مسئلہ محض ضابطوں کا یا انتظامی کمزوری کا نہیں بلکہ انسانی جان کی حرمت کا ہے۔ وہ ماں جس کے نوجوان بیٹے کی گردن دھاتی ڈور سے کٹ گئی تھی،وہ باپ جو اپنے بچے کے چھت سے گر کر مر جانے کے غم میں بوڑھا ہو گیا،وہ بہنیں جن کے بھائی گلیوں میں تڑپتے رہے،وہ خاندان جن کی خوشیاں ایک لمحے میں ماتم میں بدل گئیں ان سب کے زخم آج بھی ہرے ہیں،ان کا درد آج بھی تازہ ہے،ان کی چیخیں آج بھی خاموش نہیں ہوئیں۔ ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے فیصلے کرے جو ان زخموں پر مرہم رکھیں نہ کہ انہیں مزید گہرا کر دیں۔یہ کہنا کہ حکومت زیادہ مؤثر نگرانی کرے گی، جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گی یا ہر محلے میں سخت پابندیاں نافذ ہوں گی یہ سب وعدے پہلے بھی کیے گئے تھے مگر نتائج سب کے سامنے ہیں۔ ماضی میں جب سخت ترین قوانین موجود تھے تب بھی ہر سال اموات ہوتی رہیں،زخمیوں کی تعداد بڑھتی رہی، پولیس کے چھاپے ناکام ہوتے رہے اور خطرات اپنی جگہ قائم رہے۔ پھر ایسا کون سا معجزہ ہو جائے گا کہ نئے آرڈیننس کے بعد یہ تمام مسائل اچانک ختم ہو جائیں گے؟قانونی ماہرین کی رائے بھی یہی ہے کہ جب کوئی حکومت کسی خطرناک سرگرمی کو قانونی جواز دیتی ہے تو اس کے نتیجے میں ہونے والے ہر نقصان کی ذمہ داری بھی قبول کرنا پڑتی ہے۔اگر مستقبل میں پھر کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے.اگر کسی بچے کی گردن دھاتی ڈور سے کٹتی ہے.اگر کوئی نوجوان سڑک پر گرتا ہے. اگر کسی خاندان کا چراغ گل ہوتا ہے تو کیا یہ سب محض ”حادثہ“ کہلا سکتا ہے؟ یا یہ ایک ایسے فیصلے کا براہ راست نتیجہ ہو گا جسے بہتر نتائج کے بغیر نافذ کردیا گیا؟اخلاق، مذہب اور انسانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسانی جان کو ہر تہوار،ہر ثقافتی سرگرمی اور ہر تفریح پر مقدم رکھا جائے۔ قرآن مجید کی سورۃ المائدہ کی آیت 32 اس اصول کی بہترین وضاحت کرتی ہے کہ ایک جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے اس کے برعکس اگر کوئی فیصلہ انسانی جان کے ضیاع کے خطرے میں اضافہ کرے تو وہ نہ صرف انتظامی ناکامی بلکہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری سے چشم پوشی ہے۔ثقافت اپنی جگہ،تفریح اپنی جگہ،بہار کا رنگ اپنا مقام رکھتا ہے مگر جان کی حرمت ان سب سے بالا تر ہے۔ ایک ایسی سرگرمی جو بیس سال تک ”خونی کھیل“ کہلانے کے بعد پابندیوں کے باعث کسی حد تک ختم ہوئی تھی،اسے محض چند شرائط لگاکر دوبارہ کھول دینا اجتماعی دانش کے خلاف ہے۔ یہ فیصلے کبھی وقتی خوشگوار فضا تو پیدا کر سکتے ہیں مگر ان کے نتائج دہائیوں تک معاشرے کو جھیلنے پڑتے ہیں۔پاکستان کا معاشرتی و مذہبی تناظر بھی اس فیصلے کو مزید پیچیدہ بنادیتا ہے۔ بسنت کسی دوسرے ملک یا ثقافت کا تہوار ہو سکتا ہے مگر ہمارے مذہبی اور سماجی ڈھانچے میں اس کا کوئی ایسا جواز موجود نہیں جو انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اسے منایا جائے۔ پاکستان کی سلامتی، معاشرتی ہم آہنگی اور اسلامی اصولوں کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے رسم و رواج کو فروغ نہ دیا جائے جس کے نتیجے میں قیمتی زندگیاں ضائع ہوں۔لہٰذا عوامی سلامتی کے وسیع تر مفاد میں ضروری ہے کہ حکومت اس آرڈیننس پر فوری نظرثانی کرے۔ریاست کا سب سے بڑا فرض اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہے نہ کہ انہیں ایسے خطرات کے حوالے کر دینا جن کے نتائج پہلے ہی تاریخ میں ثبت ہیں۔ اگر اس نرمی کے نتیجے میں کوئی ایک بھی جان چلی گئی تو نہ تاریخ معاف کرے گی اور نہ وہ خاندان جن کے گھر پھر اندھیروں میں ڈوب جائیں گے۔انسانی جان کی حرمت ہر قانون،ہر روایت اور ہر آرڈیننس سے بڑھ کر ہے۔ اسے پامال کر کے ہم نہ صرف اپنے ماضی کے زخم تازہ کریں گے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اسی خون آلود کھیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے اور یہ غلطی ایسی ہوگی جس کی تلافی کبھی ممکن نہیں۔
Load/Hide Comments

