تحریر: رشیداحمدنعیم
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کا سلسلہ کوئی نئی داستان نہیں مگر 10 دسمبر کے عالمی یومِ انسانی حقوق کے موقع پر اس ظلم کی سنگینی اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی ایک ایسا شرمناک تضاد بن کر اُبھرتی ہے جو انسانیت کے سارے دعوؤں، ساری قراردادوں اور ساری بین الاقوامی تنظیموں کے چہروں سے نقاب نوچ لیتا ہے۔ آج جب دنیا انسانی حقوق کا دن منا کر تقریروں اور دعوؤں کی فصیلیں کھڑی کرے گی توکشمیر کی برف پوش وادیوں میں معصوموں کا گرم خون یہ سوال دہراتا نظر آئے گا کہ جب انسانی حقوق کی کتاب کا سب سے پہلا ورق کشمیر میں جلایا جا رہا ہو تو باقی ابواب کا جشن کس منہ سے منایا جا رہا ہے؟مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ برسوں نہیں بلکہ دہائیوں سے ہو رہا ہے وہ ظلم کی ایک ایسی داستان ہے جسے پڑھ کر چشمِ فلک بھی آنسو بہانے پہ مجبور ہو جاتی ہے۔ مسلسل کرفیو جیسا ماحول، گھروں پر چھاپے، نوجوانوں کو اٹھا کر غائب کر دینا، اجتماعی قبریں، پیلٹ گنز سے معصوم آنکھوں کا نور چھین لینا، عورتوں کی عزتوں کی پامالی، جوانوں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں، بوڑھے والدین کے سہاروں کا چھن جانا اور معصوم بچوں کے چہروں پرداغِ یتیمی یہ وہ زخم ہیں جن کو بڑے بڑے انسانی حقوق کے عَلَم بردار بھی دیکھ کر،سن کر،جان کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ کشمیر کے چپے چپے سے وحشت ٹپکتی ہے۔وادی کے ہر موڑ پر موت کا رقص جاری ہے۔ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے مگر افسوس کہ عالمی طاقتیں بے حسی کی تصویر بنی بیٹھی ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیمیں شرمناک حد تک خاموش ہیں اور اقوام متحدہ اپنی روایتی بے حسی کا شکار ہے۔یسوال یہ ہے کہ آخر عالمی ضمیر اس قدر بے حس کیوں ہے؟ کیا انسانی حقوق کی اقوام متحدہ والی دستاویز میں کشمیری انسان شمار نہیں ہوتے؟ کیا بھارتی فوج کے ہاتھوں کچلے جانے والے نوجوان انسان نہیں؟ کیا ان کی مائیں مائیں نہیں؟ یا پھر دنیا کی طاقتوں نے ”انسان“ کی تعریف کو اپنے سیاسی مفادات کے ترازو میں تول کر محدود کر دیا ہے؟ انسانی حقوق کے عالمی دن پر دنیا کے بڑے بڑے حکمران و ادارے آزادی، مساوات، عدل اور انسانی حرمت کے لیکچر دیتے نہیں تھکتے ہیں مگر کشمیر کے معاملے میں ان کی زبانوں پر تالے پڑ جاتے ہیں۔ یہ تالے محض خاموشی نہیں یہ شریکِ جرم ہونے کی علامت ہیں۔بھارت کا ”جمہوریت“ کا لبادہ دراصل ایک ایسا نقاب ہے جس کے پیچھے ریاستی دہشت گردی کا ایک سفاک چہرہ چھپا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج تک کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیتی ہیں مگر بھارت اسے دباؤ، تشدد اور فوجی قبضے کے ذریعے اپنے ملک کا حصہ ثابت کرنے پر مصر ہے۔ اُس نے وہاں نہ صرف آبادی کا تناسب بدلنے کی منظم کوشش کی بلکہ آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر کے کشمیریوں کی شناخت، ان کی زمین اور ان کے حقوق پر کھلا حملہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس غیرقانونی اقدام پر صرف پریس ریلیز جاری کر کے بری الذمہ ہوگئیں ہیں جیسے چند سطریں کشمیریوں کے زخموں پر مرہم بن جائیں گی۔سچ تویہ ہے کہ کشمیر عالمی طاقتوں کی ترجیح نہیں اس لیے انسانی حقوق کی دہائی ان کے لیے محض دکھاوئے کا شور ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کے مفادات کا مرکز وہ خطے ہیں جہاں سے تجارتی گزرگاہیں گزرتی ہیں، جہاں ہتھیاروں کی تجارت پھلتی ہے، جہاں سرمایہ کاری کے دروازے کھلتے ہیں۔ کشمیر چونکہ ان کے معاشی ایجنڈے میں فٹ نہیں بیٹھتالہٰذا یہاں بہنے والا خون ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے ا۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسانی حقوق کی ساری بنیادیں لرز جاتی ہیں۔ جہاں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ انسانی حقوق کی جنگ دراصل ”انسان“ کی نہیں بلکہ ”مفاد“ کی جنگ ہے۔اقوام متحدہ کا کردار اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ دنیا کے بڑے تنازعات میں اس کا رویہ ہمیشہ ”نوٹس لینے“ یا ”تشویش ظاہر کرنے“ تک محدود رہا ہے۔ کشمیر کے معاملے میں بھی یہی روش جاری ہے۔ ستر سال سے زیادہ ہو گئے ہیں مگر قراردادیں فائلوں میں لگی گرد سے باہر نہیں نکل سکیں ہیں۔ کبھی کسی سیشن میں چند الفاظ ادا کر دیے جاتے ہیں یاکبھی رپورٹس کا ڈھیر لگا دیا جاتا ہے مگر عملی مداخلت؟ وہ شاید کبھی اقوام متحدہ کے دائرہ کار میں شامل ہی نہیں رہی ہے۔ اگر اقوام متحدہ واقعی انسانی حقوق کے عالمی دن کو معنی خیز بنانا چاہتا تو سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر کی وادی میں انسانیت کے خلاف جاری اس مسلسل جرم کو روکتا مگر ایسا نہ کیا گیاکیونکہ عالمی سیاست میں انسانی حقوق صرف ایک ”آلہ“ بن کر رہ گئے ہیں جیسے مرضی ہو استعمال کر لیا جائے۔اقوام عالم کی خاموشی سے بڑھ کر ظالمانہ کردار بھارت کا ہے جس نے ریاستی طاقت کو بندوق، گولی، ٹارچر سیل اور ہتھکڑی کے ذریعے ایک آزمائش میں بدل دیا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنا وہاں معمول ہے۔ ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ ان کے والدین کی زندگی کرب میں گزررہی ہے مگر دنیا انہیں محض ”شماریاتی اعداد“ سمجھ کر نظرانداز کر دیتی ہے۔ پیلٹ گنز کی گولیاں ان بچوں پر برسائی جاتی ہیں جنہوں نے ابھی اسکول کے الفاظ تک سیکھے ہوتے۔ ان کی آنکھوں سے اُجالا چھین کر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ شاید وادی کی صبح بھی ہمیشہ کے لیے اندھیری ہو جائے گی۔ مگر ظلم کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہر تاریکی کے دل میں روشنی کا بیج چھپا ہوتا ہے۔انسانی حقوق کے عالمی دن پر سب سے بڑا دھوکا یہی ہے کہ دنیا انصاف، آزادی اور احترامِ آدمیت کا نعرہ بلند کرتی ہے مگر کشمیر کی چیخیں اسے سنائی نہیں دیتیں ہیں۔ یہ کیسا دن ہے جس میں تقریریں تو گونجتی ہیں مگر سچائی دب کر رہ جاتی ہے؟ یہ کیسا عالمی دن ہے جس میں حقوق کی دہائی دی جاتی ہے مگر 80 لاکھ کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی پر مجرمانہ سکوت طاری رہتا ہے؟ یہ دن ایک سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہے کہ جب طاقتور ظالم ہو اور عالمی ادارے خاموش رہیں تو انسانی حقوق کا تصور خود مذاق بن جاتا ہے۔دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیر محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کا امتحان ہے۔ یہ امتحان عالمی طاقتیں بار بار دے رہی ہیں اور ہر بار ناکام ہو جاتی ہیں۔ اگر انسانی حقوق کی حقیقت یہی ہے کہ فلسطین، شام، یمن اور کشمیر کے انسان کم درجے کے سمجھے جائیں تو پھر دنیا کو یہ دن منانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں۔ انسانی حقوق کی اصل روح تب ہی زندہ رہے گی جب ہر مظلوم کی چیخ کو یکساں اہمیت دی جائے۔ جب کشمیر کے معصوم بچوں کا خون اتنا ہی قیمتی سمجھا جائے جتنا کسی یورپی یا امریکی شہری کی جان قیمتی تصور کی جاتی ہے۔ 10 دسمبر اسی لیے ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ دنیا نے اپنی ہی بنائی ہوئی اقدار سے منہ موڑ لیا ہے۔ بھارت کی ریاستی جارحیت نے کشمیر میں قیامت برپا کر رکھی ہے، مگر دنیا اس قیامت پر آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ کشمیر کا المیہ محض ظلم کی شدت نہیں بلکہ ظلم پر عالمی خاموشی ہے۔ یہی خاموشی سب سے بڑا جرم ہے اگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں کشمیر میں بھارتی فورسز کی کارروائیوں کو منظم نسل کشی قرار دے کر عملی اقدامات نہیں کرتیں، اگر اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل کرانے کی سکت نہیں رکھتا، اگر عالمی طاقتیں ظلم کے مقابلے میں تجارتی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں تو پھر انسانی حقوق کا عالمی دن صرف ایک کھوکھلا نعرہ ہے، ایک بے جان تقریب ہے، ایک ایسا سیاہ طنز جو ہر کشمیری دل کو چھلنی کرتا ہے۔آج دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا: کیا انسانی حقوق محض کتابی آدرش ہیں؟ یا ان کی کوئی عملی حیثیت بھی ہے؟ اگر انسان کی حرمت واقعی مقدس ہے تو کشمیر میں جاری بربریت پر خاموشی کی گنجائش نہیں۔ اگر انصاف ایک آفاقی اصول ہے تو اسے کشمیر کی وادی تک بھی پہنچنا چاہیے۔ اگر آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے تو پھرکشمیر کے لوگوں کو بھی اس حق سے محروم رکھنا ظلمِ عظیم ہے۔کشمیر آج بھی دنیا کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں اقوام متحدہ کا ”سیاہ“کردار نظر آتا ہے، عالمی طاقتوں کی منافقت جھلکتی ہے، انسانیت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی اصل چہرہ کشائی ہوتی ہے اور انسانی حقوق کا دوغلا معیار صاف دکھائی دیتا ہے۔ کشمیر کی وادی دنیا کو پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یا تو انسانی حقوق کے عالمی دن کو معنی خیز بناؤیا پھر اس دن کو منانا چھوڑ دوکیونکہ اس کے منانے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔یہ وادی آج بھی انتظار میں ہے کہ کبھی تو دنیا کی آنکھوں سے پٹی ہٹے گی، کبھی تو عالمی ضمیر جاگے گا، کبھی تو انسان کو انسان سمجھا جائے گا، کبھی تو انسانیت اپنا اصل مفہوم پائے گی۔ ورنہ تب تک کشمیر کا ہر دن، ہر رات، ہر چیخ، ہر آنسو انسانیت کے عالمی دن پر دنیا کے جھوٹے دعوؤں کے خلاف ایک کڑوا استغاثہ بنی رہے گی۔

