سانچ: سیلاب متاثرین کی بحالی، ایک امید افزا پیش رفت

تحریر: محمد مظہررشید چودھری

پنجاب میں سیلاب سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی بحالی کے لیے شروع کیا گیا حکومتی پروگرام اب تکمیل کے قریب ہے۔ اوکاڑہ میں حال ہی میں دریائے راوی اور ستلج کے متاثرہ خاندانوں میں امدادی پے آرڈرز کی تقسیم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہ عمل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے تحت جاری ہے، جن کا واضح مؤقف ہے کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے کسی بھی خاندان کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جائے گا۔ یہ وہ بات ہے جس کا عملی اظہار ضلع بھر میں جاری امدادی سرگرمیوں سے بخوبی نظر آ رہا ہے۔اوکاڑہ میں سیلاب سے متاثر ہونے والے 1316 خاندانوں میں 11 کروڑ سے زائد مالیت کے پے آرڈرز کی تقسیم نہ صرف ایک انتظامی ذمہ داری ہے بلکہ یہ انسانی ہمدردی کا بھی تقاضا تھا۔ کسی بھی بڑے قدرتی سانحے کے بعد متاثرین کے پاس زندگی کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے وسائل کا نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ بنتا ہے۔ ایسے میں حکومت کا بروقت اور مربوط امدادی نظام متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہوتا ہے۔ اس موقع پرڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شجعین وسطرو اور اسسٹنٹ کمشنر احمد شیر بھی موجود تھے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس عمل کو کتنی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔سیلاب زدہ علاقوں میں انتظامیہ کی موجودگی اور براہ راست نگرانی سے اس بات کی یقین دہانی ہوتی ہے کہ امداد اصل مستحقین تک پہنچے۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر امدادی پروگراموں میں بد انتظامی، تاخیر اور بے ضابطگی کے شکوے زبان زد عام رہتے ہیں، لیکن اوکاڑہ میں جاری اس پروگرام کو جس شفافیت اور رفتار کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کا یہ کہنا کہ امداد کی تقسیم میں کسی قسم کی غفلت یا بے قاعدگی برداشت نہیں کی جائے گی، اسی عزم کا اظہار ہے۔سیلاب متاثرین نے بھی اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے اقدامات پر اظہار تشکر کیا۔ انتظامیہ اور عوام کے درمیان یہ اعتماد ہی کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب متاثرین یہ محسوس کریں کہ حکومت ان کی تکالیف کو سمجھ رہی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی، تو یہ احساس ہی انہیں ایک نئی قوت دے دیتا ہے۔اس پروگرام کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ متاثرین کو ان کا حق عزت اور احترام کے ساتھ پہنچایا جائے۔ حقیقت میں امداد حاصل کرنے والا شخص حالات کا شکار ہوتا ہے اور عزتِ نفس اس کا بنیادی حق ہے۔ حکومت پنجاب نے اس حوالے سے جس حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ امدادی رقوم کی تقسیم بغیر ہجوم، بغیر تذلیل اور بغیر غیر ضروری سختیوں کے کی جا رہی ہے، جسے دوسرے اضلاع کے لیے بھی ایک ماڈل کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔انتظامیہ کاکہنا ہے کہ اگر کسی متاثرہ شخص کو امدادی کاروائیوں کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ ضلعی کنٹرول روم سے رابطہ کر سکتا ہے۔ عام طور پر سرکاری دفاتر تک رسائی مشکل تصور کی جاتی ہے مگر کنٹرول رومز کا فعال ہونا نہ صرف شفافیت بڑھاتا ہے بلکہ شکایات کا فوری حل بھی ممکن بناتا ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سیلاب جیسے سانحات نے نہ صرف فصلوں کو نقصان پہنچایا بلکہ گھروں، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید متاثر کیا۔ ایسے میں یہ امدادی رقوم اگرچہ مکمل بحالی کی ضمانت نہیں مگر ایک مضبوط سہارا ضرور ثابت ہو سکتی ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری صرف امداد دینا نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کی مکمل بحالی تک ان کے ساتھ کھڑا رہنا ہے۔ وہ وقت تب آئے گا جب یہ خاندان دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے اور زندگی کی گاڑی ایک بار پھر روانی سے چلنے لگے گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑے کام کیے جا سکتے ہیں۔ سیلاب متاثرین کی بحالی جیسے حساس معاملے میں وقت پر فیصلہ اور فوری عملدرآمد سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے، اور اوکاڑہ میں اس کی بہترین مثال پیش کی گئی ہے۔امید کی جا سکتی ہے کہ یہ سلسلہ صرف مالی امداد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں ایسے اقدامات بھی کیے جائیں گے جو ان علاقوں کو دوبارہ سیلاب کے خطرے سے بچا سکیں۔ مستقل اقدامات، مضبوط حفاظتی ڈھانچے اور بہتر پیش بندی وہ چیزیں ہیں جن سے آئندہ ایسے سانحات کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ضلع اوکاڑہ کی حالیہ حکومتی سرگرمیوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر انتظامیہ، عوام اور حکومت ایک سمت میں کھڑے ہو جائیں تو مشکلات چاہے کتنی بڑی کیوں نہ ہوں، ان کا حل ضرور نکلتا ہے۔ یہ اقدامات متاثرین کے لیے نئے حوصلے اور نئی امید کا باعث ہیں۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ اس تسلسل کو برقرار رکھے تاکہ بحالی کا یہ سفر ہر متاثرہ خاندان کے دل تک پہنچ سکے

محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

اپنا تبصرہ بھیجیں