عاطف لیاقت انصاری
طارق علی انصاری، آڈٹ آفیسر سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ ضلع قصور ایک ایسے انسان تھے جن کی شخصیت اپنے اندر خلوص، خدمت اور انسانیت کا بے مثل امتزاج رکھتی تھی۔ وہ اپنے ہر قول و فعل میں دردمندی،ایثار اور ملنساری کی عملی تصویر تھے۔ضرورت مندوں کی مدد کرنا وہ صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے اپنی زندگی کا مقصد جانتے تھے۔ یہی غیر معمولی جذبہ خدمت انہیں معاشرے میں ایک منفرد مقام عطا کرتا تھا۔ بچے ہوں یا بزرگ، ساتھی افسران ہوں یا عام شہری ہر دل میں ان کے لیے احترام، محبت اور عقیدت کے جذبات یکساں پائے جاتے تھے۔گزشتہ برس جب میں برتھ ڈے نائٹ پاؤں میں فریکچر کی وجہ سے دسمبر کی سرد رات تقریباً ساڑھے نو بجے لنگڑا کر آہستہ آہستہ اپنے گھر کی طرف آرہا تھا تو میں نے دیکھا کہ بھائی طارق علی انصاری اپنے نئے تعمیر شدہ گھر کی چھت پر پانی لگارہا ہے۔ دل میں ارمان ہو گا کہ میرے اور میرے بچوں کا گھر ہے سردی گرمی کی پروا کیے بغیر لگا تھا.اس سے پہلے کئی بار گہری خاموشی میں میں اور میرا بھائی طارق علی انصاری آمنے سامنے بیٹھے دیر تک باتیں کرتے رہتے تھے۔ایک شام کمرے میں پیلی روشنی کا ایک چراغ جل رہا تھا اور کھڑکی کے پار ٹھنڈی ہوا کے جھونکے شاخوں کو ہلا رہے تھے۔بھائی طارق حسبِ معمول اپنی نرم مگر فکر آلود آواز میں بات کر رہا تھا۔وہ اکثر اپنے اندر چھپے دکھوں کو ہنسی میں ڈھال کر بیان کرتا تھا مگر اس رات اس کے لہجے میں کسی انجانی بے چینی کی خفیف سی لرزش موجود تھی۔وہ کہہ رہا تھا کہ آج کل دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی بڑھتی جا رہی ہے۔ ”مجھے حیرت ہوتی ہے’‘ وہ کہنے لگا ”جو لوگ اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر بڑے شہروں میں بس جاتے ہیں،انہیں اپنے گاؤں،اپنی مٹی،اپنے بزرگوں کی خیریت کیسے معلوم ہوتی ہوگی“؟میں نے اسے دلجمعی سے سنا۔ یہ اُس کی عادت تھی کہ وہ دوسروں کے دکھوں اور سوالوں میں اس قدر دلچسپی لیتا کہ یوں محسوس ہوتا جیسے دنیا کا ہردرد اُسی کے دل پر بوجھ بن گیا ہو۔ وہ گاؤں کے بزرگوں،کسانوں،مزدوروں اور ان سب لوگوں کے بارے میں فکرمند رہتا جنہیں وہ کبھی ملا بھی نہیں تھا۔اس کی سوچ میں ایک عجیب وسعت تھی۔شاید وہ جانتا تھا کہ انسان صرف رشتوں سے نہیں بنتا وہ مٹی، یادوں، گلیوں،کھیتوں اور ان گمنام چہروں سے بھی بنتا ہے جو اس کی زندگی کو خاموشی سے معنی دیتے ہیں۔اس رات اس نے اپنے مرحوم دوست سلیم شاہ کا ذکر بھی کیا۔اس کا چہرہ اس وقت ہلکی سی مسکراہٹ سے جگمگا اٹھا۔ ”سلیم بڑا عجیب آدمی تھا“ وہ ہنسا ”ہم دونوں جب بھی ملتے، یوں لگتا جیسے برسوں کی جدائی ایک پل میں ختم ہوگئی ہو۔“ پھر اس کی آنکھوں میں نمی سی ابھر آئی۔اس نے کہا، ”پتہ ہے کبھی کبھی لگتا ہے کہ سلیم کہیں آس پاس ہی ہے جیسے وہ ہم سے زیادہ دور نہیں گیا“.اس جملے میں ایک ایسی کیفیت تھی جیسے وہ اپنی ذات کے اندر چھپی ہوئی کسی پیش گوئی کو محسوس کررہا ہو۔ جیسے اسے وہ وصال نظر آرہا ہو جسے ہم میں سے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔رات بیتتی گئی۔ ہم نے کتنی ہی باتیں کیں بچپن کی شرارتوں سے لے کر جوانی کے خوابوں تک اور پھر ان ذمہ داریوں تک جو ہماری زندگیوں کا رُخ بدل دیتی ہیں۔میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہی آخری رات ہوگی جب میں اس کی آواز، اس کا قہقہہ،اس کی فکر مندی اور اس کی زندہ دلی کو اس طرح محسوس کررہا ہوں گا۔ زندگی کبھی کبھی بہت عجیب کھیل کھیلتی ہے۔ہم لمحوں کو معمول سمجھ کر گزار دیتے ہیں مگر بعد میں جب وہی لمحات یادوں کے سمندر میں ڈوبتے ابھرتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ وہی سب سے قیمتی تھے۔رات ڈھلی اور میں سو گیا۔ کاش میں جاگتا رہتا۔کاش میں اس سے کچھ اور باتیں کرتا۔ کاش میں اُس کے چہرے کو کچھ دیر اور دیکھ لیتا لیکن زندگی کا اپنا بہاؤ ہے۔ہر رات کی کوئی نہ کوئی سحر ضرور ہوتی ہے مگر آہ! کاش اس خاص رات پر دن کبھی طلوع نہ ہوتا! کیونکہ اُس طلوع ہونے والے دن نے ہماری زندگیوں کا سب سے دل چیر دینے والا منظر ہمارے آگے رکھ دیا۔صبح ابھی پوری طرح روشن بھی نہیں ہوئی تھی کہ دروازے پر ایک ایسا دھماکے دار شور اٹھا کہ ہمارا دل کانپ اٹھا۔ بھائی طارق کا بیٹا عزیر طوفان کی طرح دروازہ پیٹ رہا تھا۔میں نے گھبرا کر دروازہ کھولا تو وہ ہانپتا ہوا اندر آیا۔اس کی آنکھوں میں خوف،بے بسی سوال اوروہ سناٹا تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ وہ چیخ کر بولا ”چچا میرے پاپا نہیں اٹھ رہے!“ہہ جملہ جب میرے کانوں سے ٹکرایا تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہو۔ میں دوڑتا ہوا بھائی طارق کے کمرے میں پہنچا۔وہ اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا ایسے پرسکون، جیسے برسوں کے تھکے ہوئے سفر کے بعد بالآخر چین کی نیند سو گیا ہو۔ اس کے چہرے پر وہی مانوس مسکراہٹ تھی جو اکثر اس کے لبوں پر آتی تھی مگر اس مسکراہٹ میں زندگی کی جنبش نہیں تھی۔ اس کی سانس رک چکی تھی۔ اس کا ہاتھ ٹھنڈا پڑچکا تھا۔اس لمحے دنیا رک گئی۔ایسا محسوس ہوا جیسے وقت نے میرے گرد اپنے پاؤں جم کر مجھے بے بس چھوڑ دیا ہو۔ میں نے اس سے کچھ کہنا چاہا،اس کو جھنجھوڑ کر اٹھانا چاہا، اسے بتانا چاہا کہ ابھی تو اس نے بہت کچھ کہنا تھا بہت ہنسنا تھا بہت سے خواب ابھی ادھورے تھے مگر وہ خاموش تھا مکمل خاموش اور ایسے خاموش جیسے وہ دنیا کے ہر شور سے آزاد ہو چکا ہو۔عزیر کی سسکیاں، گھر میں چھائی سناٹے کی چیخ، امی کی بے ہوشی اور ہم سب کے قدموں کی لرزش وہ سب منظر آج تک میرے دل کے اندر اسی شدت سے محفوظ ہے۔ کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا جب میں سوچتا نہ ہوں کہ وہ رات اگر تھوڑی اور لمبی ہوتی وہ سحر اگر ذرا دیر سے آتی وہ دن اگر کبھی طلوع نہ ہوتا تو شاید آج بھائی طارق ہمارے ساتھ ہوتا۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ موت اتنی چپکے سے کیوں آتی ہے؟ کیوں وہ لمحہ کسی آواز کے بغیر انسان کی رگوں میں داخل ہو کر زندگی کی پوری روشنی بجھا دیتا ہے؟ پا طارق علی انصاری تو ایسا شخص تھا جو ہر ایک کے لیے روشنی کا ذریعہ تھا۔اس نے کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا، کبھی کسی سے بلند آواز میں بات نہیں کی، کبھی کسی کا دل نہیں توڑا۔وہ عام انسان نہیں تھا وہ ایک پورا جہان تھا- محبت کا،خلوص کا،فکر کااور اخلاق کا جہان۔اب جب میں اس کے بغیر زندگی کے دن گزارتا ہوں تو ہر روز محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میرے وجود کا کوئی حصہ کٹ گیا ہے۔ گھر کی دیواریں بھی اس کے بغیر ویران لگتی ہیں۔ وہ ہنسی جو اس کی آمد سے گھر میں گونجتی تھی،وہ مسکراہٹ جو محفل کو روشن کرتی تھی،وہ گفتگو جس میں سادگی بھی ہوتی تھی اور دانش بھی سب کچھ دفعتاً خاموش ہوگیا۔میں جب کبھی کھڑکی سے باہر دیکھتا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا ”زندگی بس ایک سفر ہے جو لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں وہ پیچھے رہ جانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔“ شاید وہ اپنے لیے ہی کہہ رہا تھا شاید اس نے بے خبری میں ہمیں سمجھا دیا تھا کہ اس کا جسم تو جاتا رہے گا مگر اس کی یادیں ہمارے اندر سانس لیتی رہیں گی۔آج ایک برس بعد بھی اس کے بغیر دنیا ویسی نہیں رہی۔ شامیں لمبی اور راتیں ویران ہو گئی ہیں۔ زندگی میں ہنسی باقی ہے مگر سچ پوچھیے تو اس کی گونج بدل گئی ہے۔ دکھ اپنی جگہ پر موجود ہے مگر شکر بھی ہے کہ اللہ نے ہمیں پا طارق علی جیسی نعمت سے نوازا۔ کچھ لوگ دنیا میں آتے ہیں اور اپنے جانے کے بعد بھی صدیوں تک دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ بھائی طارق انہی میں سے تھا۔میں جب کبھی اس آخری رات کو یاد کرتا ہوں تو دل بیٹھ جاتا ہے۔ وہ رات ایک تکلیف دہ رات تھی جو ہم نے جیتے جی محسوس کی مگر سمجھ نہ سکیاور وہ صبح قیامت تھی جس نے ہم سے وہ شخص چھین لیا جس کے بنا ہماری زندگی پہلے جیسی کبھی نہیں ہو سکتی۔طارق علی چلا گیا مگر اس کی مسکراہٹ،اس کی فکر مندی، اس کی نرم آواز،اس کا محبت بھرا دل سب کچھ آج بھی ہمارے ساتھ ہے۔وہ جہاں بھی ہے شاید مسکرا رہا ہوگا۔ شاید وہ کہہ رہا ہوگا کہ دنیا کا سفر عارضی ہے مگر محبتیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور ہم جو اسے یاد کرتے ہیں ہم اس کی محبت کے سب سے بڑے وارث ہیں۔طارق علی انصاری کی رخصت نے صرف ایک گھر کو نہیں، دلوں کے ایک پورے کارواں کو سوگوار کردیا۔ وہ چلا گیا مگر اپنے پیچھے وہ خوشبو چھوڑ گیا جو نہ وقت مٹا سکتا ہے نہ فاصلے کم کر سکتے ہیں۔اس کا اخلاق، اس کا خلوص،اس کی خدمت،اس کی مسکراہٹ یہ سب آج بھی اسی طرح ہمارے دلوں میں زندہ ہیں جیسے وہ خود ہمارے سامنے بیٹھا مسکرا کر باتیں کر رہا ہو۔ کچھ لوگ اپنی زندگیوں سے نہیں،اپنے کردار سے یاد رکھے جاتے ہیں اور بھائی طارق انہی میں سے ایک تھا۔وقت گزر جاتا ہے مگر کچھ خلا کبھی پر نہیں ہوتے۔ اس کا نہ ہونا آج بھی ایک محرومی ہے مگر اس کی یاد ایک ایسی روشنی ہے جو ہمارے اندر امید جگاتی ہے، ہمت بخشتی ہے اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل زندگی محبت،انسانیت اور خدمت میں ہے۔ وہ چلا گیا مگر اس کے نقشِ قدم ہمیشہ ہمیں راہ دکھاتے رہیں گے۔دعا ہے کہ اللہ اسے اپنی رحمت کے سائے میں ہمیشہ کیلئے آباد رکھے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم بھی اس کی چھوڑی ہوئی محبت اور خلوص کی روشنی کو آگے لوگوں کی خدمت کے لیے منتقل کر سکیں۔ ایسے لوگ دنیا میں کم آتے ہیں اور جب جاتے ہیں تو دلوں پر اپنی ابدی موجودگی لکھ کر جاتے ہیں۔ بھائی طارق انصاری بھی انہی میں سے تھا ایک چراغ جو بجھا نہیں صرف کہیں اور روشنی پھیلانے چلا گیاہے۔

