قادربخش بلوچ
دنیا کے کئی ممالک ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہیں۔جن میں شاہد اتنی دم خم نہیں کہ وہ خود کو اس الجھن میں نکال سکیں۔۔شام مصر ایران۔اور بھی کافی جہان ہیں جو اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکتے۔ستر کے اواہل تک دنیا قدرے بہتر تھی۔البتہ ویتنام اور امریکی معرکے ضرور چل رہے تھے۔لیکن جنوبی ایشیا تقریبا پر سکون تھا۔ہاں سوویت۔امریکی۔سرد جنگ جاری تھی ۔یہی سرد جنگ کے بعد امریکہ نے بادشاہت کا دنیا وی تاج پہنا۔یہ یہی تاج ھے جو کسی زمانے میں برطانوی سلطنت کا سورج غروب ہونے نہیں دیتا تھا۔۔ایک رپورٹ کے ہمارے چاروں صوبوں میں سترہ ضلع جو بد ترین افلاس کی زد میں ہیں۔بلوچستان۔میں ہیں۔وجہ کیا ھے۔کیا بلوچستان کے عوامی نمائندے اپنی حق نماہندگی ادا نہیں کر رہے۔کیا عوامی نمائندے عوام سے غافل ہیں۔۔اخر کوئی وجہ تو ہوسکتی ھے۔ہنوز تربت پورے بلوچستان میں واحد خطہ ھے کہ جو ہر لحاظ سے پورے بلوچستان میں ترقی کے لحاظ سے انتہائی بہتر ھے۔۔اور تربت کی بہتری کا سہرا ڈاکٹر مالک بلوچ کے سر سجتا ھے۔مالک بلوچ نے وزیر اعلی بننے سے پہلے تربت میں علمی کام شروع کئے تھے۔دنیا کی تاریخ بتاتی ھے کہ ترقی کی بنیاد۔تعلیم ھے۔اور یہیں سے ڈاکٹر مالک نے ابتدا کیا تھا جو کہ جاری وساری ھے۔مالک بلوچ۔بلوچستان میں غالبا پہلی اور آخری شخص ہیں جنہیں علم سے عشق ھے۔اور اج جو ممالک اکاش کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔انکے رہنماؤں کی اولین ترجیح تعلیم تھا۔۔ڈاکٹر مالک بلوچ کے بعد نیشنل پارٹی کا سنیٹر۔جان بلیدی نے بلوچستان کے لئے جتنی جدوجہد کی ھے وہ لا ثاني ھے۔بلیدی صاحب ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے دکھوں اور مشکلات کو حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔جان بلیدی نے اپنے موجودہ دورانیہ میں بلوچستان کے گھمبیر مسائل کو ایک حد تک کم کرنے کی سعی کی ھے۔ایوان بالا میں یہ واحد سنیٹر ہیں۔جو کھل کر بلوچستان کے مسائل اُجاگر کرتے ہیں بلیدی صاحب کی دیکھا دیکھی میں دوسرے صوبوں کے سنیٹر بھی بلوچستان کے مشکلات کو حل کرنے کی ضرورت پہ ارباب اختیار پر زور دیتے ہیں۔ جان بلیدی پوری تندہی اور لگن کے ساتھ ایوان بالا میں بلوچستان کی تاریخی نماہندگی کر رہے ہیں۔

