کراچی میں ڈینگی کے بڑھتے کیسز: خطرناک صورتحال اور احتیاطی تدابیر کی ضرورت

تحریر: اقرا منیر

کراچی میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ایک بار پھر شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ بارشوں کے بعد جمع ہونے والے پانی، صفائی کے فقدان اور مچھروں کی افزائش کے بڑھتے مواقع نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سرکاری و نجی ادارے اس وبا پر قابو پانے کے لیے دباؤ میں ہیں۔

شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی کے شبہ میں آنے والے مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ کئی مریض پلیٹ لیٹس میں کمی، تیز بخار اور شدید درد کی شکایت کے ساتھ لائے جاتے ہیں۔ کچھ اسپتالوں میں بستروں کی کمی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے باعث مریضوں کو ایمرجنسی وارڈ میں ہی طویل وقت گزارنا پڑتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بیماری سے زیادہ انہیں تشویش صحت کے موجودہ نظام کی کمزوریوں پر ہے، جو ہر سال اس مسئلے کی تکرار کے باوجود مؤثر انتظامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

ڈینگی کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ شہر میں صفائی ستھرائی کا ناقص نظام ہے۔ کئی علاقوں میں بارش کا پانی ہفتوں تک جمع رہتا ہے، جبکہ کچرے کے ڈھیر بھی مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ شہری انتظامیہ بروقت اسپرے، صفائی اور نکاسیِ آب کے مؤثر اقدامات کرے، ورنہ کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اگرچہ متعلقہ اداروں کا دعویٰ ہے کہ ڈینگی کے خلاف مہم جاری ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ کئی علاقوں میں فومیگیشن نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ آگاہی مہم بھی محدود نظر آتی ہے۔ ماہرین صحت مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مستقل بنیادوں پر مانیٹرنگ اور حفاظتی اقدامات کے بغیر ڈینگی پر قابو پانا ممکن نہیں۔

ڈینگی سے بچاؤ میں عوامی احتیاط بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ گھروں میں پانی کھڑا نہ ہونے دینا، بچوں کو مکمل لباس پہن کر باہر بھیجنا، مچھر دانی کا استعمال، اور گھروں میں مچھر بھگانے والے اسپرے کا استعمال بیماری کے خطرات کو کم کر سکتا ہے۔
صحت کے ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بخار کی صورت میں خود سے دوائیں لینے کے بجائے فوری طور پر طبی معائنہ کروایا جائے، کیونکہ ڈینگی کی بروقت تشخیص علاج کو آسان بنا دیتی ہے۔

کراچی میں ڈینگی کے بڑھتے کیسز ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکے ہیں، جس کے حل کے لیے مؤثر حکمتِ عملی، بہتر صفائی اور عوامی احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور شہری دونوں اپنا کردار ادا کریں تو اس وبا کے پھیلاؤ کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔
شہر کو صحت مند اور محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں