ماں کی شان ہر پل بیان۔۔۔۔ باپ کا مقام ہمیشہ سے گمنام

تحریر: بشیر احمد (ریٹائرڈ پاکستان نیوی)
زندگی کی شاہراہ پر ہر انسان اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے مگر وہ اکثر بھول جاتا ہے کہ اس کے سفر کی بنیاد کن قدموں نے رکھی تھی۔ ہم سب اپنی کامیابیوں، اپنے سہولت بھرے آج اور اپنے محفوظ کل میں اس شخصیت کے نقش قدم دیکھنا ہی بھول گئے جو خاموشی سے ہماری زندگی میں ایک سایہ بن کر چلتی رہی۔ لوگ ماں کی محبت کا تذکرہ کرتے ہیں، اسے جنت کا استعارہ کہتے ہیں۔ بے شک ماں کی عظمت ایسی ہی ہے مگر اسی گھر کے ایک کونے میں ایک اور ہستی ہے جو اپنی محبت کو لفظوں میں سجانے کی بجائے اپنی ہڈیوں اپنے پسینے اور اپنی تھکن میں دفن کرکے جیتی ہے۔ وہ عظیم ہستی ہے باپ۔ جی ہاں باپ۔عظمت کا مینار۔ وفا کے پیکرجس شخص کی خاموشیاں بھی محبت ہوتی ہیں۔ جس کی ڈانٹ بھی دعا ہوتی ہے۔ جس کے قدموں کی دھمک میں گھر کے مستقبل کی ضمانت چھپی ہوتی ہے۔وہ شخص کوئی عام نہیں ہوتا ہے۔قدرت نے اس شفیق ہستی کو باپ کا نام و مقام دیا ہے۔ہم ماں کی لوریوں میں پلتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان لوریوں کے پس منظر میں باپ کی محنت کی وہ طویل راتیں ہوتی ہیں جو کسی کو نظر نہیں آتیں۔ سردیوں کی سختی ہو یا گرمیوں کی تپش، بارشوں کی جھڑی ہو یا معیشت کی بے رحم چکی، باپ کبھی تھکتا نہیں۔ وہ اپنی خواہشوں کو اپنے جوتے کے نیچے کچل کر صرف ایک خواہش زندہ رکھتا ہے کہ میرے بچوں کے چہروں پر کوئی شکن نہ آئے۔ماں اپنی ممتا کے اظہار میں کھل کر روتی اور ہنستی ہے مگر باپ۔۔۔ باپ کا دل بھی رو پڑتا ہے مگر وہ آنسو کبھی آنکھ کی دہلیز پار نہیں کرتے۔ وہ گہرے سمندر کی طرح ہے جس کی لہریں تو طاقتور ہوں مگر سطح ہمیشہ پرسکون رہتی ہے۔ لوگ نہیں جانتے کہ باپ کے سینے میں بھی درد اٹھتا ہے، اسے بھی تھکن ستاتی ہے، وہ بھی کبھی حالات سے ہارنے کے قریب ہوتا ہے مگر پھر وہ اپنے رب کے حضور ایک گہری سانس کے ساتھ ہاتھ اٹھاتا ہے اور اگلی صبح پھر اسی لڑائی میں نئے حوصلے سے کود جاتا ہے صرف اس لیے کہ اس کے بچوں کے خواب ادھورے نہ رہ جائیں۔کے ایف سی اور میکڈونلڈ کے برگر کھلائے والد، سیر و سیاحت پر لے کر جائے والد، تمام ضروریات زندگی کا خیال رکھے والد، خندہ پیشانی سے اولاد کے نخرے اٹھائے والد، اولاد کی خواہشات کے سامنے اپنی خواہشات کو گہری نیند سلائے والد، ڈاکٹر انجینیئر اور پروفیسر بنانے کے لیے تمام اخراجات اٹھائے والد اور جب بچہ اپنی منزل مقصود کو پا لے تو پھر لکھے یہ”سب میری ماں کی دعا ہے“ والد کی خون پسینے کی کمائی سے کامیاب ہونے پر ڈگری ملی تو ”کہے ماں کی دعا ہے“ کوٹھی ملی توکہے”ماں کی دعا ہے“ اور گاڑی ملی تو گاڑی پر لکھے ”ماں کی دعا ہے“ سوال یہ ہے کہ کیا زندگی بھر کی کمائی خرچ کرنے والا باپ بد دعائیں دیتا رہا ہے؟ ماں کی دعا کی جگہ والدین کی دعا نہیں لکھا جا سکتا؟ ماں کی محبت کا اقرار اور باپ کی عظمت سے انکار یقینا معاشرے کا ایک المیہ ہے سو ماں کی شان کے ساتھ ساتھ باپ کا مقام بھی یاد رکھا اور بیان کیا جانا چاہیے۔گھر میں کبھی کھانا کم پڑ جائے تو ماں کہہ دیتی ہے کہ مجھے بھوک نہیں مگر خاموشی سے کھانے کا پہلا نوالہ چھوڑنے والا اکثر باپ ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بچے پیٹ بھر کر کھائیں۔ ان کی کتابیں ادھوری نہ جائیں۔ ان کا لباس پرانا نہ لگے۔ ان کی فیسیں وقت پر ادا ہوں۔ وہ اپنے آپ کو آخری درجے پر رکھتا ہے۔ اس کے پیروں کے چھالے، اس کی کمر کی درد، اس کی آنکھوں کے گرد حلقے شاید ہمیں کبھی نظر ہی نہیں آتے کیونکہ باپ دکھوں کو اوڑھ کر بھی اس طرح جیتا ہے جیسے زندگی اس پر ہمیشہ مہربان رہی ہو۔ہمیں مان ہے ماں کی محبت پر مگر سوال یہ ہے کہ باپ کا حق ہم کس لفظ میں ادا کریں؟ وہ شخص جس نے کبھی کسی سے اپنی تعریف نہ چاہی، کبھی شکایت نہ کی، کبھی اپنی تھکن کا اشتہار نہ لگایا۔ جو چھوٹے چھوٹے بچوں کے جوتے چمکا کر انہیں سکول بھیجتا ہے اور خود ٹوٹے ہوئے جوتے پہن کر بازار میں چل دیتا ہے۔ جو بچوں کے ہاتھ میں کھلونے دے کر اپنی خواہشات کو دکان کے شوکیس میں چھوڑ کر واپس آ جاتا ہے۔ جو اپنی جوانی کے خوابوں کو اپنی اولاد کے مستقبل کی نذر کر دیتا ہے۔ہماری معاشرتی کمزوری یہ ہے کہ ماں کی عظمت کے چراغ جلاتے جلاتے ہم نے باپ کی روشنی کو دھندلا ہونے دیا حالانکہ ماں جنت ہے تو باپ اس جنت کا دروازہ ہے۔ گھر کی محبت ماں کے لمس سے پہچانی جاتی ہے اور گھر کی حفاظت باپ کی محنت سے۔ ماں دل کو سہارا دیتی ہے تو باپ زندگی کو سہارا دیتا ہے۔ ماں روح کو محبت دیتی ہے تو باپ وجود کو تحفظ دیتا ہے۔ دونوں ایک ہی کہانی کے دو باب ہیں۔۔۔ دونوں کے بغیر کہانی ادھوری ہے۔وقت کے ساتھ بچے بڑے ہو جاتے ہیں مگر باپ بوڑھا ہو جاتا ہے۔ اس کی کمر جھکتی ہے، ہاتھ کانپتے ہیں مگر اس کے دل میں اولاد کے لیے محبت وہی رہتی ہے جو پہلے دن تھی۔ وہ اب بھی دروازے کی طرف دیکھتا ہے کہ شاید کوئی بچہ آ کر اس سے کہہ دے”ابا! آپ نے جو کیا وہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے“ مگر اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ ہم اپنی مصروف زندگی میں اس مقدس ہستی کو بھول جاتے ہیں۔ ہم اس کی مسکراہٹ کی نمی نہیں پڑھ پاتے اور اس کے ہاتھوں کی لرزش نہیں پوچھ پاتے۔باپ کے یہ خفیہ گوشے اگر آج بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہیں تو یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی کمی ہے اگر دل میں جگہ ہو تو ماں کی محبت کے ساتھ ساتھ باپ کی عظمت بھی دل کے مندر میں جگمگاتی رہے گی۔ ماں کا سایہ جنت ہے اور باپ کا وجود اس جنت کی چابی۔ جو ان دونوں کی قدر کرے اس کے نصیب میں کبھی اندھیرا نہیں رہتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں