قلم کی طاقت

تحریر۔شاہد شکیل
آج سے قریباََ دس برس قبل جب یورپی یونین نے اپنی سر زمین کے دروازے تارکینِ وطن کیلئے پوری طرح وا کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا اور انہیں یورپ کے کسی بھی ملک میں آزادانہ آمدورفت کی اِجازت دی تو اِس فیصلے نے دنیا بھر کے بے آسرا اِنسانوں کے دلوں میں اُمید کی ایک نئی شمع روشن کر دی،اِس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دور دراز خطّوں سے قافلے روانہ ہوئے جنہوں نے بہتر مستقبل کی جستجو میں یورپ کا رُخ کیا۔کِسی دوسری سر زمین پر سکونت اختیار کرنا آسان مرحلہ نہیں ہوتا، نقل مکانی محض تبدیلی نہیں بلکہ ایک مکمل ذہنی، سماجی اور جذباتی آ زمائش کا نام ہے،جس ملک کو مسکن بنایا جائے وہاں سب سے پہلا اور بنیادی فریضہ اُس کی زبان سیکھنا ہوتا ہے کیونکہ اِلفاظ ہی وہ وسیلہ ہیں جن کے ذریعے اِنسان اپنے دُکھ،اپنی ضرورتیں اور تکلیفیں دوسروں تک پہنچا سکتا ہے،زبان کے بغیر نہ احساس بیان ہوتا ہے اور نہ ہی اجنبیت کے اندھیروں میں راستہ ملتا ہے۔وہ زمانہ بھی کچھ کم اضطراب انگیز نہ تھا جب تارکین وطن کی ایک بڑی لہر نے جرمنی کی سر زمین کا رُخ کیا، اِس اچانک یلغار نے جرمن قوم کو کسی حد تک فکر مند کر دیا تھا،لوگوں کے اذہان میں ایک ہی سوال گردِش کر رہا تھا کہ آخر جب یورپ کے دیگر ممالک میں رہائش اور پناہ کی گنجائش موجود ہے تو یہ قافلے جرمنی ہی کیوں چلے آرہے ہیں؟ اُن نازک اور اضطراب آمیز حالات میں جب اِنسانی حقوق کا دباؤ بھی پوری شدت کے ساتھ موجود تھا،ایک معروف صحافی نے اپنے کالم میں حکومت کیلئے چند سنجیدہ اور قابلِ غور تجاویز پیش کیں۔یہ تجاویز نہ صرف اہلِ دانِش کی توجہ کا مرکز بنیں بلکہ مختلف حلقوں میں انہیں سراہا بھی گیا،کالم نگار کے اُٹھائے گئے تمام نکات پر مجموعی طور پر اِتفاقِ رائے پیدا ہوگیا اور یوں یہ تحریر محض ایک کالم نہ رہی بلکہ ایک فکری سِمت کا تعین کرنے لگی۔صحافی نے اپنے کالم میں نہایت دوٹوک انداز میں واضح کیا تھا کہ اگر تارکین وطن جرمنی میں مستقل سکونت اختیار کرنا چاہتے ہیں تو اُنہیں اِس ملک کے قوانین کے دائرے میں رہ کر ہی زندگی گزارنا ہو گی،انہیں بنیادی قوانین اور آئین کی پاسداری کرنا ہو گی کیونکہ یہ قوانین نہ صرف جرمن معاشرت کی بنیاد ہیں بلکہ ہم سب کیلئے یکساں طور پر مقدس اور ناگزیر ہیں۔صحافی نے اُس وقت حکومت سے نہایت درد مندانہ لہجے میں گزارش کی تھی کہ آنے والے برسوں میں جرمنی کو لاکھوں اجنبی لوگوں کو اپنے دامن میں جگہ دینی ہو گی، اُس کا کہنا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہمارے معاشرے کو در پیش موجودہ حالات سب سے بڑا امتحان ہیں اور اِس امتحان میں سُر خرو ہونے کیلئے ہمیں ایمانداری، خلوص اور محبت کے رویے کو اپنا شعار بنانا ہو گا،تب ہی ہم تارکین وطن کے دلوں کو جیت سکیں گے،ہمیں اُنہیں گلے لگانا ہو گا تاکہ وہ باقی ماندہ زندگی امن و سکون کے ساتھ بسر کر سکیں، یہی ہماری اصل ایمانداری ہے اور یہی وہ اعلیٰ قدر ہے جسے انسانی حقوق کہا جاتا ہے۔حکومت اور جرمن عوام کو عملی طور پر تارکین وطن پر یہ حقیقت واضح کرنا ہو گی کہ اپنے خوابوں کی تعبیر اور زندگی کی تکمیل کیلئے اِس سرزمین پر ہمارے قوانین، اقدار،بنیادی اُصولوں اور منصفانہ نظام کی پاسداری ہی اُن کے حق میں بہتر ہے،دو طرفہ ثقافتی ہم آہنگی کو قبول کرنا ہو گا، اُن کی تہذیب و ثقافت کا خیر مقدم کرنا ہوگا اور ساتھ ہی اپنے تمدن، روایات اور سماجی اُصولوں سے بھی انہیں مکمل طور پر آگاہ کرنا ہوگا،اُنہیں یقین دلانا ہو گا کہ جرمنی میں بنیادی قوانین پر عمل اور پابندی ہی اُن کے روشن، محفوظ اور باوقار مستقبل کی ضمانت ہے۔اُنہیں بتانا ہو گا کہ جرمنی ایک ایسی ریاست ہے جہاں ہر انسان کو یہ بنیادی اور آئینی حق حاصل ہے کہ وہ جس مذہب اور عقیدے کو چاہے اِختیار کرے،چاہے تو اُسے تبدیل کرے یا بالکل ترک کر دے،یہاں خواتین کو مکمل آزادی اور خود مختاری حاصل ہے اور کسی بھی بالغ فرد پر والدین،بھائی یا شریکِ حیات کی جانب سے کسی قسم کا دباؤ یا جبر روا نہیں رکھا جا سکتا، مذہب کی توہین یا تمسخر پر مبنی ہر طرح کے مواد کو قانوناََ ممنوع قرار دیا گیا ہے اور ملکی قوانین بلا امتیاز سب پر یکساں طور پر نافذ العمل ہیں،ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے سخت اور طویل سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔تارکین وطن کو یہاں کے رہن سہن، معاشرتی آداب اور زندگی گزارنے کے طور طریقے سیکھنا ہونگے جن میں سب سے پہلی اور بنیادی شرط جرمن زبان پر عبور حاصل کرنا ہے۔صحافی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پورے ملک میں خصوصی بروشرز کے ذریعے تارکین وطن کو آگاہ کیا جائے اور اُنہیں پیغام پہنچایا جائے کہ جرمنی آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہے۔آج صورتِ حال یہ ہے کہ اُس دور کی حکومتی دور اندیشی اور صحافی کی بصیرت افروز تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے باعث تارکین وطن خوش و خرم زندگی بسر کر رہے ہیں،ان کے بچے علم کی روشنی سے اپنے مستقبل سنوار رہے ہیں،سب کو باوقار رہائش میسر ہے اور سب سے بڑھ کر روز گار کے ساتھ ان کی آسانی اور تحفظ کیلئے انہیں جرمن شہریت کا حق بھی عطا کیا ہے،انسانی حقوق کو بنیاد بنا کر ان پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کیا گیا اور آج یہی نتیجہ ہے کہ جرمنی میں تارکین وطن اور مقامی باشندے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ایسی زندگی جو کبھی محض ایک خواب تھی مگر اب ایک روشن حقیقت بن چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں