مسکراہٹ۔۔۔زندگی کی تلخیوں میں امید کا ایک روشن چراغ

تحریر:رشیداحمدنعیم
مسکراہٹ انسان کے چہرے پر روشن ہونے والی وہ نرم روشنی ہے جو دل کے اندر سے اٹھتی ہے اور سماج کی سمتوں میں نرمی، جمال اور اعتماد کے ایسے رنگ بکھیر دیتی ہے جن کی خوشبو دیر تک قائم رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو بظاہر بہت مختصر دکھائی دیتا ہے مگر اپنے اثر میں پورا ایک جہان رکھتا ہے۔ معاشرتی تعلقات کی مضبوطی، اخلاقی رویوں کی شفافیت، سماجی ہم آہنگی اور اسلامی تعلیمات کی روح میں مسکراہٹ ایک ایسا لطیف جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے جوڑتا ہے۔ جس معاشرے میں چہرے کھنچے ہوئے ہوں وہاں دل بھی بند رہتے ہیں اور جہاں لبوں پر نرمی کا چراغ جلتا رہے وہاں کرداروں میں بھی روشنی پیدا ہوتی ہے۔مسکراہٹ کا سب سے حسین پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو انسان کے قریب لاتی ہے۔ ایک سادہ سی مسکراہٹ کسی اجنبی کے دل سے جھجک کم کر دیتی ہے، گفتگو کو آسان بناتی ہے، ماحول کو نرم کرتی ہے اور دلوں میں وہ قربت پیدا کرتی ہے جو کسی بڑے خطاب یا بھاری جملے سے بھی پیدا نہیں ہوتی۔ جدید تحقیق بھی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ انسانی دماغ مسکراہٹ کو اعتماد، سلامتی اور خیرخواہی کی علامت سمجھتا ہے، اسی لیے لوگ ان چہروں کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں جن پر تلخی کے بجائے نرمی کی ہلکی سی کرن موجود ہو۔اخلاقی نقطِ نظر سے مسکراہٹ انسان کے بہترین کردار کی علامت ہے۔ مسکراہٹ یہ بتاتی ہے کہ دل کے اندر بغض، غصہ یا انا کا دھواں نہیں ہے بلکہ اعلیٰ ظرفی، حکمت اور برداشت کا چراغ روشن ہے۔ اخلاق کا حسن دراصل اس نرمی میں ہے جو انسان کے لہجے سے زیادہ اس کے چہرے پر جھلکتی ہے۔ ایک نرم مسکراہٹ وہ دروازہ ہے جو دوسروں کے دل کی طرف خاموشی سے کھلتا ہے۔ مسکراہٹ دوسروں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ تعلقات میں سختی کی بجائے آسانی ہے، بات چیت میں دیوار کی بجائے پل ہے اور رویوں میں فاصلے کی بجائے قربت ہے۔ یہی اخلاقی حسن معاشرے میں برداشت پیدا کرتا ہے۔ بدگمانی کم کرتا ہے اور لوگوں کے درمیان وہ نرم فضا قائم کرتا ہے جہاں باتیں کم ہوتی ہیں اور سمجھ زیادہ آتی ہے۔سماجی زندگی میں مسکراہٹ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ اجتماعی فضا کے مزاج کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہمارے معاشروں میں روزمرہ کی تھکن، معاشی دباؤ اور زندگی کی بے شمار الجھنیں چہروں سے روشنی اچک لیتی ہیں مگر ایک اچھا لفظ، ایک نرم لہجہ یا ایک ہلکی مسکراہٹ اس سخت ماحول میں تازہ ہوا کی وہ لہر بن جاتی ہے جو انسان کے اندر نئی توانائی پیدا کر دیتی ہے۔ سماجی میل جول کا پہلا قدم بھی یہی ہے کہ چہروں پر کھلاپن ہو اور رویوں میں کشادگی ہو۔ مسکراہٹ کسی بڑے تحفے کی طرح نہیں بلکہ ایک چھوٹی مگر دل کو چھو لینے والی مہربانی کی طرح لوگوں کو یاد رہتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی کے لیے کچھ نہ کر سکیں تب بھی ایک مسکراہٹ ضرور چھوڑ جائیں کیونکہ کبھی کبھی یہی مسکراہٹ دوسروں کے دن کا سب سے روشن لمحہ بن جاتی ہے۔اسلامی تعلیمات میں مسکراہٹ کو محض اخلاقی خوبی نہیں بلکہ عبادت کے درجے میں رکھا گیا ہے۔ کسی مسلمان بھائی کو مسکرا کر دیکھنا صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین انسان کے چہرے پر موجود ہر اس نرمی کو قابل قدر سمجھتا ہے جو دوسروں کے دل کو راحت دے۔ اسلامی معاشرت میں رعب، سختی یا بیزاری کو پسند نہیں کیا گیا بلکہ نرمی، محبت اور خوش اخلاقی کو انسانیت کا اصل حسن قرار دیا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی پوری سیرت میں یہ پہلو نمایاں ہے کہ آپ کی مسکراہٹ ہر لفظ سے زیادہ اثر رکھتی تھی۔ یہی وہ عمل ہے جس نے دشمنوں کو قریب کیا۔ اجنبیوں کے دل جیتے اور سخت دلوں میں بھی نرمی پیدا کر دی۔ گویا مسکراہٹ ایک دعوت بھی ہے، اخلاق کی دلیل بھی اور تعلقات کی بنیاد بھی ہے۔مسکراہٹ کی روحانی تاثیر بھی کم نہیں ہے۔ یہ دل کے اندر سے اٹھتی ہے اور دل ہی پر اثر کرتی ہے۔ انسان کے باطن میں جب امید، یقین اور روشن خیالی موجود ہو تو چہرہ خودبخود اس کیفیت کا ترجمان بن جاتا ہے۔ مسکراہٹ دکھاوے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ وہ احساس ہے جو دل کی گہرائیوں سے سطح پر آتا ہے اور دوسروں کے دل تک پہنچ جاتا ہے۔ جس دل میں وسعت ہو اس کے چہرے پر تنگی دکھائی نہیں دیتی اور جس دل میں خوف، غصہ یا تذبذب ہو اس کے چہرے پر بھی وہی بے چینی منعکس ہوتی ہے۔ اسی لیے مسکراہٹ انسان کے اندرونی سکون کی علامت ہے۔زندگی کی تلخیوں میں بھی مسکراہٹ امید کا ایک روشن چراغ ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، انسان نے اپنی اندرونی روشنی کو بجھنے نہیں دیا۔ کبھی کبھی ایک مسکراہٹ خود اپنے لیے بھی مرہم کا کام کرتی ہے۔ جب ہم خود کو پرسکون رکھنے کے لیے لبوں پر نرمی رکھتے ہیں تو ہماری اپنی سوچ کا زاویہ بدلتا ہے، دل کی سختی کم ہوتی ہے اور شعور میں وہ نرمی پیدا ہوتی ہے جو ہمیں زندگی کے دباؤ سے نمٹنے کی طاقت دیتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی سچائی ہے کہ مسکراہٹ انسان کے ذہن کو مثبت بناتی ہے اور مثبت ذہن مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ مسکراہٹ کا زاویہ تعلقات میں اعتبار بھی پیدا کرتا ہے۔ کوئی بھی گھر، محلہ، دفتر یا معاشرہ اسی وقت خوبصورت بنتا ہے جب وہاں رویوں میں نرمی اور چہروں پر روشنی موجود ہو۔ اگر کسی خاندان میں مسکراہٹیں کم ہو جائیں تو دلوں میں بھی فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ اگر کسی دفتر میں سخت لہجے عام ہو جائیں تو تخلیقی صلاحیتیں مرجھا جاتی ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں تلخ لہجوں اور سخت چہروں کا غلبہ ہو جائے تو وہاں خوشی، محبت اور امن کی کیفیت بھی کم ہونے لگتی ہے۔ مسکراہٹ تعلقات میں عزت پیدا کرتی ہے اور عزت ہر اچھی سماجی فضا کی بنیاد ہے۔مسکراہٹ کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ طبقاتی تقسیم، سماجی فرق اور معاشرتی دراڑوں کو بھی کم کرتی ہے۔ یہ امیر و غریب میں تمیز نہیں کرتی۔ ایک مزدور کی تھکن بھی اس سے ہلکی ہو جاتی ہے اور ایک امیر کے دل کی کڑواہٹ بھی اس سے دور ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو دیا بھی جا سکتا ہے اور رکھا بھی جا سکتا ہے۔ اس پر کسی کا کوئی حق یا پابندی نہیں ہے۔ مسکراہٹ کے ذریعے انسان دوسروں کو احساس دلا سکتا ہے کہ وہ قابل احترام ہیں، ان کی موجودگی اہم ہے اور ان کے جذبات کا وزن ہے۔مسکراہٹ انسانیت کی زبان ہے۔ یہ وہ لہجہ ہے جسے سمجھنے کے لیے الفاظ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ محبت کی وہ شکل ہے جو دل کو براہ راست چھوتی ہے۔ اگر معاشرہ واقعی نرم، خوبصورت، بااعتماد اور روشن بنانا ہو تو اس کی شروعات چہروں پر نرمی اور دلوں میں وسعت سے ہوتی ہے۔ زندگی کے اس سفر میں جہاں غم، تھکن اور رنج ملے بغیر نہیں رہتے وہاں مسکراہٹ وہ موسم ہے جو دلوں میں بہار لاتا ہے۔ اس بہار کی خوشبو انسان کو انسان سے جوڑتی ہے، زخموں کو بھرتی ہے اور زندگی کو قابلِ برداشت کی بجائے قابلِ محبت بنا دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں