عالمی یومِ انسانی حقوق: بلوچستان میں جبر، محرومی اور مفاہمت کی گم ہوتی امید

تحریر:آدرش وحید رحیم

10دسمبر کو دنیا عالمی یومِ انسانی حقوق مناتی ہے۔ غیر جانبدار ذرائع ابلاغ اور ترقی پسند جمہوری فکر کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ دن محض ایک علامتی تاریخ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا محاسبہ بھی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد دنیا نے یک قطبی نظام کی صورت اختیار کی۔ نظریاتی کشمکش میں ایک ٹھہراؤ آیا، ایک دہائی تک فکری تناؤ کی خاموشی رہی۔ اسی وقفے کے اثرات پاکستان میں بھی دکھائی دیے، ایک ناتواں جمہوری نظام نے سانس لینا شروع کی، بلوچستان نے بھی اس مختصر مہلت کو محسوس کیا، سیاسی تبدیلیاں آئیں، امید کی ہلکی سی کرن نظر آئی۔
مگر اکیسویں صدی کی دہلیز پر یکے بعد دیگرے ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے ہر سطح پر Paradigm Shiftپیدا کر دی۔ پاکستان میں جنرل مشرف کی صورت میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی، آئین، پارلیمان، عدلیہ اور وفاقی پارلیمانی اصولوں پر قدغن لگیں۔ اسی اثنا میں نائن الیون کا وقوعہ پیش آیا، ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ صدر بش نے وار آن ٹیرر کا اعلان کیا، افغانستان پر حملہ ہوا اور مشرف رجیم نے پاکستان کو فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر پیش کر دیا۔ یوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سکون کا وقفہ خواب کی مانند بکھر گیا۔ یہ خطے ایک بار پھر جنگی تجربہ گاہ بن گئے۔ داخلی سطح پر سیاسی مکالمہ بند ہوا، مفاہمت کے دروازے مقفل ہوئے اور آگ و خون کا کھیل شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔
اسی دوران ایک نیا عالمی مظہر سامنے آیا۔ چین نے اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت پیش قدمی کی، سی پیک معاہدہ ہوا، گوادر ڈیپ سی پورٹ عالمی نگاہوں کا مرکز بنا۔ یوں بلوچستان ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کی کشمکش، مفادات اور رسہ کشی کا میدان بن گیا۔ بیرونی پالیسیوں اور داخلی جبر کے امتزاج نے بلوچستان کو جنگی جنون اور پراکسی وار کے آماجگاہ میں بدل دیا، جہاں زیست خود ایک آزمائش بن گئی۔
“خوشا وہ دور کہ جب مرکزِ نگاہ تھے ہم
پڑا جو وقت تو اب کوئی روشناس نہیں”

اگر بلوچستان کو انسانی حقوق کے زاویے سے، عالمی منشورِ انسانی کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو دو بڑے پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ پہلا پہلو سیاسی، انتظامی اور دستوری نوعیت کا ہے، جو تین واضح پرتوں میں منقسم دکھائی دیتا ہے۔
پہلی پرت ماورائے آئین اور ماورائے عدالت اقدامات پر مشتمل ہے۔ جبری گمشدگیوں کا طویل اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ، لاپتہ افراد کے لواحقین کی دل سوز کہانیاں، ماؤں کی آہیں، بہنوں کی سسکیاں، معصوم بچوں کی خاموش نگاہیں، بوڑھے والدین کا انتطار یہ سب اس منظرنامے کا حصہ ہیں۔ پیدل مارچ، بھوک ہڑتالیں، احتجاجی کیمپ، ریلیاں، عدالتوں کے دروازوں پر فریاد، 3 ایم پی او اور فورتھ شیڈول جیسے قوانین کا استعمال یہ سب مل کر ایک ایسا نقشہ بناتے ہیں جو کسی بھی پیمانے پر انسانی حقوق کے تحفظ کی عکاسی نہیں کرتا۔
دوسری پرت مسلح تنظیموں کی کارروائیوں سے جڑی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں، قافلوں، کیمپس اور سرکاری املاک کو نشانہ بنانا، دھماکے، خودکش حملے، غیر مقامی افراد کے خلاف پرتشدد مہمات، سڑکوں، ٹرینوں اور دیگر مقامات پر ہلاکتیں یہ سب خوف اور عدم تحفظ کو مزید گہرا کرتے ہیں اور عام شہری اس آگ میں پس جاتے ہیں۔
تیسری پرت خود بلوچستان سے تعلق رکھنے والے عظیم رہمناؤں سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں، دانشوروں، صحافیوں، اساتذہ اور کاروباری افراد کو نشانہ بنائے جانے کی ہے۔ ان میں سے بعض قتل کی زمہ داری بلوچ مسلح تنظیمیں قبول کرتی ہیں، کچھ واقعات مذہبی و مسلکی شدت پسند گروہوں سے منسوب کیے جاتے ہیں، کئی گمنام گولیوں کا شکار بنتے ہیں، جبکہ متعدد قتل ایسے بھی ہیں جن کے نشانات کارڈ ہولڈرز اور ڈیتھ اسکواڈ جیسے ناموں سے جوڑے جاتے ہیں۔ یوں خوف کی ایک ایسی فضا جنم لیتی ہے جہاں بولنا، لکھنا اور جینا سب خطرہ بن جاتا ہے۔
“سارا شہر بلکتا ہے
پھر بھی کیسا سکتہ ہے
گلیوں میں بارود کی بو
یا پھر خون مہکتا ہے
ایک سفر وہ ہے جس میں
پاؤں نہیں دل تھکتا ہے”

ان سیاسی المیوں کے بعد بلوچستان میں انسانی حقوق کا دوسرا، مگر کہیں زیادہ وسیع اور نظر انداز شدہ پہلو سامنے آتا ہے مجموعی انسانی زندگی کا بحران۔ تعلیم کی حالت یہ ہے کہ ہزاروں بچے اسکول سے باہر ہیں، سینکڑوں اسکول عملاً بند یا غیر فعال ہیں، اساتذہ کی کمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی ایک پوری نسل کو اندھیرے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ صحت کے شعبے میں صورت حال اور بھی دردناک ہے۔ زچہ و بچہ کی اموات، غذائی قلت، ٹی بی، ہیپاٹائٹس، ملیریا اور دیگر قابلِ علاج امراض جان لیوا بن چکے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت مراکز محض عمارتیں ہیں، حادثات میں بروقت طبی امداد نہ ملنے سے قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
ماحولیات کی تباہی ایک اور خاموش سانحہ ہے۔ زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے، خشک سالی اور کبھی شدید بارشیں، دونوں صورتوں میں نہ کوئی پیشگی منصوبہ بندی ہے نہ ہنگامی انتظام۔ سمندری اور جنگلی حیات کی نسل کشی ہو رہی ہے، جس میں بیرونی عناصر، مقامی ایجنٹس اور انتظامی غفلت کا گٹھ جوڑ بارہا ثابت ہو چکا ہے۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی، زراعت کی تباہی، بارڈر ٹریڈ کی بندش، روزگار کے محدود مواقع، خستہ حال مواصلاتی نظام اور آئے روز کے حادثات ، یہ سب معیشت کو مفلوج اور لوگوں کو فاقہ کشی، نقل مکانی اور بے بسی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ قبائلی اور مذہبی فرقہ وارانہ گروہی تنازعات، عزت کے نام پر قتل بھی اسی ٹوٹ پھوٹ کا حصہ ہیں، جو ریاستی عدم موجودگی میں مزید پھیلتے ہیں۔
اس تاریکی میں ایک دور ایسا بھی آیا جسے امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے وزارتِ اعلیٰ کے دور میں، وزیر اعظم نواز شریف کے تعاون اور عسکری قیادت کے اعتماد کے ساتھ مفاہمت، مذاکرات اور بحالی کی ایک سنجیدہ کوشش شروع ہوئی۔ عاصمہ جہانگیر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات، فرقہ وارانہ تشدد میں کمی، کارڈ ہولڈرز اور ڈیتھ اسکواڈ کے خاتمے کی سمت پیش رفت، شاہراہوں پر سفر کرنے سمیت کاروباری اور شہری زندگی کی رونقیں بحال ہونے لگے سب ممکن ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ مگر یہ عمل نتیجہ خیز ہونے سے پہلے ہی سبوتاژ کر دیا گیا۔
اس کے بعد ووٹ کے حق کو بے معنی بنایا گیا، پیراشوٹرز Parachuter مسلط کیے گئے، کرپشن اور سفارش نے میرٹ، شفافیت اور جواب دہی کو ملیا میٹ کر دیا۔ نتیجتاً عوام میں مایوسی، ناامیدی، غصہ بے یقینی، بیگانگی اور احساسِ محرومی مزید گہرا ہوتا گیا۔
بلوچستان کا مقدمہ تصادم نہیں، مفاہمت ہے۔ یہ مسئلہ بندوق سے نہیں، سیاسی شعور، آئینی عمل، سماجی انصاف،برابر انسانی وقار کے احترام شناخت کی تحفظ سے حل ہو سکتا ہے۔
شاعر نےکیا خوب کہا ہے
“جب بھی دھرتی کا کوئی حصہ
تمہیں چپ سا دکھائی دے تو اس کی خامشی کو
بے حسی کو نام مت دو
سرد گہری خامشی کا کرب سمجھو
اس کے سینے میں دبے لاوے کی زندہ دھڑکنوں کا عکس
ممکن ہے
تمہیں خود اپنے آدرشوں میں رہ رہ کر نظر آئے”

اپنا تبصرہ بھیجیں