بلوچستان،گزشتہ برس 90 ہزار خفیہ آپریشنز، 700 سے زائد دہشت گرد ہلاک کئے گئے، ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ قبائلی امور

کوئٹہ(این این آئی) ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ قبائلی امور بلوچستان محمد حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اعتزاز گورایہ نے کہا ہے کہ کہ سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد ساجد احمد عرف شاویز کو گرفتار کیا، جس نے اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ تربت یونیورسٹی میں استاد بھی رہ چکا ہے۔ گرفتار دہشت گرد کی گاڑی سے جدید اسلحہ، خودکش جیکٹ اور گولہ بارود برآمد ہوا، گزشتہ برس بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 90 ہزار خفیہ آپریشنز کیے، جن کے دوران 700 سے زائد دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ان کارروائیوں میں 400 سیکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ قبائلی امور بلوچستان محمدحمزہ شفقات نے کہا کہ 2025 کے آخری تین ماہ میں دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے تحت ایک نیا ادارہ ”نیفٹیک“ قائم کیا گیا ہے، جسے مارچ تک بلوچستان کے تمام اضلاع میں فعال کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پورے صوبے کو اب اے ایریا قرار دے دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد ساجد احمد عرف شاویز کو گرفتار کیا، جس نے اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ تربت یونیورسٹی میں استاد بھی رہ چکا ہے۔ گرفتار دہشت گرد کی گاڑی سے جدید اسلحہ، خودکش جیکٹ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ ساجد تربت کا رہائشی اور کالعدم تنظیم سے وابستہ تھا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ ساجد تربت میں کالعدم تنظیم کے لیے ریکی اور سہولت کاری میں ملوث تھا اور افغانستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر دوستین سے بھی رابطے میں رہا۔ انہوں نے کہا کہ پکڑا گیا اسلحہ پنجگور سے تربت منتقل کیا جا رہا تھا جبکہ اسلحہ ایران سے اسمگلنگ کے ذریعے پاکستان لایا گیا۔اعتزاز گورایہ کے مطابق ساجد کا تعلق بلوچ یکجہتی کمیٹی سے بھی رہا اور وہ نوجوانوں کو کالعدم تنظیموں میں بھرتی کرنے میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے افراد بھی شدت پسندی کی راہ اختیار کر رہے ہیں اور بی ایس او و بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو مسلح تنظیموں میں شامل کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خاران سے تعلق رکھنے والا 18 سالہ سرفراز، جو بی وائے سی میں شامل تھا، گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ جہانزیب عرف مہربان کو بھی حراست میں لیا گیا۔ جہانزیب بساکھ بروہی کے ساتھ منسلک رہا، جو نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں شدت پسندی کی طرف لے جاتا رہا۔ ایک اور 18 سالہ نوجوان بہزل کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ دہشت گرد کم عمر نوجوانوں کو اپنی کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں اور تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ نوجوان دہشت گردوں کے لیے پیسے اور ادویات کی رسد کا کام بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سرکاری ہسپتالوں کی سرجیکل ادویات بھی دہشت گردوں تک پہنچ رہی ہیں۔اعتزاز گورایہ نے کہا کہ گرفتار نوجوانوں کی اصلاح اور بحالی پر کام کیا جائے گا تاکہ انہیں دوبارہ کارآمد شہری بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں