پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی عبدالرزاق خان دوتانی کی عظیم قومی خدمات، قربانیوں اور جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھے گی،رضا محمدرضا

لورالائی (این اینآئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام لورالائی میں پشتونخوا نیپ کی سابق مرکزی جنرل سیکریٹری، پشتون قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنما اور نامور قومی مبارز ارواشاد عبدالرزاق خان دوتانی کی 38ویں برسی کے موقع پر ایک عظیم الشان اور بھرپور جلسہ عام منعقد ہوا۔ جلسہ عام کی صدارت پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا نے کی۔ جلسہ عام سے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات عیسیٰ روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، مرکزی سیکریٹری چیرمین اللہ نور خان،ضلع سیکرٹری مصطفیٰ کمال اور پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صوبائی سیکریٹری وارث افغان نے خطاب کیا۔ جلسے کی نظامت کے فرائض نعمت جلالزی نے انجام دیے جبکہ تلاوتِ مولوی فضل کریم نے کی۔ اس سے پیلے پارٹی دفتر سے عظیم الشان احتجاجی ریلی پارٹی مشران کی سربراہی نکالی گئی جو مختلف شاھراوں پر گشت کرنے اور فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے جلسہ پہنچے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقررین نے پشتون قومی سیاسی تحریک کے بہادر، اصول پسند اور نظریاتی رہنما ارواشاد عبدالرزاق خان دوتانی کو ان کے تاریخی کردار، ناقابلِ فراموش قومی خدمات اور طویل جدوجہد پر شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ عبدالرزاق خان دوتانی نے تاریخی نیشنل عوامی پارٹی کی تقسیم کے نہایت نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر خان شہید کے ایک قریبی اور اہم رفیق کی حیثیت سے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی تشکیل میں کلیدی اور تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق خان دوتانی پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے اور خان شہید کی شہادت کے بعد وہ پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری کے منصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے عظیم قومی رہنما عبدالرحیم خان مندوخیل کے ساتھ مل کر اْس وقت کی پشتونخوا نیپ کو پشتونخوا وطن کی حقیقی نمائندہ قومی جماعت بنانے میں فیصلہ کن اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ مقررین نے کہا کہ عبدالرزاق خان دوتانی نے پشتون قومی تحریک سے وابستہ دیگر قومی جماعتوں کو قومی اور وطنی بنیادوں پر متحد کرنے کے لیے انتھک اور مسلسل جدوجہد کی۔ پشتونخوا مزدور کسان پارٹی کے ساتھ مل کر 1986ء میں پشتونخوا ملی عوامی اتحاد کے قیام کے بعد، انہوں نے شیر علی باچا اور عبدالرحیم خان مندوخیل جیسے جید اور نظریاتی قومی رہنماؤں کی رفاقت میں پشتونخوا وطن کے تمام اہم مراکز کا تاریخی دورہ کیا۔ عوامی جلسوں، مشاورتی نشستوں اور قومی جرگوں کے انعقاد کے ذریعے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے قیام کی راہ ہموار کی۔ تاہم مقررین نے اس حقیقت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا کہ قومی نمائندہ جماعت کے قیام کے اس عظیم خواب کی تکمیل سے قبل 9 جنوری 1988ء کو عبدالرزاق خان دوتانی عالمِ شباب میں وفات پا گئے۔ مقررین نے کہا کہ پشتون قومی سیاسی تحریک میں ان کا تاریخی کردار ہماری سیاسی تاریخ کا ایک روشن، درخشاں اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی عبدالرزاق خان دوتانی کی عظیم قومی خدمات، قربانیوں اور جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور پارٹی ان جیسے عظیم قومی رہنماؤں کے مشن اور متعین کردہ قومی اہداف کی تکمیل کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پشتونخوا وطن کے عوام کو درپیش سنگین اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے پارٹی کی احتجاجی تحریک اْس وقت تک جاری رہے گی جب تک عوام کے مسائل کا عملی اور منصفانہ حل نہیں نکالا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ استعماری طرزِ حکمرانی کے تحت پشتونخوا وطن، بالخصوص جنوبی پشتونخوا میں بجلی کے نظام کو دانستہ طور پر تباہ کرنے کا منظم منصوبہ بنایا گیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ پشتونخوا کے بیشتر علاقوں میں بجلی کے فیڈرز ختم کر کے تاریں اور ٹرانسفارمرز کیسکو نے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں، حالانکہ یہ تمام نظام اور سازوسامان عوام کی اجتماعی ملکیت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والی سستی بجلی کا بڑا حصہ پشتونخوا وطن کے دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے۔ صرف تربیلا ڈیم سالانہ تقریباً بیس ارب یونٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ مقررین نے یاد دلایا کہ خیبر کے تاریخی قومی جرگے نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پشتونخوا وطن کے عوام کو پانچ روپے فی یونٹ بجلی فراہم کرنا حکومت کی آئینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے، خصوصاً اس لیے کہ کشمیر کے عوام کو تین روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشتونخوا وطن کے شہروں اور قصبوں میں قائم ایف سی چیک پوسٹوں پر عوام کے ساتھ روا رکھا جانے والا ناروا سلوک، تذلیل، لوٹ مار اور ہراسانی ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکی ہے۔ بدامنی، رہزنی اور عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے پورے خطے میں ایک سنگین اور تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ان تمام عوام دشمن اقدامات کے خلاف پشتونخوا نیپ نے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے اور پارٹی پشتونخوا وطن کے تمام عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس تحریک میں بھرپور، منظم اور فعال شرکت کریں۔ مقررین نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں پشتون قومی سیاسی جماعتوں کا باہمی اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر مسلط استعماری حکمرانوں نے 18ویں آئینی ترمیم اور گزشتہ 78 برسوں میں قوموں اور عوام کو حاصل آئینی حقوق و اختیارات کو عملاً ختم کر کے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ملک پر ایک طرح کا دائمی مارشل لا نافذ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں آزاد عدلیہ ایک تابع اور کمزور ادارہ بن چکی ہے۔ ایسے سنگین حالات میں ملک کی تمام جمہوری اور سیاسی جماعتوں کا اولین فرض ہے کہ وہ قوموں کی برابری، خودمختاری، جمہوری فیڈریشن اور ایک نئے عمرانی معاہدے کے قیام کے لیے مشترکہ اور فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کریں۔ آخر میں مقررین نے کہا کہ افغانستان کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ طالبان ایک لویہ جرگہ کے ذریعے تمام افغان قوتوں پر مشتمل نمائندہ حکومت تشکیل دیں، آئین کی بحالی عمل میں لائیں، تمام انسانی حقوق بشمول خواتین کے حقوق کو یقینی بنائیں اور آزادانہ، شفاف انتخابات کے ذریعے ایک حقیقی نمائندہ افغان حکومت قائم کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں