اوورسیز کشمیریز کنونشن: معاشی شراکت داری کا اعلانِ نو، ترقی کے انقلاب کی بنیاد

تحریر:رشیداحمدنعیم
ایوانِ اقتدار کے در و دیوار اکثر فیصلوں کی بازگشت سننے کے عادی ہوتے ہیں مگر تاریخ کے کچھ لمحے ایسے بھی ہوتے ہیں جب فیصلے صرف فائلوں میں نہیں بنتے بلکہ فضا میں ایک نئی سمت کا اعلان کرتے ہیں۔ قومیں اسی وقت بدلتی ہیں جب وہ اپنی داخلی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے بیرونی امکانات کو گلے لگانے کا حوصلہ پیدا کرتی ہیں۔ آزاد کشمیر میں منعقد ہونے والا ”اوورسیز کشمیریز کنونشن“ اسی نوعیت کا ایک فیصلہ کن موڑ بن کر سامنے آیا۔ایک ایسا لمحہ جس نے یہ واضح پیغام دیا کہ ریاست اب ترسیلاتِ زر پر انحصار کرنے والی معیشت سے آگے بڑھ کر شراکت دارانہ ترقی کے ماڈل کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ یہ اجتماع محض رسمی تقریب نہیں تھا بلکہ ایک معاشی اعلانِ نو تھا۔ ایک ایسا اشارہ کہ اگر بیرونِ ملک بسنے والے کشمیریوں کی صلاحیت، سرمایہ اور تجربہ منظم انداز میں بروئے کار لایا جائے تو آزاد کشمیر کی معیشت میں حقیقی انقلاب برپا ہو سکتا ہے اور اس انقلاب کے ثمرات بالآخر عام آدمی تک پہنچ سکتے ہیں۔
تاریخ میں شاید پہلی بار اس وسعت کا کنونشن منعقد ہوا جس میں دنیا کے مختلف خطوں سے آئے اوورسیز کشمیریوں نے بھرپور شرکت کی۔ وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اسے تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اجتماع ریاست اور اس کے عالمی سفیروں کے درمیان عملی شراکت داری کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ اعتراف بذاتِ خود اہم تھا کہ بیرونِ ملک مقیم کشمیری صرف زرمبادلہ بھیجنے والے افراد نہیں بلکہ پالیسی سازی، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات میں فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب ریاست اپنے بکھرے ہوئے بیٹوں اور بیٹیوں کو عزت اور اعتماد کے ساتھ واپس دعوت دیتی ہے تو سرمایہ کاری صرف مالی عمل نہیں رہتی بلکہ جذباتی وابستگی اور عملی شرکت کا امتزاج بن جاتی ہے۔
کنونشن میں ”اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن“کی نمائندگی فاؤنڈیشن کے صدر سید قمر رضا نے کی اور بیرونِ ملک کمیونٹی کو درپیش مسائل اور سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔ وفاقی سطح پر انجینئر امیر مقام کی موجودگی نے اس پیغام کو تقویت دی کہ آزاد کشمیر کی معاشی پیش رفت وفاقی ہم آہنگی سے جڑی ہے۔ حریت رہنما غلام محمد صفی کی شرکت نے اس اجتماع کو نظریاتی وزن عطا کیاجبکہ کابینہ اراکین اور اعلیٰ حکام کی موجودگی نے یہ واضح کیا کہ یہ محض نمائشی تقریب نہیں بلکہ ریاستی عزم کا اجتماعی اظہار ہے۔ جب حکومت اور اپوزیشن دونوں کسی اقدام کی تائید کریں تو سرمایہ کار کے لیے یہ سب سے بڑی یقین دہانی ہوتی ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے گا۔
وزیراعظم کے خطاب کا مرکزی نکتہ اعتماد کی بحالی تھا۔ انہوں نے بیوروکریٹک رکاوٹوں، زمینوں کے تنازعات اور سرمایہ کاروں کو درپیش پیچیدگیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے روایتی طرزِ حکمرانی سے ہٹ کر فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا۔ رئیل اسٹیٹ اسپیشل کورٹس کے قیام اور نوے دن کے اندر فیصلوں کی پابندی کا اعلان دراصل اس سمت ایک عملی قدم تھا۔ سرمایہ کاری کی دنیا میں سب سے قیمتی اور اہم شے یقین اور وقت ہوتے ہیں اگر ریاست سرمایہ کار کو قانونی تحفظ، شفافیت اور تیز تر انصاف فراہم کر دے تو سرمایہ خود راستہ بنا لیتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر معاشی انقلاب کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس کنونشن کی اہمیت کئی جہتوں پر محیط ہے۔ اوورسیز کشمیری برسوں سے ترسیلاتِ زر کے ذریعے معیشت کو سہارا دیتے رہے ہیں مگر یہ سرمایہ زیادہ تر گھریلو استعمال یا غیر پیداواری شعبوں تک محدود رہا۔ اگر یہی سرمایہ صنعتی زونز، آئی ٹی پارکس، زرعی ویلیو ایڈیشن، معدنیات اور سیاحت میں منتقل ہو جائے تو معیشت کا ڈھانچہ یکسر بدل سکتا ہے۔ ون ونڈو آپریشن، لینڈ کمپیوٹرائزیشن، گریونس ریڈریسل پورٹل اور پرائیویٹ بورڈ آف انویسٹمنٹ جیسے اقدامات اسی سمت کی بنیاد ہیں۔ اگر ان پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہوا تو یہ اقدامات محض فائلوں کی زینت نہیں رہیں گے بلکہ کاروباری آسانی کے اشاریوں میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل معیشت کی طرف پیش رفت اس کنونشن کا سب سے روشن پہلو بن کر ابھری۔ آئی ٹی پارکس کے قیام، فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع، فری لانسنگ ہبز اور مصنوعی ذہانت کی تربیت جیسے منصوبے اس خطے کو روایتی سرکاری ملازمتوں پر انحصار سے نکال کر عالمی مارکیٹ سے جوڑ سکتے ہیں۔ پہاڑی جغرافیہ اب رکاوٹ نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں ایک غیر متعلق عنصر ہے۔ اگر ہزاروں نوجوانوں کو ریموٹ ورک، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور آن لائن سروسز کے ذریعے عالمی منڈی تک رسائی مل گئی تو یہ نہ صرف بے روزگاری کم کرے گا بلکہ زرمبادلہ میں اضافہ کرے گا۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس کے اثرات براہِ راست متوسط اور نچلے طبقے تک پہنچ سکتے ہیں۔
قدرتی وسائل کے شعبے میں بھی امکانات کم نہیں۔ ریئر ارتھ منرلز، جیم سٹونز اور ہائیڈل پاور کے منصوبے اگر شفاف پالیسی کے تحت آگے بڑھے تو ریاستی آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ جیم سٹونز کی ویلیو ایڈیشن، مقامی کٹنگ اور پالش انڈسٹری کے قیام سے روزگار کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اسی طرح چھوٹے اور درمیانے درجے کے ہائیڈل منصوبے توانائی کی خود کفالت کے ساتھ ساتھ صنعتی ترقی کو بھی مہمیز دے سکتے ہیں۔ جب ریاست اپنے وسائل کو منظم انداز میں استعمال کرتی ہے تو ترقی کا پہیہ تیز تر گھومنے لگتا ہے۔
سیاحت ایک اور کلیدی شعبہ ہے۔ اگر سسٹین ایبل ٹورازم کے اصولوں کو اپنایا جائے، انفراسٹرکچر بہتر کیا جائے اور مقامی کمیونٹی کو شراکت دار بنایا جائے تو آزاد کشمیر جنوبی ایشیا کا نمایاں سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔ ہوٹلز، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور خوراک کے شعبے میں سرگرمی بڑھے گی تو اس کے ثمرات دیہی آبادی تک پہنچیں گے۔ سیاحت کا پھیلاؤ دراصل آمدنی کی تقسیم کو وسیع کرتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں معاشی ترقی حقیقی معنوں میں عوامی خوشحالی میں ڈھلتی ہے۔
یہ کنونشن ایک نئے بیانیے کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ایسا بیانیہ جس میں جذباتی وابستگی کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کا عزم شامل ہے۔ مسئلہ کشمیر کے سیاسی مؤقف کو معاشی خود انحصاری کے ساتھ جوڑنا اس سوچ کا فطری تسلسل ہے۔ مضبوط معیشت ہی مضبوط آواز کو جنم دیتی ہے۔ اگر ریاست مالی طور پر مستحکم ہو، نوجوان بااختیار ہوں اور سرمایہ کاری کا ماحول سازگار ہو تو عالمی سطح پر اس کی پوزیشن بھی مستحکم ہوتی ہے۔
یقیناً چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں۔ بیوروکریسی کی رفتار، قانونی پیچیدگیاں اور سیاسی تسلسل وہ عوامل ہیں جو کسی بھی بڑے منصوبے کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتے ہیں مگر اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ اجتماع محض تقاریر تک محدود رہے گا یا اس کی بازگشت آنے والے برسوں میں صنعتی یونٹس، آئی ٹی پارکس، سیاحتی ریزورٹس اور شفاف عدالتی فیصلوں کی صورت میں سنائی دے گی؟ اگر ریاست نے اعلان کردہ اصلاحات پر مستقل مزاجی سے عمل کیا تو یہ کنونشن آزاد کشمیر کی معیشت میں حقیقی انقلاب کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
وہ انقلاب جو اعداد و شمار کی حد تک محدود نہ رہے بلکہ روزگار، کاروبار اور بنیادی سہولتوں کی بہتری کی شکل میں عام شہری کے دروازے تک پہنچے۔ وہ انقلاب جو نوجوان کو ہجرت کے خواب سے نکال کر اپنے ہی وطن میں مواقع فراہم کرے۔ وہ انقلاب جو اعتماد کو سرمایہ اور سرمایہ کو خوشحالی میں بدل دے۔ اگر یہ خواب تعبیر پا گیا تو آنے والی نسلیں اس کنونشن کو اس لمحے کے طور پر یاد رکھیں گی جب آزاد کشمیر نے اپنی تقدیر کو محض جغرافیہ نہیں بلکہ معاشی وقار اور خود اعتمادی کی بنیاد پر ازسرِ نو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں