صدر ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ کے بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے سفارتی وفود واشنگٹن پہنچ گئے اور اس تاریخی موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ تصویر بنوائیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افتتاحی خطاب میں فلیڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے۔
امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم انسان ہیں، انھوں نے جنگ رکوانے اور لاکھوں زندگیاں بچانے پر میری تعریف کی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو بھی میں بہت پسند کرتا ہوں۔ وہ بھی میری جنگ بندی کی مہمات کو سراہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے دنیا کی 8 جنگیں رکوائیں جن میں سے کچھ تو 34 سال سے جاری تھیں۔ اب 9 ویں جنگ بھی بہت جلد ختم کرائیں گے۔
ٹرمپ کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس خطاب کریں گے۔ ان کے بعد امریکا کے درجن سے زائد اعلیٰ حکام اور بورڈ آف پیس سے وابستہ سینئر نمائندے خطاب کریں گے۔
یہ اجلاس جنگ بندی کے بعد غزہ کے انتظامی و بحالی امور کی نگرانی کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ جس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی خصوصی دعوت پر شریک ہیں۔
اس کے بعد بورڈ آف پیس میں شامل مختلف ممالک کے ایک درجن سے زائد غیر ملکی رہنما بھی مختصر تقاریر کریں گے، جن میں غزہ کی بحالی، سیکیورٹی، انسانی امداد اور طویل المدتی استحکام سے متعلق اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کی جائیں گی۔
امریکی حکام کے مطابق بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد ایک ایسا بین الاقوامی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ہے جو امن، تعمیرِ نو اور انسانی امداد کو یقینی بنا سکے۔
تاہم اس امریکی اقدام پر عالمی سطح پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں اور بعض حلقے اس منصوبے کو متنازع بھی قرار دے رہے ہیں۔

