کوئٹہ(این این آئی)ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی بلوچستان زاہد سلیم نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جامع اور پائیدار سماجی خدمات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے مربوط حکمتِ عملی، شراکت داری اور مؤثر پالیسی سازی ناگزیر ہے وہ اسلام آباد میں منعقدہ پالیسی مشاورتی اجلاس بعنوان“بلوچستان میں جامع اور موسمیاتی و سماجی چیلنجز سے ہم آہنگ سماجی خدمات کی جانب پیش رفت”سے افتتاحی خطاب کر رہے تھے۔ یہ مشاورتی اجلاس محکمہ ترقیات و منصوبہ بندی حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام سرینا ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے تکنیکی معاونت فراہم کی زاہد سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کو جغرافیائی وسعت، موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور سماجی و معاشی چیلنجز جیسے مسائل کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، غذائیت اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں جامع اور دیرپا اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سماجی خدمات کو زیادہ شمولیتی، مساوی اور بحرانوں سے نمٹنے کے قابل بنایا جائے تاکہ صوبے کے ہر شہری، بالخصوص خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کو معیاری سہولیات میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی، بین الصوبائی و بین الاقوامی تعاون، اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مؤثر اشتراکِ عمل کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشاورتی اجلاس کا مقصد متعلقہ ماہرین، پالیسی سازوں اور ترقیاتی شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے ایسی قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنا ہے جو بلوچستان میں سماجی خدمات کے نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنا سکیں ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے یونیسیف کی تکنیکی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کرتے ہوئے بلوچستان میں بچوں اور کمزور طبقات کے لیے بہتر مواقع اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا مشاورتی اجلاس میں وفاقی و صوبائی حکام، ترقیاتی شراکت داروں، ماہرین تعلیم و صحت، اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی اور بلوچستان میں سماجی خدمات کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔

