واشنگٹن ڈی سی میں سکھ تنظیم سکھ فار جسٹس نے اعلان کیا ہے کہ وہ مجوزہ “بورڈ آف پیس” کے پہلے سرکاری اجلاس کے انعقاد کے لیے ایک بلین ڈالر فراہم کرے گی۔
یہ اعلان ایک بڑے اجتماع کے دوران کیا گیا جس میں امریکا بھر سے سکھ برادری کے سینکڑوں افراد شریک ہوئے۔
اجتماع میں مقررین نے خالصتان کے مطالبے کو ایک حل طلب سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا حل سفارتی اور جمہوری طریقے سے نکالا جانا چاہیے۔ مظاہرین نے زور دیا کہ پرامن ریفرنڈم کے ذریعے عوامی رائے معلوم کی جائے۔
تنظیم کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے دعویٰ کیا کہ خالصتان ریفرنڈم کی حمایت کرنے والے سکھ نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہزاروں افراد کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کشیدگی سے قبل ایک نگرانی شدہ اور پرامن ریفرنڈم کرایا جانا ضروری ہے۔
اجتماع کے شرکا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی قیادت سے بات کر کے بھارتی پنجاب میں امریکی محکمہ خارجہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کے انعقاد کی حمایت کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی سیاسی حلقوں میں خالصتان کے مطالبے کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔
ان کے مطابق اس طرح کی سرگرمیوں سے بھارت اور امریکہ کے تعلقات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم منتظمین کا مؤقف ہے کہ ان کا مقصد مسئلے کا پرامن اور جمہوری حل تلاش کرنا ہے۔

