رسول بخش رئیس
زبانوں اور زمانوں کا آپس میں ہمیشہ گہرا تعلق رہا ہے۔ زمانوں کا رنگ ڈھنگ اور تقاضے بدلتے ہیں تو فرد اور معاشروں کو بھی عصری ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا پڑتا ہے۔ جو ماضی میں یا آج کے دور میں‘ ہم آہنگ نہیں ہو سکے زمانہ انہیں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل جاتا ہے۔ زبانیں ایک جیسی نہیں رہتیں‘ ہر دور کا انسان ان میں اضافہ‘ ترامیم اور اصلاح کرتا رہتا ہے۔ زبانوں کی اپنی تاریخ‘ شناخت اور پہچان ہے۔ مغرب ہو یا مشرق خصوصاً دنیا کے اُن خطوں میں جہاں ریاستیں مضبوط ہوئیں‘ صنعتی ترقی ہوئی اور تعلیم اور ثقافت میں انقلاب آئے ‘وہاں نجانے کتنی زبانیں مٹ گئیں۔ یورپ اس کی بڑی مثال ہے جہاں قومیت کی بنیاد پر ایک غالب گروہ نے سیاست پر قبضہ جما کر اپنی زبان اور ثقافت تمام دیگر لسانی گروہوں پر مسلط کر دی۔ ایک قوم‘ ایک ثقافت اور ایک زبان صدیوں سے قومیت پرستوں کا نظریہ رہا ہے۔ جرمنی ہو یا فرانس‘ وہاں 300 سال پہلے ایک نہیں‘ درجنوں زبانیں بولی جاتی تھیں مگر شہروں کی آبادی اور صنعتی مراکز کی طرف عام لوگوں کی ہجرت اور بازار یا مارکیٹ کی زبان کے جبر نے آہستہ آہستہ بے شمار مادری زبانوں کو متروک کر دیا۔ ہر ملک میں تب قومی زبان کا سکہ چلتا تھا‘ تعلیم اور آگے بڑھنے کے مواقع صرف اس زبان میں تھے تو معاشی ضرورت نے لوگوں کو وہ زبان سیکھنے اور اپنے بچوں کو اس زبان میں ہی تعلیم دلانے کی طرف فطری طور پر راغب کیا۔ امریکہ میں گوری نسل کے قبضے سے پہلے ہر دیسی قبیلے کی اپنی زبان تھی۔ آج بہت کم لوگ وہاں رہ گئے ہیں جو ان زبانوں سے واقف ہیں۔ یہ کچھ باتیں پس منظر کے طور پر آپ کے گوش گزار کی ہیں۔ مقصد تو آج کل اپنے وطن میں علاقائی زبانوں اور قومی زبان اردو کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے۔ ہماری علاقائی زبانیں جنہیں ہم مادری زبانیں بھی کہتے ہیں‘ کو شمار کریں تو درجنوں میں ہیں۔ پنجابی اور سندھی کا تعلق کسی خاص نسل سے نہیں بلکہ قدیم جغرافیائی علاقے سے ہے۔ دونوں میں دریائوں اور پانیوں کا حوالہ قدیم زمانے سے ہے۔ بلوچستان میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں‘ یہی صورت خیبر پختونخوا کی ہے۔
ہمارے صوبے صدیوں بلکہ ہزارہا سال سے ایک جغرافیائی اکائی رہے ہیں۔ اگرچہ ان پر غالب قوتیں اندر کی ہوں یا باہر کی‘ وقت کے ساتھ مختلف رہی ہیں۔ اس لیے ہر دور میں لین دین‘ ہجرت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو کر رہائش اختیار کرنے اور اپنے آپ کو آباد کرنے پر کبھی کوئی پابندی نہ تھی۔ مغربی استعمار سے پہلے ایران‘ افغانستان‘ وسطی ایشیا اور عرب دنیا کے لوگ ہمارے خطوں میں آباد ہوتے رہے ہیں۔ اس وجہ سے یہاں زبانوں کا بھی اختلاف رہا ہے۔ اردو زبان کا ارتقا اسی میل جول اور مختلف زبانیں بولنے والوں کا چھائونیوں‘ شہروں اور فوجوں میں اکٹھے رہنے کی ضرورت کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ اور بحث ہے کہ اردو ہماری آزادی کی جدوجہد کے ساتھ ہماری قومی شناخت کا حصہ بن گئی۔ مگر مسلم اشرافیہ کی زبان فارسی رہی‘ اور پھر لکھنؤ‘ دکن‘ دلّی اور دیگر اردو کے مراکز کے شاعر‘ دانشور اور نثر نویس اتنا علمی اور ادبی ذخیرہ چھوڑ گئے ہیں کہ جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ بدقسمتی سے تقسیم ہند کے بعد وہاں اردو کے ساتھ جو سلوک ہوا اور جو کچھ آج کل ہو رہا ہے‘ اس پر اب ہم کیا کہیں۔ دس سال پہلے لکھنؤ اور اس سے قبل آگرہ اور علی گڑھ جانا ہوا تو اردو ہمیں کہیں نظر نہ آئی‘ البتہ بولنے والے ضرور ملے۔ جس گروہ کے پاس ریاست کی طاقت آ جائے وہ اسی کے سہارے اپنے ملک اور معاشرے کی ثقافتی ساخت تبدیل کر دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں زبانوں کی بقا کا بوجھ معاشی اور سیاسی کناروں پر دور دھکیلی گئی لسانی اقلیتیں نہیں اٹھا سکتیں۔
آج کل کے دور میں اب یہ ضروری نہیں کہ صرف ایک ہی زبان پر زور دیا جائے۔ چین اور جاپان جو اپنی زبان میں تعلیم دیتے ہیں اور اپنے ادب اور تاریخ پر فخر کرتے ہیں‘ وہاں انگریزی زبان سیکھنے کا جنون ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مغرب کے علمی خزانوں‘ جامعات اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی تک رسائی ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں‘ اپنے ملک میں آپ کسی بھی صوبے کے دیہات میں چلے جائیں‘ انگریزی میڈیم سکولوں کی خاصی تعداد نظر آئے گی۔ پنجاب کی حد تک تو وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ایسے نجی سکولوں میں بچوں کی تعداد سرکاری سکولوں سے کہیں زیادہ ہے۔ انگریزی دور سے لے کر آج تک انگریزی طاقت کی زبان ہے۔ سرکاری حکمنامے‘ عدالتی فیصلے‘ سرکاری ریکارڈ آج بھی اسی زبان میں ہے۔ آپ آج طاقت کی زبان اردو کو بنائیں‘ کل سے انگریزی میڈیم سکولوں کا نام ہر شہر میں تبدیل ہونا شروع ہو جائے گا۔ وہ کیسے ہو گا؟ سرکاری زبان اردو‘ مقابلے کے امتحان کی زبان اردو‘ عدالتی فیصلے اردو میں ہوں تو بہت کچھ شاید تبدیل ہو جائے۔ یہ صرف مثال دی جا رہی ہے‘ کوئی مطالبہ نہیں۔ اس طرح اگر آپ سندھی یا پنجابی کو طاقت کی زبان بنا دیں تو اشرافیہ اور ہر خاص وعام کا رجحان اس طرف ہو جائے گا۔ اردو کے حوالے سے یہ حقیقت تو اَب طے شدہ ہے کہ ملک کے ہر علاقے میں اگر بولی نہیں تو سمجھی ضرور جاتی ہے۔ اس میں ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ دینی مدارس‘ تعلیمی اداروں‘ اخبارات‘ فلم سازی اور ڈراموں کا بڑا کردار رہا ہے۔ اس پر آپ بحث کرتے رہیں گے کہ ہر منصوبہ بندی قومی ضرورت کے تابع تھی یا پھر قومی شناخت اور قومی ثقافت کے ارتقا کا فطری عمل۔ جس طرح اردو نے باقی علاقائی زبانوں کی چمک کو ماند کیا ہے‘ اسی طرح ہندی نے بھارت کے اندر یہ کام کر دکھایا ہے۔ کہنے کو تو انہوں نے ہندی کے ساتھ درجنوں دیگر زبانوں کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا ہوا ہے لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم بطور فرد اور معاشرہ کون سی زبان کو اپنا ذریعۂ اظہار بناتے ہیں۔
زبان‘ مذہب اور ثقافت فطری وسائل کی طرح ہوتے ہیں‘ جو انہیں اپنا لے یہ اس کے ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی درست نہیں کہ کوئی شخص صرف اپنی مادری زبان میں ہی تخلیق کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاں اردو تاریخی طور پر کسی ایک خطے کی زبان نہیں تھی۔ ہندوستان کے طول وعرض میں ہر مذہب کے لوگ یہ زبان بولتے اور اس میں لکھتے تھے۔ ہماری آزادی کے بعد سے اس کے پھیلائو میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب میں تو شاید آئندہ کچھ دہائیوں میں اکثریت کی زبان ہو جائے۔ میرے خیال میں پنجابی‘ سندھی اور سرائیکی اردو سے بہت ملتی جلتی ہیں۔ ان زبانوں کی ساخت‘ لغت خصوصاً فعلوں کے ماخذ ہندی اور سنسکرت سے ہیں۔ ہماری خواہش اور دعا تو یہی ہے کہ علاقائی زبانیں زندہ رہیں‘ ترقی کریں اور ان کے علمی اور ادبی ذخیرے بڑھیں‘ معاشی بازار کے تقاضے البتہ کچھ اور ہیں۔ بڑے بڑے شہروں میں لسانی یکسانیت کا ارتقا شروع ہو جاتا ہے جو نسلوں تک چلتا رہتا ہے۔ بچے بازار کی زبان سیکھتے اور بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ زبانیں مادری ہوں یا دیگر‘ صرف اس صورت میں محفوظ ہو سکتی ہیں جب ان کے بولنے والے ہوں‘ ان میں لکھی کتابیں خریدیں‘ پڑھیں اور ان میں لکھنے والے بھی ہوں۔ جس انداز‘ اور ایک تاریخی عمل سے اردو زبان کے علم وادب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے‘ وہ ہم نے دیگر علاقائی زبانوں میں نہیں دیکھا۔ آپ کسی بھی کتاب میلے میں جائیں‘ ہزاروں کتابوں کے مقابلے میں علاقائی زبانوں میں شاید چند کتابیں کہیں نظر آ جائیں۔ بدقسمتی سے سرائیکی اور پنجابی گھرانوں کی اکثریت اپنے بچوں کو اردو میں تعلیم وتربیت دینے کی طرف راغب ہے۔یہی کچھ بھارتی پنجاب کے ہندو گھرانوں نے کیا ہے‘ وہ بھی پنجابی کو ترک کر رہے ہیں۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ کون سی زبان رہے گی کون سی نہیں‘ مگر تاریخ صرف ہماری محدود زندگی کا دور نہیں ہوتا۔ زبانوں کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری ان کے بولنے والوں کی ہے۔ جب وہ انہیں ترک کر دیں تو سمجھیں کہ ان پر زوال آ گیا ہے۔
Load/Hide Comments

