تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)
آج کے دور میں، جہاں معاشی عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، ایک ایسا ادارہ جو لاکھوں محنت کشوں کے بڑھاپے کو سہارا دے سکے، اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔’ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن‘(EOBI)، جو جولائی 1976 میں پاکستان میں قائم کیا گیا، بالکل ایسا ہی ایک ادارہ ہے۔ یہ نہ صرف نجی شعبے کے ملازمین کے لیے ایک حفاظتی جال ہے بلکہ ان کی محنت کا حقیقی صلہ بھی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس کی اہمیت سے ناواقف ہیں، یا پھر اس کے فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کالم سانچ، اس ادارے کی تفصیلات، فوائد، مسائل اور عوام کے لیے ضروری اقدامات پر روشنی ڈالے گا، تاکہ ہر محنت کش اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکے اور ایک محفوظ مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکے۔(EOBI)کی بنیاد رکھنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ نجی شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ فراہم کیا جائے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سوشل سیکیورٹی کے نظام کمزور ہیں اور بہت سے لوگ غیر رسمی معیشت میں کام کرتے ہیں،(EOBI) ایک امید کی کرن ہے۔ یہ ادارہ’ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن‘ ایکٹ 1976 کے تحت کام کرتا ہے، جو تمام ایسے اداروں پر لاگو ہوتا ہے جہاں پانچ یا اس سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہوں۔ چاہے وہ فیکٹریاں ہوں، دکانیں، دفاتر یا چھوٹے کاروبار، آجر پر لازم ہے کہ وہ اپنے ادارے اور ملازمین کو(EOBI)میں رجسٹر کرے۔ یہ رجسٹریشن نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ ملازمین کے مستقبل کی ضمانت بھی۔(EOBI)کے تحت ملنے والے فوائد کئی قسم کے ہیں، جو ملازمین کی زندگی کے مختلف مراحل کو کور کرتے ہیں۔ سب سے اہم فائدہ ریٹائرمنٹ پنشن ہے۔ جب کوئی ملازم 60 سال کی عمر (مردوں کے لیے) یا 55 سال کی عمر (خواتین کے لیے) کو پہنچتا ہے اور کم از کم 15 سال کی کنٹری بیوشن ادا کی ہو تو وہ ماہانہ پنشن کا حقدار بنتا ہے۔ یہ پنشن ملازم کی آخری تنخواہ کے 40 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو بڑھاپے میں مالی آزادی فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر ملازم بیماری یا حادثے کی وجہ سے مستقل معذور ہو جائے تو اسے معذوری پنشن ملتی ہے۔ یہ پنشن بھی ملازم کی تنخواہ پر مبنی ہوتی ہے اور اس کی زندگی کو مزید تکلیف دہ نہیں ہونے دیتی۔ سب سے افسوسناک صورت حال ملازم کی موت کی ہوتی ہے، جہاں اس کے اہل خانہ کو سروائیور پنشن دی جاتی ہے۔ یہ پنشن بیوہ، بچوں یا والدین کو ملتی ہے، جو خاندان کو مالی بحران سے بچاتی ہے۔ ان فوائد کے علاوہ،(EOBI)نے حال ہی میں کچھ اضافی سہولیات بھی متعارف کروائی ہیں، جیسے طبی امداد اور دیگر ویلفیئر پروگرامز، جو ملازمین کی صحت اور خوشحالی کو یقینی بناتے ہیں۔کنٹری بیوشن کا نظام بھی انتہائی سادہ اور منصفانہ ہے۔ آجر ملازم کی تنخواہ کا 5 فیصد ادا کرتا ہے، جبکہ ملازم خود 1 فیصد کٹوتی کرتا ہے۔ یہ مجموعی طور پر 6 فیصد بنتا ہے، جو(EOBI)فنڈ میں جمع ہوتا ہے۔ یہ فنڈ سرمایہ کاری کے ذریعے بڑھتا ہے اور ملازمین کے فائدے میں استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک ملازم کی ماہانہ تنخواہ 50,000 روپے ہے تو آجر 2,500 روپے اور ملازم 500 روپے ادا کرتا ہے۔ یہ رقم بظاہر چھوٹی لگتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ ایک بڑا فنڈ بن جاتی ہے جو ریٹائرمنٹ کے وقت کام آتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کوئی خیرات نہیں، بلکہ ملازم کا قانونی حق ہے۔ قانون کے مطابق، اگر آجر کنٹری بیوشن ادا نہ کرے تو اسے جرمانہ اور سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ EOBI کی یہ خوبصورت تصویر ہمیشہ عملی طور پر نظر نہیں آتی۔ پاکستان میں لاکھوں ملازمین اس حق سے محروم ہیں۔ ایک بڑا مسئلہ رجسٹریشن کا ہے۔ بہت سے آجر، خاص طور پر چھوٹے کاروباروں کے مالکان، اپنے اداروں کو رجسٹر نہیں کرتے تاکہ لاگت بچا سکیں۔ نتیجتاً، ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی تو ہوتی ہے، لیکن فنڈ میں جمع نہیں ہوتی۔ ایک اندازے کے مطابق، پاکستان میں نجی شعبے کے تقریباً 70 فیصد ملازمین EOBI سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ اس کی وجہ کرپشن، عدم آگاہی اور کمزور نفاذ بھی ہے۔ مثال کے طور پر، کئی کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ آجر ملازمین کو کم تنخواہ دکھا کر کنٹری بیوشن کم ادا کرتے ہیں، یا پھر جعلی دستاویزات کے ذریعے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ایک اور سنگین مسئلہ پنشن کی ادائیگی میں تاخیر ہے۔ بہت سے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن شروع ہونے میں مہینوں لگ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ EOBI کے فنڈز کی سرمایہ کاری بھی تنازعات کا شکار رہی ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق، فنڈز کو ناقص سرمایہ کاریوں میں لگایا گیا، جس سے نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ، ادارے کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ EOBI کو مزید مضبوط بنائے، ڈیجیٹلائزیشن لائے اور نگرانی کا نظام بہتر کرے۔ حال ہی میں، EOBI نے آن لائن پورٹل متعارف کروایا ہے جہاں ملازمین اپنا اسٹیٹس چیک کر سکتے ہیں، لیکن یہ اب بھی محدود ہے اور بہت سے لوگوں کو اس کی خبر نہیں۔عوام میں آگاہی کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ بہت سے ملازمین، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، EOBI کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ وہ اپنی محنت کی کمائی کو بغیر کسی تحفظ کے گزار دیتے ہیں اور بڑھاپے میں غربت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ تعلیم یافتہ طبقہ بھی اکثر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ سانچ کے قارئین کرام!میڈیا، سوشل میڈیا اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس موضوع پر مہم چلائیں۔ مثال کے طور پر، ٹی وی پروگرامز، ورکشاپس اور آن لائن کورسز کے ذریعے لوگوں کو بتایا جائے کہ EOBI کیسے کام کرتا ہے اور اس سے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ایک عام ملازم کیا کر سکتا ہے؟ سب سے پہلے، اپنے آجر سے پوچھیں کہ آیا ادارہ EOBI میں رجسٹرڈ ہے۔ اگر نہیں، تو اسے رجسٹر کرانے کا مطالبہ کریں۔ دوسرا، EOBI کی ویب سائٹ پر جا کر اپنا CNIC نمبر درج کرکے اسٹیٹس چیک کریں۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو EOBI کے علاقائی دفاتر میں شکایت درج کروائیں۔ تیسرا، اپنے ساتھیوں اور خاندان والوں کو اس بارے میں بتائیں تاکہ آگاہی پھیلے۔ یاد رکھیں، یہ آپ کا حق ہے، اور اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد ضروری ہے۔حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ EOBI ایکٹ کو مزید سخت بنایا جائے، جرمانے بڑھائے جائیں اور نفاذ کے لیے خصوصی ٹیمیں بنائی جائیں۔ اس کے علاوہ، کنٹری بیوشن کی شرح کو مزید منصفانہ بنایا جا سکتا ہے، جیسے کم آمدنی والے ملازمین کے لیے سبسڈی۔ بین الاقوامی سطح پر، ممالک جیسے جرمنی اور سویڈن کے سوشل سیکیورٹی سسٹم سے سیکھا جا سکتا ہے، جہاں ریٹائرمنٹ فنڈز انتہائی موثر ہیں۔آخر میں، EOBI نہ صرف ملازمین کا مستقبل ہے بلکہ ملک کی معاشی استحکام کی بنیاد بھی۔ جب محنت کش مطمئن ہوں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ ہر پاکستانی کو چاہیے کہ وہ اس ادارے کی اہمیت کو سمجھے اور اسے استعمال کرے۔ اگر آپ نجی شعبے میں کام کر رہے ہیں تو آج ہی اپنا EOBI اسٹیٹس چیک کریں۔ یہ نہ صرف آپ کا حق ہے بلکہ آپ کی محنت کی قدر بھی۔ اللہ ہم سب کو محفوظ مستقبل عطا فرمائے٭

