بلوچستان میں 8لاکھ بوریاں گندم کا خراب ہونا محض انتظامی کوتاہی نہیں،کھلی مجرمانہ غفلت ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی مذمتی بیان میں وزیر خوراک کے بیان کو صوبے بھر میں جاری لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ لاکھ بوریاں گندم کا خراب ہونا محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ کھلی مجرمانہ غفلت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عوام آٹے کے ایک تھیلے کے لیے دربدر پھر رہے ہیں، قطاروں میں کھڑے ہو کر ذلت برداشت کر رہے ہیں اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، حکومت کی نااہلی نے قومی خزانے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔وزیر موصوف کا بیان حقائق سے نظریں چرانے اور اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے کی بھونڈی کوشش ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آٹھ لاکھ بوریاں گندم کسی آسمانی آفت سے نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی، بدانتظامی اور نااہلی کے باعث خراب ہوئیں۔ اگر ذخیرہ اندوزی، نگرانی اور ترسیل کا نظام درست ہوتا تو آج عوام کو مصنوعی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔یہ صرف گندم کا ضیاع نہیں بلکہ عوام کے حقِ زندگی پر ڈاکہ ہے اور یہ ظلم براہِ راست اس حکومت اور متعلقہ وزیر کے کھاتے میں جاتا ہے۔بیان میں مزید کہا کہ وزیر موصوف اس سنگین ناکامی پر اخلاقی اور انتظامی طور پر ذمہ دار ہیں۔ عوام کو دھوکہ دینے والے بیانات سے حقیقت نہیں بدلے گی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، وزیر مستعفی ہوں اور قوم کو بتایا جائے کہ قومی وسائل کو برباد کرنے والوں کا احتساب کب اور کیسے ہوگا۔عوام مزید خاموش نہیں رہیں گے یہ نااہلی نہیں چلے گی، یہ ظلم قبول نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں