عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے 1139کے قریب پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر

کوئٹہ(این این آئی) انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا کہ بلوچستان پولیس کے جوان پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امن و امان کو قائم رکھنے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے ابتک عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے 1139کے قریب پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جو کہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں سینٹرل پولیس آفس میں مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کوئٹہ کے زیر تربیت افسران کو دی گئی بریفنگ کے دوران کہی۔ اس موقع پر ڈائر یکٹر جنرل نیپا سید علی رضا شاہ، ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشنز آغا محمد یوسف، ایڈیشنل آئی جی پولیس ایڈمن جاوید علی مہر، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر حسن اسد علوی، ڈی آئی جی ٹیلی شاد ابن مسیح، اے آئی جی آپریشنز نوید عالم کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔ زیر تربیت افسران کو سی پی او آفس میں ڈیٹا کمانڈ اینڈ کمیونیکیشن سینٹر، لائبریری، میوزیم اور ڈے کیئر سینٹر کا معائنہ بھی کروایا گیا۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں بی ایریا اے ایریا میں ضم ہونے سے پہلے اصلاحات پر کام ہو رہا تھا لیکن اب ان پر مزید تیزی لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کو قائم رکھنے اور عوام کے تحفظ کے لئے گزشتہ سال جاری خصوصی مہم کے دوران 780 اشتہاری، 1466 مفرور اور 1404 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہیں جبکہ 26 مغویوں کو بھی بازیاب کرایا گیا ہیں۔ اعلیٰ مثالی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے رینجز اور اضلاع کے افسران کو تعریفی اسناد اور نقد انعام سے بھی نوازا جارہا ہے۔ جبکہ گرفتار اشتہاریوں اور مطلوب ملزمان کے جرائم کی فہرست کا تبادلہ دیگر صوبوں سے بھی کی جارہی ہے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ سیریس کرائم ونگ شعبے کے قیام سے پیچیدہ،مشکل اور نہ حل ہونے والے کیسوں میں ملوث ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ رینجز اور اضلاع میں کھلی کچہری کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے جس سے عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوا ہے اس کے علاوہ سینٹرل پولیس آفس میں قا ئم شکایا ت سیل ہیں اور آئی جی پولیس بلوچستان کے واٹس ایپ اور ٹول فری کے علاوہ دیگر نمبروں پر عوام کی شکایا ت درج کرکے اس کا فوری ازالہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک اور جرائم پیشہ عناصر کو مانیٹرنگ کے لئے سیف سٹی کیمروں سے مدد لی جاتی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج

اپنا تبصرہ بھیجیں