کوئٹہ(این این آئی) گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان ایران باہمی تعلقات کی ایک مضبوط اساس تجارت ہے۔ پاکستان بلوچستان کے راستے ایران سے منسلک ہے۔ خطے میں رونما ہونے والی معاشی و تجارتی تبدیلیوں کے پیش نظر یہی زمینی راستہ گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت کو 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں تعینات ایرانی قونصل جنرل محمد کریمی تودیشکی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایران قونصل جنرل محمد کریمی تودیشکی نے اپنی سفارتی اسناد پیش کیے جس پر گورنر بلوچستان نے امید ظاہر کی کہ آپ کی تعیناتی سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جغرافیہ کا بھی ملکوں کے تعلقات پر بہت اثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی ملک اپنا ہمسایہ نہیں بدل سکتا لیکن ہم اپنی مشترکہ پاک ایران سرحد کو اقتصادی ترقی اور باہمی فائدے کیلئے ضرور استعمال کر سکتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیکر ہم بلوچستان میں غربت اور بیروزگاری جیسے اہم مسائل پر بآسانی قابو پا سکتے ہیں اور اپنے لوگوں کا معیار زندگی بلند کر سکتے ہیں۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے سرحدی تجارت اور بارڈر مارکیٹس کے قیام کے حوالے سے ہمیں اپنے بنیادی ڈھانچے کو مزید وسیع اور جدید بنانے کی ضرورت ہے اور افراد قوت کے استعداد کار میں اضافہ کرنے سے تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔ مسلسل رابطے اور ملاقاتوں سے دیگر چھوٹے مسئلے بھی حل ہو جائیگے۔

