بلوچستان اسمبلی کے اراکین کا صوبے میں گیس پریشر میں کمی،بجلی مسائل حل نہ ہونے پرتشویش کااظہار

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی کے اراکین کا صوبے میں گیس پریشر میں کمی اور بجلی کے مسائل حل نہ ہونے پرتشویش کااظہار، اسپیکر نے ارکان کی نشاندہی پر سوئی گیس حکام کو طلب کرنے کی رولنگ دے دی۔پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ پسنی فش ہاربر عرصہ دراز سے غیر فعال ہے اس کے لیے انٹرنیشنل ڈونر نے فنڈز بھی دئیے لیکن تاحال اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، انہوں نے کہا کہ محکمہ فشریز کا عملہ پارلیمانی سیکرٹری فشریز کی بات بھی نہیں مانتا قانون کے محافظ خود ہی غیر قانونی ماہی گیری روکنے میں ناکام ہیں مقامی سطح پر غیر قانونی ماہی گیری کو روکا جائے۔ پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند نے مولانا ہدایت الرحمن کے کہنے پر ہی فشریز کے افسر کو تعینا ت کیا گیا ہے اس وقت پسنی میں دو مقامی گروہوں کے درمیان اختلافات ہیں ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ سندھی لانچ ڈرائیوروں کو تسلیم نہیں کرتے مولاناہدایت الرحمن دونوں گروپوں کے درمیان مسئلے کو حل کروائیں جس پر مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ مقامی یا غیر مقامی جو بھی غیر قانونی کام کرتا ہے اسے روکا جائے۔صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلید ی نے کہا کہ پسنی فش ہاربر سلٹ اپ ہوگیا ہے جائیکا کی جانب سے 80کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی ہے حکومت اس معاملے پر عالمی سطح کی کنسلٹنسی خدمات حاصل کر رہی ہے جبکہ مقامی ماہی گیروں کی تجاویز کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی سروے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پسنی فش ہاربر کو فعال کریگی۔انہوں نے کہا کہ چند فیکٹریوں نے ماہی گیر ی میں اجارہ داری قائم کر رکھی تھی ہم معاملے کو گفت و شنید سے حل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعصب پرست نہیں پاکستان کاہر شہری گوادر میں ماہی گیری کا حق رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماہی گیری ایکٹ میں ترمیم لائی جارہی ہے جس کے بعد غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں عوامی اہمیت کے حامل نکتے پر اظہار کر تے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری انجینئر مجید بادینی نے کہا کہ جعفر آباد، اوستہ محمد سمیت نصیر آباد ڈویژن میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر اور غیر اعلانیہ بندش جاری ہے اس حوالے سے سوئی گیس حکام کو طلب کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ نصیر آباد ڈویژن میں گیس کا مسئلہ سنگین تر ہوگیا ہے گیس حکام نے ہمیں بار بار یقین دہانی کروائی ہے لیکن اس کے باوجود مسئلہ جوں کا توں ہے واپڈا کے مسئلے پر کیسکو چیف بھی تسلیاں دیتے ہیں مگر مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ نصیر آباد ڈویژن کے لوگ صرف چولہے کے لیے گیس استعمال کرتے ہیں مگر وہ بھی میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلابوں کی وجہ سے متاثرہ گیس پائپ لائنز کی حالت ابتر ہوچکی ہے مگر انکی مرمت نہیں کی جارہی۔بجلی اور گیس کے مسائل کو حل کیا جائے۔ ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے کہا کہ گیس کا بے وقت جانا اور پریشر کم ہونا انسانی زندگی کے جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتا ہے لہذا اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے۔ جس پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ سیکرٹری اسمبلی اراکین سے مشاورت کے بعد مناسب وقت طے کر کے جی ایم سوئی گیس کو طلب کریں تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔جمعیت علماء اسلام کے رکن اصغر علی ترین نے کہا کہ دو ماہ قبل گیس،بجلی، ہوائی جہاز کے کرائے، کراچی میں بلوچستان کے لوگوں بلخصوص پشتونوں کو تنگ کرنے سمیت مسائل کو وزیراعظم اور سندھ حکام سے اٹھانے کے لیے کمیٹی قائم کی گئی تاہم آج تک اس کا دورہ نہیں ہوسکا۔جس پر اسپیکر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے تاحال دورہ کیوں نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی نے ایوان کو آگاہ کیا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے جیکب آباد، حب، کراچی میں ٹرانسپورٹرز سے بھتہ لینے اور بے جا تنگ کرنے کے معاملے پر بات کی تھی جس پر انہوں نے مسئلے کو دیکھنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ اسپیکر نے رولنگ دی کہ وہ ایک بار بھر وزیراعلیٰ سندھ سے اس معاملے پر رابطہ کر یں۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری اسفند یار کاکڑ نے کہا کہ پشین میں گیس ہے ہی نہیں البتہ بجلی کے ٹرانسفارمر تک اتارے جارہے ہیں ایکسیئن ایک ماہ میں ایک گھنٹہ بھی بجلی فراہم نہیں کرتے انہیں فوری طور پر تبدیل کیا جائے۔ جمعیت علماء اسلام کے رکن سید ظفر آغا نے کہا کہ کوئٹہ چمن شاہراہ بلیلی کے مقام پر سڑک کی توڑ پھوڑ، ٹول پلازہ کی تعمیر اور ٹریفک پولیس اہلکاروں کی کمی کی وجہ سے اکثر بند رہتی ہے جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ ایس ایس پی ٹریفک کو کہہ کر ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائے۔اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رکن میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ 19فروری کو پنجگور سے تعلق رکھنے والے سہیل شمبے زئی کو ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے کوئٹہ میں شہید کیا جس پر پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ایک ڈاکوکو ہلاک کیا اس دوران پولیس کے تین اہلکار بھی زخمی ہوئے میں اپنی جانب سے بروری تھانے کی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ساتھ ہی زخمی اہلکار کو ائیر ایمبولینس میں کراچی منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مکران ڈویژن میں اغواء برائے تاوان کاروبار بن گیا ہے پنجگور میں ہسپتال کے مالک شاہنواز کے اغواء کو تین ماہ ہوگئے ہیں اغواء کار مقامی نمبروں سے فون کر کے تاوان مانگ رہے ہیں یہ حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے معاملے کو سنجیدیگی سے لیکر اقدامات کیے جائیں۔صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ مکران میں آئے روز دہشتگردی، اغواء، ٹھیکیداروں سے بھتہ وصولی کے واقعات ہورہے ہیں سیکورٹی فورسز شاہنواز کی بازیابی کے لیے کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بیرونی اوراندونی عناصر امن وامان خراب کرنے میں ملوث ہیں حکومت صورتحال کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ اجلاس میں نقطہ عوامی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے کہا کہ ماشکیل زیروپوائنٹ بارڈر کو2سال گزرنے باوجود تاحال نہیں کھولا گیا وفاق بلوچستان کو اہمیت نہیں دیتا بلوچستان کے عوام قانونی روزگار کا حق مانگ رہے ہیں۔جس پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ وہ اس حوالے سے چیف کلیکٹر کسٹمز سے بات کریں گے۔ بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بدھ کی سہ پہر تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں