خورشید ندیم
اس معرکے میں پاکستان حق پر ہے‘ جیسے بھارت کے خلاف جنگ میں ہم حق پر تھے۔ مجھے اس بارے میں رتی برابر شبہ نہیں۔
پاکستان کا ایک مذہبی طبقہ افغان طالبان کے باب میں اسی مخمصے میں مبتلا ہے جس میں ایک دوسرا طبقہ ایران کی مذہبی حکومت کے بارے میں مبتلا ہے۔ جب ایران کے ساتھ معاملہ ہو تو یہ طبقہ دونوں اطراف سے تحمل کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب طالبان کے ساتھ معرکہ آرائی ہو تو دوسرا طبقہ یہی زبان بولتا ہے۔ پاکستان کے بارے میں دو ٹوک مؤقف اختیار کرنا ان کیلئے مشکل ہو جاتا ہے۔ نظریاتی و مسلکی رشتے اور قومی ریاست سے وابستگی میں یہ تضاد پرانا ہے۔ اس کا تجزیہ اس وقت مقصود نہیں۔ یہاں اس کا تذکرہ صرف یہ واضح کرنے کیلئے کیا ہے کہ ان گروہوں کے اس مخمصے کا سبب کیا ہے۔ افغان طالبان سے نظریاتی تعلق رکھنے والوں کو چاہیے کہ اپنی ان دو وابستگیوں میں فرق کو جانتے ہوئے اس قضیے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ چند نکات‘ اس باب میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔
1: افغانستان میں طالبان کا ظہور اس افغان جنگ کا تسلسل نہیں‘ ایک ردِ عمل ہے جو سوویت یونین کے خلاف لڑی گئی۔ اس جنگ کا ایک نتیجہ ان جنگجو گروہوں کے درمیان برپا ہونے والی خانہ جنگی تھی جو سوویت یونین کے انخلا کے بعد باہم دست و گریباں تھے۔ پاکستان اور دنیا بھی اس خانہ جنگی سے تنگ تھے۔ پہلے پاکستان اور پھر امریکہ سمیت دوسرے ممالک نے بھی طالبان کی پشت پر ہاتھ رکھ دیا۔ دنیا کی پشت بانی اس وقت ختم ہو گئی جب طالبان حکومت نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔ طالبان حکومت ختم ہو گئی۔ پاکستان اس حکومت کو تو نہ بچا سکا مگر اس نے طالبان کو بچا لیا۔
2: طالبان طویل عرصہ گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ اس دوران میں پاکستان ان کی حمایت کے الزام کی زد میں رہا اور اس نے اس کی بھاری قیمت ادا کی۔ یہ دور اس وقت تمام ہوا جب جنرل فیض حمید چائے کی پیالی کے ساتھ کابل کے انٹر کانٹیننٹل ہوٹل میں دیکھے گئے۔ طالبان ایک بار پھر کابل کے تخت پر قابض ہو گئے۔ پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد طالبان کا سیاسی وجود پاکستان کا مرہونِ منت ہے۔ میں یہاں اس پہلو سے بھی صرفِ نظر کرتا ہوں کہ پاکستان کی یہ حکمتِ عملی غلط تھی یا درست۔ یہاں اس کا ذکر بطور واقعہ کیا جا رہا ہے جس سے کسی کو انکار نہیں۔
3: اسی دوران میں تحریکِ طالبان پاکستان سامنے آئی جس نے اپنا سیاسی تعلق پاکستان کے بجائے افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ جوڑا۔ پاکستان کی سرحد کے اندر رہتے ہوئے‘ پاکستان کی خود مختاری کو قبول نہیں کیا اور ملا عمر کو اپنا امیر المومنین کہا۔ ٹی ٹی پی نے پاکستان میں افغان طالبان کی طر ح عسکریت پسندی سے برِ سر اقتدار آنے کیلئے جد وجہد کا آغاز کیا۔ یہ پاکستانی ریاست کے خلاف کھلی بغاوت تھی۔ کوئی ریاست بغاوت کو برداشت نہیں کر سکتی۔ پاکستان نے اس پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا۔ ٹی ٹی پی نے ریاستِ پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ شروع کر دی۔ گوریلا جنگ کے بارے میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ وہ ہمسایہ ملک کی حمایت کے بغیر نہیں لڑی جا سکتی۔ اس کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ واردات کرو اور دوسرے ملک کی سرحد کے اندر غائب ہو جاؤ۔ پہاڑی علاقہ ایسی جنگ کیلئے بہت سازگار ہوتا ہے۔ پہلے افغان مجاہدین اور پھر طالبان نے سوویت یونین اور نیٹو کے خلاف یہ جنگ اسی طرح لڑی۔ ٹی ٹی پی نے بھی یہی کیا۔ پاکستان کی سکیورٹی کے اداروں پر حملہ کیا اور افغانستان میں جا پناہ لی۔
4: پاکستان نے بار ہا طالبان حکومت سے یہ کہا کہ وہ اس گروہ کو روکیں کیونکہ وہ ملا عمر کی بیعت کیے ہوئے ہیں۔ وہ یہ عذر پیش کرتے رہے کہ یہ ہمارے کہے سنے میں نہیں۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں تو پھر آپ ان کو پناہ نہ دیں۔ اس کے جواب میں ان کا مؤقف ہمیشہ عذرِ لنگ ثابت ہوا۔ نہ انہوں نے ٹی ٹی پی کو روکا اور نہ ان سے اعلانِ برأت کیا۔ اس کے ناگزیر نتیجے کے طور پر باہمی تلخیاں بڑھنے لگیں۔ پاکستانی طالبان بدستور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے رہے۔ کچھ لوگوں نے یہ بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کی کہ دو نوں ایک نہیں ہیں۔ واقعات نے اس مؤقف کو ہمیشہ رد کیا۔ یہاں بھی طالبان نے وہی رویہ اپنایا جو انہوں نے اسامہ بن لادن کے خلاف اپنایا تھا۔
5: اس دوران میں پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات اور گفتگو سے معاملات کو سمجھانے کی پوری کوشش کی۔ ایک طرف ان سے ہمدردی رکھنے والے علما کو ان کے پاس بھیجا مگر وہ ان کی بات ماننے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب کی مساعی اس حوالے سے بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے۔ پاکستان نے ترکیہ‘ چین اور دوسرے مسلم ممالک کو بھی بطور ثالث ان مذاکرات میں شامل کیا مگر ان کی بھی نہیں سنی گئی۔ پاکستان کا مطالبہ سادہ اور انصاف پر مبنی تھا کہ افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ پاکستان کے عوام اور سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنانے والوں کو افغانستان میں پناہ نہ دی جائے۔ طالبان کو پاکستان سے کوئی شکایت نہیں تھی‘ شکایت پاکستان کو تھی۔ اس کے ازالے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی بلکہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھائی گئیں۔
6: افغان طالبان کے عہدِ اقتدار میں ٹی ٹی پی مسلسل ریاستِ پاکستان کے خلاف برسرِ پیکار رہی۔ پاکستانی فوج اور پولیس کے جوان شہید ہوتے رہے‘ عوام جاں بحق ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ رکنے کو نہیں آیا۔ پاکستان نے افغانستان کی حکومت کو بارہا متوجہ کیا کہ ہمارے لیے یہ واقعات ایک حد سے زیادہ قابلِ برداشت نہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی ایک نہیں سنی گئی۔ پاکستان کو مجبوراً ایک دو بار افغانستان میں خود کارروائی کرنا پڑی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود افغان علما نے پاکستان کے خلاف افغان سر زمین کے استعمال کو ناجائز قرار دے دیا۔ اس کے باوجود افغان حکومت ٹی ٹی پی کی پشت پناہی سے دستبردار نہیں ہوئی۔
7: اس سارے عرصے میں افغان طالبان نے زبانِ حال سے یہ بتایا کہ وہ مذہب کو دوستی کی بنیاد نہیں مانتے۔ وہ اسلامی بھائی چارے کے کسی تصور کو قبول نہیں کرتے۔ وہ سر تا پا قوم پرست ہیں۔ ان کاتصورِ اسلام مقامی کلچر کا چربہ ہے جو پدر سرانہ ہے۔ عورت کو وہ مکمل انسان نہیں سمجھتے۔ اسے مرد کی ملکیت قرار دیتے ہیں جو دیگر مویشیوں کی طرح مردوں کے بستر اورکام و دھن کی لذت کیلئے پیدا کی گئی ہے۔ یہ تصور اسلام کیلئے اجنبی ہے۔ یہ اس خطے کا کلچر تو ہو سکتا ہے‘ اسلام نہیں۔ پاکستان میں بسنے والے ان کے نظریاتی دوست بھی اس تعبیرِ دین کو درست نہیں سمجھتے۔
اگر پاکستان میں طالبان کے نظریاتی دوست ان نکات پر غیر جانبداری سے غور کریں تو وہ اس مخمصے سے نکل سکتے ہیں جو انہیں آج درپیش ہے۔ پاکستان طالبان کے خلاف جنگ میں حق بجانب ہے۔ وہ اس کاشرعی‘ قانونی اور اخلاقی جواز رکھتا ہے۔ ہمارے لیے راستہ یہی ہے کہ اس معرکے میں ہم اپنے نظمِ اجتماعی کے ساتھ کھڑے ہوں۔ قومی ریاستوں کے وجود سے اگر برسبیلِ تذکرہ صرفِ نظر کیا جائے اور اسے دو مسلمان گروہوں میں جنگ سمجھا جائے تو بھی اللہ کا حکم یہی ہے کہ جو زیادتی کا مرتکب ہو‘ اس کے خلاف جنگ کی جائے۔ مجھے رتی برابر شبہ نہیں کہ افغان طالبان زیاتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ پاکستان اس معرکے میں حق بجانب ہے۔ اہلِ پاکستان بالخصوص افغان طالبان کے نظریاتی دوستوں کو پوری یکسوئی کے ساتھ پاکستان اور پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے‘ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔
Load/Hide Comments

