سیکیورٹی خدشات، آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان ختم

اسلام آباد: آئی ایم ایف نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان کا دورہ قبل ازوقت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیاہے، اور اب 1.2 ارب ڈالرزکی اگلی قرض قسط کیلیے مذاکرات ترکیہ سے آن لائن جاری رکھے جائیں گے۔

آئی ایم ایف مشن نے کل صبح وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے پہلی ملاقات کی، جس کے فوراً بعد مشن نے پاکستان چھوڑدیا۔

اس پیش رفت سے ایک روزقبل امریکا نے پاکستان کیلیے لیول تھری سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کوسفر پر نظرثانی اور بڑے اجتماعات سے گریزکی ہدایت کی تھی، جبکہ بعض علاقوں کو لیول فورقرار دیکر سفرکیلیے ممنوع قراردیاگیا۔

آئی ایم ایف کے پاکستان میں نمائندہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مشن توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈسسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر حکام سے بات چیت کر رہا ہے، مذاکرات اب ورچوئل طریقے سے جاری رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق مشن 11مارچ تک پاکستان میں قیام پذیر تھا، تاہم خطے میں کشیدگی اور امریکی سفارتی تنصیبات کے باہرمظاہروں کے باعث سیکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہوگئی۔

امریکی سفارت خانے نے لاہور اورکراچی میں قونصل خانوں کے باہر مظاہروں اور اسلام آبادو پشاورمیں مزید احتجاج کی کالز کا ذکر کرتے ہوئے عملے کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔

افتتاحی اجلاس میں آئیوا پیٹرووا نے معاشی استحکام کیلیے پائیدار اصلاحات اور محصولات میں اضافے کی ضرورت پر زوردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشی نمو میں حالیہ بہتری خوش آئند ہے، تاہم اسے برقرار رکھنے کیلیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سماجی اخراجات بڑھانے کی اہمیت بھی اجاگر کی، مشن کی اچانک روانگی کے باعث خودمختار ویلتھ فنڈ میں ترامیم، ای پروکیورمنٹ کے نظام، احتسابی اداروں سے معلومات کے تبادلے اور سرکاری و عسکری ملکیتی کمپنیوں کودی جانیوالی مراعات کے خاتمے سے متعلق اجلاس منسوخ ہوگئے۔

فیڈرل بورڈآف ریونیوکی کارکردگی پر بھی اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ ادھرگلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک نے بیوروکریٹس کے غیر اعلانیہ اثاثوں کے معاملے پرآئی ایم ایف کے طریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں