محمد اظہارالحق
رشید امریکہ میں رہتا ہے۔ وہ لبنانی نژاد ہے۔ امریکہ میں اس کا کاروبار وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا بیٹا امریکی پولیس میں ملازم ہے اور بیٹی امریکی وزارتِ تعلیم میں کام کرتی ہے۔ شکیل کا تعلق پاکستان سے ہے۔ اسے برطانیہ میں مقیم ہوئے پچیس برس ہو چکے ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ سرکاری پوسٹ پر کام کر رہا ہے۔ بیٹا لندن کے ایک کالج میں لیکچرر ہے۔ بیٹی مانچسٹر میں وکالت کرتی ہے اور مقامی سیاست میں فعال ہے۔ سلیمان ترکی سے ہے اور آسٹریلیا میں رہ رہا ہے۔ بیس برس پہلے آکر اس نے شہریت حاصل کر لی۔ وہ ترکی سے سنگ مرمر درآمد کرتا ہے۔ اس کے بیٹے اسی کاروبار سے منسلک ہیں اور کامیاب ہیں۔ ان تین افراد کا آپس میں کوئی تعارف‘ کوئی تعلق نہیں۔ تینوں اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ تاہم تینوں میں دو قدریں مشترک ہیں۔ پہلی یہ کہ تینوں مسلمان ہیں۔ دوسری یہ کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل نے جو مشترکہ حملہ کیا ہے‘ جس کے نتیجے میں ایران کے لیڈر خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں‘ تینوں کو اس پر شدید رنج ہے۔ مگر خون کے گھونٹ پینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔
مسلمان‘ کسی مسلک کا ہو‘ کہیں بھی رہتا ہو‘ اسرائیل کا حامی نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایک پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن سے کسی احمق نے سوال کیا کہ وہ ایران کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: تو پھر کیا ہم اسرائیل کی حمایت کریں؟ بدنصیبی کی انتہا یہ ہے کہ مغربی ممالک کی بھاری اکثریت اسرائیل کی حامی ہے۔ دوسری طرف ان مغربی ممالک میں لاکھوں مسلمان مستقل طور پر مقیم ہیں۔ ہم نے اوپر تین ملکوں کا ذکر کیا ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ اور آسٹریلیا! امریکہ ایران پر حملہ آور ہوا ہے۔ برطانیہ اور آسٹریلیا کے وزرائے اعظم نے امریکہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ رشیدکی ہمدردیاں امریکہ کے مقابلے میں ایران کے ساتھ ہیں جبکہ امریکہ اب اس کا وطن ہے۔ امریکہ نے اسے شہریت دی ہے۔ اس کے بچوں کو ملازمتیں دی ہیں۔ اس کی یہاں جائداد ہے۔ وہ ایک اطمینان بخش‘ آرام دہ زندگی گزار رہا ہے۔ یہی حال شکیل اور سلیمان کا ہے۔ دونوں برطانیہ اور آسٹریلیا میں ایک آئیڈیل زندگی گزار رہے ہیں جبکہ دوسری طرف دونوں اسرائیل کے دشمن اور ایران کے حمایتی ہیں۔ مگر کچھ کر نہیں سکتے۔
2009ء میں صدر اوباما نے مصر کا دورہ کیا اور وہاں اپنی تقریر میں‘ امریکہ میں آباد مسلمانوں کی تعداد نو ملین بتائی۔ ان ملکوں میں مردم شماری کے کاغذات میں مذہب کا کالم نہیں ہوتا اس لیے درست تعداد معلوم نہیں کی جا سکتی۔ اگر 2009ء میں‘ یعنی سترہ سال پہلے‘ نوے لاکھ تھے تو اب ڈیڑھ کروڑ سے کم کیا ہوں گے! یورپ میں بھی مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ تو ہو گی۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ‘ دونوں ملکوں میں مسلمانوں کی آبادی دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ کل ملا کر یہ تعداد دو کروڑ بنتی ہے۔ پونے دو کروڑ کہہ لیجیے۔ اس میں کینیڈا‘ جنوبی کوریا‘ جاپان‘ تھائی لینڈ وغیرہ کی مسلم آبادی شامل نہیں۔ پھر اُن مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ لگائیے جو مسلم ملکوں سے ہجرت کر کے امریکہ‘ یورپ اور آسٹریلیا جانے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ شرقِ اوسط میں کام کرنے والے غیر عرب مسلمانوں کی اکثریت کی منزلِ مقصود بھی مغربی ممالک ہی ہیں! یہ صورتحال ایک دردناک پیراڈاکس (Paradox) ہے۔ ان مسلمانوں کی ہمدردیاں عراق‘ ایران‘ فلسطین کے ساتھ ہیں مگر زندگی وہاں گزار رہے ہیں جہاں حکومتیں (اور عوام کی اکثریت) مسلمانوں کی دشمن ہیں۔
اب سکے کا دوسرا رُخ دیکھیے۔ یہ لاکھوں کروڑوں مسلمان اپنے اپنے ملکوں کو چھوڑ کر مغربی ممالک میں کیوں جا بسے اور جو باقی ہیں وہ بھی ہجرت کرنے کی شدید خواہش کیوں رکھتے ہیں؟ اس لیے کہ مغربی سامراج نے پہلے تو مسلم ملکوں پر قبضہ کر کے ان ملکوں کو خوب لوٹا۔ سب کچھ سمیٹ کر لے گئے۔ صرف برصغیر کی مثال لیجیے۔ مغلوں کے عہدِ زوال میں بھی ہندوستان کی پیداوار پوری دنیا کی پیداوار کا پچیس فیصد تھا۔ 1947ء میں انگریز سامراج نے جان چھوڑی تو یہ پیداوار تین فیصد رہ گئی تھی۔ جو لوگ برطانیہ وغیرہ میں جا بسے‘ ان کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ اپنے اپنے ملکوں کی لوٹی ہوئی دولت کے تعاقب میں گئے۔ سامراج نے دوسرا ظلم شیطنت اور بدنیتی سے یہ کیا کہ مقبوضہ ملکوں کی آبادیوں میں نسلی‘ مذہبی اور قبائلی تفریق پیدا کر کے لوگوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنایا۔ پھر مڈل ایسٹ اور افریقہ میں لکیریں کھینچ کھینچ کر نئے ملک بنائے۔ نئے بارڈر ظہور پذیر ہوئے تو خوراک کی نقل وحرکت بند ہو گئی۔ یوں یہ نئے‘ مصنوعی ممالک‘ قحط کا شکار ہو گئے۔ آپ نے بارہا ان افریقیوں کی تصویریں دیکھی ہوں گی جن کی پسلیاں بھوک کی وجہ سے‘ دور سے گنی جا سکتی ہیں اور جو اُٹھ کر بیٹھ ہی نہیں سکتے۔ شرقِ اوسط کی ریاستوں کا وجود پہلے کہاں تھا؟ یہ بالشت بالشت بھر کی ریاستیں سامراج ہی کی پیدا کردہ ہیں۔ اور سامراج آج بھی یہاں اپنی فوجوں اور جہازوں کے ساتھ موجود ہے۔ ایک اور ملک جو اسرائیل کے پڑوس میں ہے اور بحیرہ مردار کے کنارے آباد ہے‘ پہلی جنگ عظیم کے بعد وجود میں لایا گیا۔ یہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرنے کا انعام تھا۔ روسی استعمار نے وسط ایشیا میں یہی کام کیا۔ مصنوعی قومیتوں کی بنیاد پر ترکستان کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ازبکستان میں سمرقند اور بخارا کے فارسی بولنے والے شہر ڈال دیے۔ تاجکستان اور کرغزستان میں بھی ایسے ہی اقدامات کیے۔
اسے تاریخ کی ستم ظریفی کہیے کہ آج امریکہ‘ برطانیہ اور آسٹریلیا اسرائیل کے ساتھ اعلانیہ کھڑے ہیں اور ایران کو کچلنے کے درپے ہیں۔ یورپ کے دیگر ممالک کی اکثریت بھی اعلانیہ‘ یا غیر اعلانیہ‘ امریکہ ہی کا ساتھ دے گی۔ ان ملکوں میں رہنے والے لاکھوں مسلمان اس اتحاد اور ایران دشمنی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کی بے بسی قابلِ رحم ہے اور انوکھی! کہ وہ انہی ملکوں کے شہری ہیں۔ اب معاملے کو ایک اور رخ سے دیکھیے۔ انقلاب برآمد کرنے کی ایرانی پالیسی نے دوست بنانے کے بجائے دشمن بنائے۔ دوسرے ملکوں میں ایرانی مداخلت نے عرب ریاستوں کو خوفزدہ کر دیا اور وہ عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہوئے۔ جنرل قاسم سلیمانی شہید کی ایک تقریر آج بھی میرے ذہن میں موجود ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایرانی انقلاب کو شمالی افریقہ تک لے کر جائیں گے۔ یمن‘ شام اور سعودی عرب میں بھی امن وامان کے مسائل پیدا کیے گئے۔ یوں ایران سیاسی تنہائی کا شکار ہو گیا۔ ایران دوست اور دشمن میں امتیاز بھی نہ کر سکا۔ اس کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہی رہا۔ یہ تو گزشتہ جنگ کے دوران ایران پر بھارت کی حقیقت کھلی جب بھارت نے ایران کی حمایت بالکل نہ کی اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے اسرائیل کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایران کی مکمل حمایت کی۔ ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ میں چند ہفتے پہلے ایک تقریب میں موجو د تھا جہاں عزت مآب ایرانی سفیر نے پاکستانی حمایت کا کھل کر ذکر کیا۔ اسرائیل کے حالیہ دورے میں جس طرح مودی اور نیتن یاہو نے شیروشکر ہونے کا مظاہرہ کیا اور جس طرح دو خباثتیں باہم مل گئیں‘ وہ ایران کے علاوہ عربوں کے لیے بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے بشرطیکہ عرب ریاستیں اس شیطانی گٹھ جوڑ کی سنگینی کو محسوس کریں۔
امریکہ اس وقت‘ ایک پیرِ تسمہ پا کی طرح‘ پوری دنیا کی گردن پر بالعموم اور عالمِ اسلام کی گردن پر بالخصوص سوار ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے حکمت اور تدبر کی ضرورت ہے۔ جوش کی نہیں‘ ہوش کی ضرورت ہے۔ یہ تنی ہوئی رسی پر چلنے والی بات ہے۔ جذباتی نعروں سے کچھ نہیں حاصل ہونے والا!
Load/Hide Comments

